تازہ ترین

کورونا کیسوں میں473کا اضافہ، متاثرین کی تعداد23927

سرینگر//جموں کشمیر میں جمعہ کو مزید473افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت پائے گئے اور اس طرح یہاں مہلک وائرس سے مبتلاءلوگوں کی تعداد23927تک پہنچ گئی ہے۔ آج ظاہر ہونے والے کورونا کیسوں میں52مسافر بھی شامل ہیں۔ وادی کشمیر سے آج345جبکہ جموں صوبے سے128کیس ظاہر ہوئے ہیں۔وادی میں ایک بار پھر سب سے زیادہ123کیس سرینگر میں سامنے آئے ہیں۔ نیوز ایجنسی جی این ایس کے مطابق بارہمولہ ضلع میں آج32،پلوامہ میں26،کولگام میں16،شوپیان میں8،اننت ناگ میں13،بڈگام میں24،کپوارہ میں28،بانڈی پورہ میں48،گاندربل میں27،جموں ضلع میں61،راجوری میں3،رام بن میں1،اُدھمپور میں23،کٹھوعہ میں9 ،سانبہ میں11،ڈوڈہ میں3،پونچھ میں1اور ریاسی ضلع میں16کیس سامنے آئے ہیں۔  

جموں و کشمیر میں کسی کے ساتھ بھید بھاونہیں برتا جائے گا: لیفٹیننٹ گورنر سنہا

سری نگر// جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے ” بھارتی آئین ہمارے لئے گیتا کا کام کرے گا اور ہم کسی سے کوئی بھید بھاو¿ روا نہیں رکھیں گے“۔ انہوں نے کہا” ہمارا کوئی مخصوص ایجنڈا نہیں ہے بلکہ آئینی اختیارات کو جموں و کشمیر کی بھلائی اور ترقی کے لئے استعمال کیا جائے گا“۔ موصوف لیفٹیننٹ گورنر نے ان باتوں کا اظہار جمعہ کے روز یہاں راج بھون میں اپنی حلف برداری کی تقریب کے حاشئے پر میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا”میں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہمارا کوئی مخصوص ایجنڈا نہیں ہے، کسی کے ساتھ کوئی بھید بھاو¿ نہیں کیا جائے گا بلکہ بھارتی آئین ہمارے لئے گیتا کا کام کرے گی“۔ کشمیر کو بھارت کی جنت قرار دیتے ہوئے موصوف لیفٹیننٹ گونر نے کہا”کشمیر بھارت کے لئے جنت کی حیثیت رکھتا ہے، مجھے یہاں اپن

کپوارہ میں کنٹرول لائن پر آر پار گولہ باری سے 6 عام شہری زخمی

سری نگر// ہندوستان اور پاکستان کی افوج کے درمیان بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول پر ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر گولہ باری یا فائرنگ کے تبادلے کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری ہے۔ جمعہ کو شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ کے کرناہ اور بارہمولہ کے بونیار سیکٹروں اور جموں کے ضلع پونچھ کے بالاکوٹ سیکٹر میں ایل او سی پر طرفین کے درمیان گولہ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں چھ عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔ فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیا کے مطابق ”کپوارہ کے ٹنگڈار سیکٹر میں پاکستانی فائرنگ سے6شہری زخمی ہوگئے“۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے شہری آبادی کی طرف مارٹر گولے داغے جس کا بھارتی افواج نے ”موثر“ جواب دیا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ کپوارہ کے کرناہ سیکٹر ٹنگڈار میں آج پاکستانی فوج نے بھارتی ٹھکانوں پر اندھا دھند گولہ باری کردی جس کے نتیجے میں پہلے تین اور بعد م

کرناہ سیکٹر میں آر پار گولہ باری سے 3شہری زخمی،سرینگر منتقل

سرینگر//ضلع کپوارہ کے کرناہ علاقے میں لائن آف کنٹرول پر جمعہ کوبھارت اور پاکستان کی افواج کے مابین شدیدگولہ باری کا سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں تین شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ مقامی ذرائع نے بتایاکہ آئے دنوں کی آر پار گولہ باری کے نتیجے میں لوگوں میں خوف و دہشت پیدا ہوئی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق آج صبح ساڑھے نو بجے کے قریب کرناہ علاقہ گن گرج سے دہل اٹھا۔فوجی ذرائع کے مطابق پاکستانی رینجرز نے سعدپورہ، دھنی، ہجترہ کے علاوہ سریاں کے اوپری علاقوں میں فوجی چوکیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جس کا بھارتی افواج نے بھرپور جواب دیا۔  گولہ باری کے نتیجے میں تین شہری زخمی ہوئے ہیں جن کی شناخت محمد عارف ساکن شمس پورہ،محمد یعقوب ساکن باغ بالا اور سید رفاقت ساکن کچاڈیاں کے طور ہوئی ہے۔ تینوں زخمیوں کو بہتر علاج و معالجہ کیلئے سرینگر منتقل کیا گیا ہے۔

شمالی کشمیر کے اُوڑی میں کنٹرول لائن پرہند۔پاک افواج کے مابین گولہ باری کا تبادلہ

سرینگر//شمالی کشمیر کے اُوڑی میں جمعہ کو کنٹرول لائن پر بھارت اور پاکستان کی افواج کے مابین گولہ باری کا تبادلہ ہوا۔ حکام نے کہا کہ پاکستانی افواج نے بونیار سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ کی اور بھارتی چوکیوں کا نشانہ بنایا۔ حکام نے مزید کہا کہ پاکستانی فائرنگ کا ”بھر پور“ جواب دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز نے مُہر کیمپ سے پاکستانی فائرنگ کا جواب دیا۔ اس واقعہ میں کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں آئی ہے۔

کورونا وائرس نے کشمیر میں مزید7افراد کی جان لی

سرینگر//کورونا وائرس کی وجہ سے جموں کشمیر میںجمعہ کو مزید7افراد جاں بحق ہوگئے۔ نیوز ایجنسی کے این او کے مطابق جو 7 افراد آج از جان ہوگئے اُن میں سوپور کی ایک60 سالہ خاتون، اونتی پورہ کا ایک55سالہ شہری،سرنل اننت ناگ کی ایک65سالہ خاتون،حول سرینگر کا ایک32سالہ شہری،ایچ ایم ٹی سرینگر کا ایک60سالہ شہری،ڈلگیٹ سرینگر کی ایک65سالہ خاتون اور حول سرینگر کا65سالہ شہری شامل ہیں۔ حکام کے مطابق یہ افراد مختلف اسپتالوں میں زیر علاج تھے۔  

کرناہ میں کنٹرول لائن پر آر پار گولہ باری سے ماحول خوفزدہ

سرینگر//ضلع کپوارہ کے کرناہ علاقے میں لائن آف کنٹرول پر جمعہ کوبھارت اور پاکستان کی افواج کے مابین ایک مرتبہ پھر گولہ باری کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔مقامی ذرائع نے بتایاکہ آئے دنوں کی آر پار گولہ باری کے نتیجے میں لوگوں میں خوف و دہشت پیدا ہوئی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق آج صبح ساڑھے نو بجے کے قریب کرناہ علاقہ گن گرج سے دہل اٹھا۔فوجی ذرائع کے مطابق پاکستانی رینجرز نے سعدپورہ، دھنی، ہجترہ کے علاوہ سریاں کے اوپری علاقوں میں فوجی چوکیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جس کا بھارتی افواج نے بھرپور جواب دیا۔  گولہ باری کے نتیجے میں ابھی تک کسی جانی یا مالی نقضان کی کوئی اطلاع نہیں ہے البتہ آخری اطلاعات ملنے تک آر پارگولہ باری کا سلسلہ جاری تھا۔

راج بھون کی کرسی نشینی میں محض 10ماہ بعد تبدیلی، منوج سنہا لیفٹیننٹ گورنرمقرر

سرینگر//صدر جمہوریہ ہند ،رام ناتھ کووند نے جموں وکشمیر کے پہلے لیفٹیننٹ گورنر گریش چندر مرموکے استعفیٰ کو منظور کرتے ہوئے اُنکی جگہ سابق مرکزی وزیر اور اْتر پردیش سے تعلق رکھنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر منوج سنہا کو جموں کشمیر کا نیا لیفٹیننٹ گورنر مقرر کیا  ہے۔جموں وکشمیر میں اپنی انتظامی ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل وہ آج بعد دوپہر ساڑھے 12بجے راج بھون سرینگر میں جموں کشمیر و لداخ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عہدے اور رازداری کا حلف لیں گے۔ نئے لیفٹیننٹ گور منوج سنہا صدر جمہوریہ سے ملنے کے بعد سرینگر پہنچ گئے اور ائر پورٹ پرچیف سیکریٹری اورپولیس سربراہ نے انکا استقبال کیا۔گریش چندر مرمو جموں وکشمیر کی تقسیم وتنظیم نو کے ایک سال مکمل ہونے کے موقعے پر اچانک مستعفی ہوگئے۔صدر ہند کے پریس سیکریٹری اجے کمار کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ جموں وکشمیر کے پہلے لیفٹیننٹ گور نر

مرمو کے استعفیٰ سے مشیروں کے اختیارات بھی ختم

جموں//جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کی حیثیت سے جی سی مرمو کے استعفیٰ کے بعد ان کے مشیروں کے اختیارات ختم ہوگئے ہیں۔مشیروں کے اختیارات کے حوالے سے  حکومت کی جانب سے کسی حکم کی عدم موجودگی میں سینئر عہدیداروں نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر مرمو کے استعفیٰ کے بعد مشیر بے اختیار ہوگئے ہیں۔ایک سینئر افسر نے بتایاکہ وہ(مشیر) لیفٹیننٹ گورنر مرمو کے مشیر تھے،جب لیفٹنٹ گورنراستعفیٰ دیتا ہے تو مشیر بے اختیار ہوجاتے ہیں۔تاہم حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی حکم جاری نہیں کیاگیاہے۔انہوں نے بتایا کہ جب تک دوبارہ تقرری نہ ہو تب تک ان کے اختیارات ختم ہیں۔انہوںنے بتایا کہ نئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کل سرینگر میں حلف لیں گے جس کے بعد ہی مشورے سے حکومت کی طرف سے مشیروں کے حوالے سے احکامات جاری کئے جاسکتے ہیں۔انتظامیہ کے اعلیٰ افسر نیمزیدبتایا’’نیا لیفٹنٹ گورنر ہی فیصلہ کرے گا کہ آیا

کورونا وائرس| نائب تحصیلدار سمیت 15فوت،کشمیر میں 400کا ہندسہ پار

 سرینگر //6اگست بروز جمعرات، جموں کشمیر میں نائب تحصیلدار سمیت مزید15افراد کورونا وائرس کی وجہ سے فوت ہوگئے۔ متوفین کی تعداد بڑھکر 441ہوگئی ہے جن میں 34جموں جبکہ کشمیر میںیہ تعداد 400کا ہندسہ پار کرکے 406ہوگئی ہے۔جمعرات کو مزید 499افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں۔ اسطرح متاثرین کی مجموعی تعداد 23ہزار کا ہندسہ پارکرکے 23454ہوگئی۔ ان میں 5273جموں جبکہ 18181افراد کشمیر میں متاثر ہوئے ہیں۔ نئے 499 کیسوں میں سے سب سے زیادہ 113سرینگر، 44بارہمولہ، 9پلوامہ، 20 کولگام، 8شوپیان، 73اننت ناگ، 52بڈگام، 17کپوارہ، 49بانڈی پورہ، 41گاندربل، 51جموں، 5راجوری، ایک رام بن، 6کٹھوعہ، 2ادھمپور، 5سانبہ، 1پونچھ  اور2کشتوارڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔  ۔ 15فوت جموں و کشمیر میں جمعرات کو مزید 15افراد کورونا وائرس کی وجہ سے فوت ہوگئے۔ ان میں 3سرینگر، 3پلوامہ،2کپوارہ، ایک بانڈی پورہ، ایک بارہمولہ ایک شوپی

جموں وکشمیر میں صدی کے آخر تک درجہ حرارت میں 7ڈگری اضافہ ہوگا

سرینگر //جموں وکشمیر میں موسم کے مزاج بدل رہے ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ صدی کے آخر تک درجہ حرارت میں 7ڈگری سلسیش کا اضافہ ہو نیکا امکان ہے جس کا اثرقدرتی نظام پر پڑ سکتا ۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ موسمی تبدیلی کے ساتھ 2سب کلائمٹ زون بھی ناپید ہو جائیں گے جس کا سب سے زیادہ اثر جموں وکشمیر پر پڑیگا ۔ جنگلات وماحولیات کی مرکزی وزارت کی جانب سے نیشنل مشن آن ہمالین سٹیڈیز کی تحقیق کے مطابق صدی کے آخر تک جموں وکشمیر میں موسمیاتی تبدیلی کے سبب درجہ حرارت میں 7ڈگری سلسیش کا اضافہ ہوگا۔ ماہرین کے مطابق لداخ خطہ کے ٹھنڈے صحرا (COLD DESERT)22فیصد تک سکڑ جائیں گے جبکہ2سب کلائمنٹ سطحیں اس صدے کے آخر تک مکمل طور پر ختم ہو جائیں گے ۔ کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ ارضیات کے سربراہ پروفیسر شکیل رامشو نے اپنی ایک تحقیق کے دوران موسمی تبدیلی کا جائزہ لینے کیلئے تین ماڈل کا استعمال کیا ہے ،جس میں

قاضی گنڈ میں48گھنٹوں کے دوران دوسرا واقعہ

اننت ناگ // جنوبی کشمیر میں مشتبہ جنگجوئوں کی جانب سے پنچایتی نمائندوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔دیوسر حلقہ انتخاب میں گذشتہ 48گھنٹوں کے دوران جنگجوئوں نے ایک اور پنچایتی نمائندے پر حملہ کرکے اُسے ہلاک کر دیا ۔ جمعرات کی صبح 9بجکر 10منٹ پر مشتبہ جنگجوئوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی  کے نائب ضلع صدر کولگام و سرپنچ سجاد احمد کھانڈے ولد علی محمد کھانڈے پر اُس وقت گولیاں چلائیں جب وہ اپنے گھر کے باہر کھڑا تھا ۔گولیاں سرپنچ کی چھاتی اور پیٹ میں جالگیں اور اسے فوری طور پرگورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ لایا گیا تاہم ڈاکٹروں نے اُ سے مردہ قرار دیا ۔حملے کے فوراََ بعد فوج اور پولیس نے علاقہ کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کی تاہم مقامی لوگوں کے مطاق حملہ آور جو کہ ممکنہ طور پر موٹر سائیکل پر سوار تھے، جائے واردات سے فرار ہونے میں کامیاب رہے ۔45سالہ مہلوک سرپنچ گذشتہ سال بی جے پی کی ٹک

کورونا وائرس کے 499نئے مثبت معاملات سے مجموعی تعداد 23454

سرینگر//حکومت نے جمعرات کو کہا کہ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے499نئے مثبت معاملات سامنے آئے ہیںجن میں سے426کا تعلق کشمیر صوبے سے اور 73کا تعلق جموں صوبے سے ہے اور اس طرح مثبت معاملات کی کل تعداد23454تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت کی طرف سے جاری بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ ابھی تک نوول کورونا وائرس کے23454معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سے7310 سرگرم معاملات ہیں ۔ اَب تک15708اَفراد صحتیاب ہوئے ہیں ۔ جموں وکشمیر میں کوروناوائرس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد426تک پہنچ گئی ،جن میں سے 395کا تعلق کشمیر صوبہ سے اور31کاتعلق جموں صوبہ سے ہےں۔ اِس دوران آج مزید464 شفایاب ہوئے ہیںجن میںجموں صوبے کے105اور کشمیر صوبے کے 359اَفراد شامل ہیں ، جن کو جموں و کشمیر کے مختلف ہسپتالوں سے رخصت کیا گیا۔ بلیٹن میں مزید کہا گیا ہے کہ اَب تک 686808ٹیسٹوں کے نتائج دستیاب ہوئے ہیں جن میں سے 06اگست

کشمیر میں سرگرم جنگجوﺅں کو ہتھیاروں کی کمی کا سامنا:پولیس سربراہ

سرینگر//جموں کشمیرپولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ کشمیر میں سرگرم جنگجوﺅں کو ہتھیاروں کی زبردست کمی کا سامنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دلباغ سنگھ نے کہا”یہاں سرگرم جنگجوﺅں کو ہتھیاروں کی سنگین کمی کا سامنا ہے“۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے اب جنگجوﺅں تک ہتھیار پہنچانے کا نیا طریقہ اپنایا ہے ۔دلباغ سنگھ کے مطابق پاکستان جنگجوﺅں تک ہتھیار پہنچانے کیلئے ڈرون قسم کے یو اے وی کام میں لارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت جموں کشمیر میں200سے کم جنگجو سرگرم ہیں اور اس سال محض26جنگجو دراندازی کرکے یہاں پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ دلباغ سنگھ کے مطابق بنا پائلٹ کے چلنے والی ہوائی گاڑیوں کے ذریعے جنگجوﺅں تک ہتھیار پہنچانے کے کئی واقعات ماضی قریب میں کپوارہ،ہیرا نگر،کٹھوعہ اور راجوری علاقوںمیں پیش آئے ہیں۔  

سی آر پی ایف اہلکار سمیت مزید3کورونا سے از جان،دن میں ابھی تک7ہلاکتیں

سرینگر//جموں کشمیر میں جمعرات کو مزید تین افراد کورونا وائرس کی وجہ سے جاں بحق ہوگئے۔اس سے قبل صبح چار افراد کی جان چلی گئی تھی اس طرح آج کورونا سے مرنے والوں کی تعداد7ہوگئی۔ نیوز ایجنسی کے این او کے مطابق آج مرنے والوں میں ایک سی آر پی ایف اہلکار بھی شامل ہے جو43ویں بٹالین سے وابستہ اور اُتر پردیش کا باشندہ تھا اور اس کی عمر50سال تھی۔اس کے علاوہ رسو بڈگام کا ایک65سالہ شہری اور پوتالی جموں کا ایک42سالہ شہری از جان ہونے والوں میں شامل ہیں۔ اس سے قبل آج صبح مولو چھترا گام شوپیان کا55سالہ شہری، نوگام سرینگر کا82سالہ شہری،ملہ باغ سرینگر کا80سالہ شہری اورہندوارہ کا68سالہ شہری انتقال کرگئے۔

ایک نائب تحصیلدار سمیت جموں کشمیر میں مزید4کورونا وائرس ہلاکتیں

سرینگر//وادی کشمیر میں جمعرات کو مزید چار افراد کورونا وائرس کی وجہ سے اپنی جاں گنوا بیٹھے۔ان میں ایک نائب تحصیلدار بھی شامل ہے۔ نیوز ایجنسی کے این او کے مطابق آج کورونا سے جاں بحق ہونے والوں میں مولو چھترا گام شوپیان کا55سالہ شہری، نوگام سرینگر کا82سالہ شہری،ملہ باغ سرینگر کا80سالہ شہری اورہندوارہ کا68سالہ شہری شامل ہیں۔ شوپیان کے جاں بحق شہری کے بارے میں حکام نے کہا کہ وہ محکمہ مال کا ایک سینئر آفیسر تھا اور اس وقت وہ نائب تحصیلدار وچی کے طور اپنے فرائض انجام دے رہا تھا۔

۔5اگست پر کرفیو جیسا سماں،وادی بھر میں سخت ترین بندشیں

سرینگر// آئین ہند میںجموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن قانون دفعہ 370 منسوخ کرنے اور سابق ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے مرکزی فیصلے کی پہلی برسی پر وادی میں دوسرے روز غیر اعلانیہ کرفیو جیسی بندشیں عائد رہیں۔ حکام نے اگرچہ منگل کی شب کرفیو ہٹانے کے احکامات دیئے تھے لیکن غیر سرکاری طور پر کرفیو جیسی صورتحال بدستور جاری رہی۔سخت ترین بدشو ں کی بدولت قاضی گنڈ سے کرناہ تک سڑکوں پر سناٹا چھایا رہا۔ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر بیشتر سیاسی جماعتوں کے دفاتروں بشمول گپکار روڑ کو سیل کیا گیا تھا۔ پہلی برسی کے موقعہ پر وادی کے شمال و جنوب میں بدھ کو سخت ترین بندشوں کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔غیر سرکاری طور پر کرفیو جیسی صورتحال رہی ،شہر اور وادی کے دیگر قصبوں میں کسی کو بھی نقل و حرکت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی،سڑکوں پر خاردار تاریں بچھا کر رکاوٹیں کھڑا کی گئیں تھیں،سبھی سڑکیں سیک تھی، لال چوک مکمل

ڈاکٹر فاروق کی گپکاررہائش گاہ سیل

سرینگر// حکام نے ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کی گپکار رہائش گاہ پر مین اسٹریم حزب اختلاف لیڈروں کا اہم اجلاس ناکام بنادیا کیونکہ شرکاء کو ڈاکٹر عبد اللہ کے گھر تک جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ڈاکٹرعبداللہ کی رہائش گاہ کی طرف جانے والی سڑک کو خار دار تاروں سے سیل کردیا گیا تھااور پولیس وفورسز اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی تھی ۔کانگریس ، سی پی آئی (ایم) ، پی ڈی پی ، جے کے پی ایم ، پی ڈی ایف سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کا اہم اجلاس منعقد ہونا تھا ، جو دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کے ایک سال بعد منعقد ہونے جارہا تھا۔تاہم اجلاس میں شرکت کرنے والے لیڈروںنے بتایا کہ انہیں نظربند رکھا گیا اور گھروں سے باہر جانے نہیں دیاگیا ۔ اس کے علاوہ مین اسٹریم جماعتوں کے پارٹی ہیڈ کوارٹروںکو بھی مکمل طور پر خاردار تاروں سے سیل کیا گیا تھا ۔فورسز اہلکاروں نے ڈاکٹر فاروق کی رہائش کی جانب کسی بھی فرد کو جانے ک

کورونا وائرس|بدھ کو9 کی موت ،559مثبت

سرینگر //جموں و کشمیر میں بدھ 5اگست کو مزید 9 افراد کورونا وائرس کی وجہ سے فوت ہوگئے۔  اس طرح ابتک متوفین کی تعداد  426ہوگئی  ہے جن میں سے 31جموں جبکہ 395افراد کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔بدھ کو کورونا وائرس متاثرین میں مزید 559افراد کا اضافہ بھی ہوا ہے اور متاثرین کی مجموعی تعداد22955پہنچ گئی ہے۔ ان میں سے 5200جموں جبکہ 17755 افراد کشمیر میں متاثر ہوئے ہیں۔ تازہ 559متاثرین میں سے 160 سرینگر، 29بارہمولہ، 105پلوامہ، 27کولگام، 7شوپیان، 7 اننت ناگ، 41 بڈگام، 2کپوارہ، 44بانڈی پورہ، 41 گاندربل، 61جموں، 5 راجوری، 8کٹھوعہ،12 ادھمپور، 5سانبہ، 3پونچھ اور 2 کشتواڑ سے تعلق رکھتے ہیں۔    9اموات  جموں و کشمیر میں بدھ کو مزید 9افراد کورونا وائرس سے موت کی آغوش میں چلے گئے۔ مرنے والوں میں سے 8کا تعلق کشمیر جبکہ ایک ادھمپور سے تعلق رکھتا ہے۔ کشمیر کے 8متوفین میں

مختلف محکموں کے انجینئرنگ شعبے ایک ہی چھت کے نیچے

سرینگر//حکومت نے مختلف محکموں کے انجینئرنگ ونگوں کو ایک ہی شعبہ کیساتھ منسلک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تاکہ تعمیراتی کاموں و پروجیکٹوں میں تیزی لانے کے ساتھ ساتھ میعار اور اخراجات کو اعتدال میں رکھا جاسکے۔ انتظامی کونسل نے لیفٹیننٹ گورنر جی سی مرمو کی سربراہی والی میٹنگ میں مختلف محکموں کی انجینئرنگ ونگو کے ڈھانچوں میں تبدیلی لانے کا غیر معمولی فیصلہ لیتے ہوئے محکمہ تعلیم،سیاحت،اعلیٰ و فنی تعلیم،باغبانی،زرعی پیدوار،افزائش جانور و ماہی گیری، پھولبانی، تواضع، ایسٹیٹس، آفات سماویٰ، جنگلات، ٹرانسپورٹ اور صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں انجینئرنگ شعبوں کو محکمہ تعمیرات عامہ میں یکم دسمبر2020سے ضم کرنے کی منظوری دی۔انتظامی کونسل نے فیصلہ لیتے ہوئے ہدایت دی کہ جو محکمے انجینئرنگ شعبوںکا استعمال کرتے ہیں،جنہیں ضم کیا جائیگا،کو تاہم اس بات کا اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کاموں کی نشاندہی اور انتظامی منظوری کو

تازہ ترین