تازہ ترین

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد3کروڑ16لاکھ ہوگئی،9لاکھ 70ہزار اموات

واشنگٹن / ریو دی جنیریو / نئی دہلی//دنیا بھر میں کورونا وائرس (کووڈ-19) کی عالمی وبا کی وجہ سے 3 کروڑ 12 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوچکے ہیں اور 9.63 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔جان ہاپکینس یونیورسٹی کے شعبہ سائنس وانجینئرنگ (سی ایس ایس ای) کی طرف سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق، کورونا وائرس سے دنیا بھر میں 31245797 افراد متاثر ہوئے ہیں اور جبکہ دنیا بھر کے ممالک میں 963693 افراد اس کی زد میں ہلاک ہوئے ہیں۔عالمی سپر پاور سمجھے جانے والے امریکہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 6856884 تک جا پہنچی ہے اور اب تک 199865 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود کی طرف سے منگل کے روز جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا وائرس کے 75083 نئے مریضوں کی تصدیق ہونے کے ساتھ ہندوستان میں متاثرین کی تعداد 55 لاکھ سے بڑھ کر 5562664

اس مرتبہ بھی سپریم کورٹ کی جج خاتون : ٹرمپ

واشنگٹن//امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ آئینی طور سے پابند ہیں کہ سپریم کورٹ کی جسٹس روتھ بیڈر گنس برگ کے انتقال کے بعد ان کے عہدے کو فوری طور سے پر کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔گنس برگ نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اپنی پوتی سے کہا تھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ملک میں صدارتی انتخابات ہونے تک ان کی کرسی خالی رہے ۔ ٹرمپ نے ممکنہ طور سے گنس برگ کی خواہش کے تناظر میں آئینی پابندی کی بات کہی ہے ۔ٹرمپ اوہیو کے ڈیٹان میں پیر کو اپنے حامیوں سے تبادلہ خیال کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ کو سپریم کورٹ کے امیدواروں کا اعلان ممکنہ طور سے کردیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ‘‘ اس عہدہ کی فہرست میں پانچ لوگ ہیں۔ جو اس عہدہ پر تعینات ہوگا وہ اہل ہوگا اور وہ ایک خاتون ہوگی۔’’میڈیا رپورٹوں کے مطابق ٹرمپ نے شکاگو میں جسٹس ایمی کونی باریٹ(48)سے ملاقات کی تھی۔گنس برگ کا جمعہ کو

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 75واں اجلاس شروع

نیو یارک//اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 75واں اجلاس منگل سے شروع ہوگیا اور پہلی مرتبہ یہ اجلاس ورچوئل ہو گا جس کے دوران بعض رہنماؤں کے پہلے سے ریکارڈ شدہ خطاب سنائے جائیں گے۔پیر کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75ویں اجلاس کے سلسلے میں تعارفی سیشن ہوا تاہم منگل سے باضابطہ طور پر مرکزی ایونٹس شروع ہو گئے جس کے دوران تمام 193 رکن ملکوں کے نمائندوں کی تقاریر ہوں گی۔جنرل اسمبلی کا اجلاس روایتی طور پر ملکوں کے درمیان دشمنیوں کے خاتمے، ایک دوسرے کی حمایت حاصل کرنے اور عالمی ترجیحات پر اظہارِ خیال کیلئے ایک پلیٹ فارم کا کردار ادا کرتا ہے۔رواں برس ہونے والا اجلاس چونکہ آن لائن ہے اس لیے اس پلیٹ فارم سے کرونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ اور اس کی روک تھام کے سلسلے میں اقدامات زیرِ غور آنے کا امکان ہے۔عالمی وبا سے دنیا بھر میں اب تک لگ بھگ نو لاکھ 60 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس وبا سے امر

انتخابات کے بعد ایران کے تئیں پالیسیوں میں تبدیلی کی امید نہیں:پومپیو

واشنگٹن//امریکہ کے وزیرخارجہ مائک پومپیو نے کہا ہے کہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد ملک کا ایران کے تئیں رخ اور پالیسیوں میں شاید ہی کوئی تبدیلی ہو۔وزارت خارجہ نے پیر کو کہا کہ مسٹر پومپیو نے ‘میڈیا لائن’کو دئے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی۔پومپیو نے کہا،‘‘ٹرمپ انتظامیہ کے کاموں سے متعلق امریکہ کو بے شمار حمایت حاصل ہے ۔مجھے پورے ملک سے کانگریس کے سیکڑوں ممبران کا خط ملا ہے ،جن میں سبھی نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ اس طرح سے کام کرے جس سے ایران اسلحہ خریدنے اور فروخت کرنے کی حالت میں نہ ہو۔ہم نے یہ کردکھایا ہے ۔اس لیے مجھے لگتا ہے کہ ہمیں دونوں سیاسی جماعتوں کی بے پناہ حمایت حاصل ہے ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ فرانس، جرمنی اور برطانیہ جیسے یورپی یونین کے ملک ایران پر امریکی پالیسی سے مطمئن ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ وہ بھلے ہی اسے عوامی پلیٹ فارم سے قبول نہ کریں۔ پ

روس کا ایران کیساتھ فوجی تعلقات کو فروغ دینے کا اعلان

ماسکو//روس نے اعلان کیا ہے کہ اگلے ماہ ایران پر اقوام متحدہ کے اسلحہ کی پابندی ختم ہونے کے بعد وہ تہران کے ساتھ فوجی تعاون کو فروغ دے گا۔روس کے نائب وزیر خارجہ سیرگئی ریاکوف نے انٹرفیکس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے ذریعے ایران پر عائد پابندیاں 18 اکتوبر کو ختم ہوں گی۔ اس کے بعد ایران کے ساتھ ہمارے تعاون میں نئے مواقع پیدا ہوں گے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کے ساتھ فوجی تعلقات قائم کریں گے۔دوسری جانب امریکا نے ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جانب سے عائد پابندی کا اطلاق کر رہا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے پیر کو 27 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں جن میں ایرانی وزارت دفاع کے اہلکار، ایٹمی سائنس دان، ایران کے جوہری توانائی تنظیم اور کاورباری افراد بھی شامل ہیں۔پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے امریکی وزیر