تازہ ترین

برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر پر بحث ملتوی

  سرینگر// کورونا وائرس کی عالمی وباء کے پیش نظربرطانوی پارلیمنٹ میںکشمیر کے حوالے سے قائم’ کل جماعتی پارلیمانی گروپ‘ کی طرف سے کشمیر پر بحث ملتوی کر دی گئی ہے۔ پارلیمنٹ نے گروپ کی چیئرپرسن ڈیبی ابراہم کی طرف سے پیش کی گئی تحریک منظور کرتے ہوئے اس پر بحث کیلئے 26مارچ کی تاریخ مقرر کی تھی۔پارلیمنٹری کشمیر گروپ کی چیئرپرسن ایم پی ڈیبی ابراہم اور جموں و کشمیر بین الاقوامی تحریک حق خود ارادیت کے سربراہ راجہ نجابت حسین نے ’ساوتھ ایشین وائر ‘کو بتایا کہ برطانوی پارلیمنٹ کورونا وائرس کے باعث21اپریل تک بند کر دیا گیا ہے جس وجہ سے یہ بحث بھی ملتوی ہو گئی ہے۔برطانوی پارلیمنٹ میں اس سے قبل بھی تین مرتبہ کشمیر کے حوالے سے بحث ہو چکی ہے جن میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے پر زور دیا گیا۔  

ایک دن میں 50 ہزار نئے مریض

 لندن //کرونا وائرس کے مریضوں اور اموات کی تعداد برق رفتاری سے بڑھ رہی ہے اور شہروں کو لاک ڈاؤن کرنے کے باوجود صورت حال میں بہتری دکھائی نہیں دے رہی۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دنیا بھر میں پہلی بار نئے کیسز کی تعداد 54 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے جب کہ مسلسل تیسرے دن دو ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔امریکہ میں مریضوں کی تعداد 82 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے جو چین سے بھی زیادہ ہے۔ برطانیہ میں پہلی بار ایک دن میں سو سے زیادہ اور فرانس میں پہلی بار تین سو زیادہ اموات ہوئی ہیں۔جان پاکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق جمعرات کو اٹلی میں 712 افراد ہلاک ہوئے اور 6203 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی۔ کل ہلاکتیں 8 ہزار اور مجموعی کیسز 80 ہزار سے زیادہ ہو گئے ہیں۔سپین میں 498 افراد ہلاک ہوئے اور 6682 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی۔ کل ہلاکتیں 4145 اور مجموعی کیسز 56 ہزار سے زیادہ ہو گئے ہیں۔ فرانس میں 365

جی 20 ممالک عالمی معیشت بچانے کیلئے5,000 ارب ڈالر دیں گے

ریاض// گزشتہ روز دنیا کے امیر ترین ممالک پر مشتمل گروپ ’’جی 20‘‘ کے ویڈیو اجلاس میں عالمی معیشت بچانے کیلیے 5,000 ارب ڈالر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔سعودی عرب کی سربراہی میں 90 منٹ جاری رہنے والے اس اجلاس میں یہ طے کیا گیا کہ ’’کووِڈ 19‘‘ کی عالمی وبا سے نبرد آزما ہونے کیلیے وہ سب کچھ کیا جائے جو ممکن ہے۔اجلاس کے بعد جی 20 کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلان میں کہا گیا ہے کہ یہ رقم طبّی ساز و سامان اور دواؤں کی بروقت اور بلاتعطل دستیابی کے علاوہ عالمی معیشت کو حالیہ بحران سے نکالنے میں استعمال کی جائے گی۔مشترکہ اعلان میں عالمی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ ترقی پذیر ممالک کیلیے اپنا موجودہ امدادی فنڈ 50 ارب ڈالر سے بڑھا کر دگنا کردیں۔خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، 2008 میں شروع ہونے والے عالمی معاشی بحران کے بعد یہ دو

برطانوی وزیراعظم وائرس کی زدمیں

لندن //برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن دنیابھر میں پھیل چکے مہلک کورونا وائرس ‘کووڈ۔19’سے متاثر پائے گئے ہیں ۔مسٹر بورس جانسن نے جمعہ کواپنے سرکاری ٹوئیٹر ہینڈل پر ایک ویڈیوجاری کرکے کہا،‘‘گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران مجھے کھانسی ،ہلکا بخار جیسے کورونا وائرس کی کچھ معمولی علامات محسوس ہورہی تھیں جس کے بعد میڈیکل افسر کی صلاح کے بعد میں نے اپنی جانچ کرائی جس میں کورونا سے متاثر پایاگیا۔’’انھوں نے کہا،‘‘ میں نے خود کو الگ تھلگ کرلیاہے لیکن ویڈیوکانفرنسنگ کے ذریعہ کورونا وائرس کے خلاف لڑائی میں حکومت کی قیادت کرتارہاہوں گا۔ ’’وزیراعظم نے کہاکہ کورونا وائرس سے جلد نجات مل جائیگی ۔انھوں نے کہاکہ وہ اس وائرس کے خلاف دن رات کام کررہے صفائی ملازمین ،ڈاکٹرز اور نرسوں کا شکریہ اداکرتے ہیں ۔