میں پُل ہوں !

افسانہ

تاریخ    26 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


پرویز مانوس
میں ایک پُل ہوں____!جی ہاں ایک پل __ وہی پل جو دریا کے دو کناروں کو ملاتا ہے ،وہی پل جو ہزاروں افراد کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے ، وہی پل جو کئی علاقوں کو ملاتا ہے ___ میں شہر کے بیچوں بیچ واقع ہوں____انسانی زندگی میں میری ضرورت اس وقت سے محسوس کی گئی جب انسان تہذیب یافتہ ہونے لگا اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ میری اہمیت بھی بڑھتی گئی ،آبادی کے لحاظ سے مجھے تعمیر کیا جانے لگا ،ویسے تو ہماری برادری پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے  اور انسانیت کی خدمت کرنے میں پیش پیش ہے۔ اس شہر میں بھی میرے بہت سارے رشتہ دار ہیں لیکن دور دور ہیں ، امیر خان جوان نامی افغان حاکم نے شائد اپنا نام زندہ رکھنے کے لئے مجھے استوار کیا، میرے نزدیک ہی "بڈ شاہ کدل" ہے  جو ہر وقت میرے سینے پر رونق دیکھ کر حسد سے میری جانب دیکھتا رہتا ہے ___ پہلے میرا وجود لکڑی کا تھا لیکن جدید تقاضوں کے مد نظر میری تجدید لوہے اور سیمینٹ سے ہوئی ____میں نے اس شہر کو کافی نزدیک سے دیکھا ہے اور اچھی طرح جانتا ہوں میں نے اس شہر کے بہت سے نشیب وفراز دیکھے ہیں ،میں نے اس شہر میں بونے سے لے کر دراز قد حکمران دیکھنے کے علاوہ طوطا چشم اور بے وفا سیاست دان بھی دیکھے _____میں نے عربی برقع میں لپٹی ہوئی خواتین بھی دیکھیں اور ٹخنوں تک لمبے پھرن میں ملبوس مرد حضرات بھی دیکھے اور ان کے پیروں میں گھاس کی جوتیوں سے لے کر چمڑے کے جوتے بھی دیکھے ہیں ___ میں نے ٹانگہ بھی دیکھا اور ٹیمپو بھی ___میں نے اس شہر میں آپسی بھائی چارے اور پیار محبت کی روایتیں بھی دیکھیں ، نفرت کے الائو بھی دیکھے ہیں، میرے وجود کے نیچے سے بہتے ہوئے جہلم کے صاف و شفاف پانی کو آلودہ ہوتے بھی دیکھا اور اس میں بے تقصیر انسانوں کے خون کی سرخ لکیر بھی دیکھیں۔آپ مجھے اس شہر کی دو نہیں بلکہ سو آنکھوں سے تعبیر کرسکتے ہیں ____ کیونکہ میں  لوگوں کی آنکھوں سے سب کچھ دیکھتا ہوں، میری یاداشت میں ایک ایک بات محفوظ ہے لیکن میں  بیان کرنے کی جرأت نہیں کر  پا رہا ہوں ،مجھے خوف ہے کہ حقیقت بیانی پر  کہیں میرا وجود ہی نہ مٹا دیا جائے اور میری جگہ کوئی بیلی برج نہ لے لے ،کیونکہ مجھے ان لوگوں کا خیال آتا ہے جو صبح سویرے گھر سے یہ امید لے کر نکلتے ہیں کہ شام کو ان کا عیال پیٹ بھر کر کھانا کھائے گا اور پھر ہر روز صبح میرے سینے پر سینکڑوں کی تعداد میں لوگ آکر  بیٹھ جاتے ہیں اور  اپنی روزی کماتے ہیں _____اس مچھیرن کی باتیں مجھے بہت اچھی لگتی ہیں جو اپنے مخصوص انداز میں  گاہکوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے _____لوگ  اس کی روایتی گالیوں سے بھی محظوظ ہوتے ہیں، جب تھکاوٹ دور کرنے کے لئے وہ حقے کے لمبے کش لگاکر دھواں فضا میں اُڑاتی ہے تو مجھے دیو آنند پر فلمایا گیا وہ نغمہ یاد آتا ہے" ہر فکر کو دھوئیں میں اُڑاتا چلا گیا" ____ مجھے اس ضیف العمر شخص پر رحم آتا ہے جسے اپنے سگے بیٹوں نے گھر سے نکال دیا ہے اور اب وہ  میرے سینے پر بے خوف بیٹھ کر ازار بند بیچ رہا ہے ،رات دن بیٹوں کے لئے نا جائز طریقے سے دولت کمانے والا رات ایک مسافر خانے میں کاٹتا ہے ____ مجھے اس معصوم بچے کا بھی خیال ہے جس کا باپ ایک ملٹری آپریشن کے دوران کراس فائرنگ میں جاں بحق ہوگیا۔اس طرح چھوٹی عمر میں ہی گھر کا سارا بار اس کے نازک کاندھوں پر آگیا اور اب  یہ اسکول جانے کے بجائے موزے اور پین بیچ کر اپنے گھر والوں کی کفالت کرتا ہے ____مجھے اس ننھی بچی کی صدائیں اکثر  تڑپاتی ہیں جس کی آنکھوں کی بینائی پیلٹ کے چھرے لگنے سے چلی گئی اور اب وہ بھی میرے سینے پر ہاتھ پھیلا کر گداگری کرتی ہے ،اسی لئے سب کچھ بیان کرنے سے قاصر ہوں ______، ویسے آپ سمجھدار ہیں ،کنائیوں کی زبان سمجھتے ہیں ____ پھر بھی اشارتاً بتاتا چلوں کہ میری ان گنہگار آنکھوں نے کیا کیا دیکھا ہے ___ میں نے  ماضی میں مختلف فکر کے سیاستدانوں کے جشن کے جلوس دیکھے۔ ایک دوسرے کے حق میں نعرے بازیاں دیکھیں___  احتجاجی مظاہرے دیکھے ____ گولیوں کی گن گرج سنی ____چلہ کلاں کی ٹھٹھرتی ٹھنڈ میں اپنی آغوش میں کئی معرکے دیکھے جن میں مجھے دونوں جانب سے بند کر دیا گیا ___ میں نے  آگ میں جلتے بازار  دیکھے ____  فلک بوس عمارتوں کی راکھ اڑتی دیکھی ___خون میں لت پت اجسام دیکھے ____  سب دیکھ کر میرا دل  بہت دکھی ہوتا _____ کیا ہوا__؟
" دل" لفظ سن کر آپ چونک کیوں گئے ؟ میرے سینے میں بھی ایک دل ہے جو آپ کو دکھائی نہیں دے گا کیونکہ آپ کے پاس وہ آنکھ ہی نہیں ہے ____میں بہت تلملایا ، بہت رویا ___میرے آنسو جہلم کے پانی میں تحلیل ہو گئے ____لیکن پچھلے کچھ عرصہ سے میں بہت زیادہ دکھی ہوں اور فکر مند بھی کیونکہ اس شہر کے لوگوں میں ایک نیا رحجان پیدا ہوگیا ہے گویا وہ اپنے مقصد سے بھٹک گئے ہیں، جس سے میری بہت  بدنامی ہوئی ہے ___ جب بھی کوئی عاشق محبت میں ناکام ہو جاتا ہے تو میرے سینے پر کھڑا ہوکر جہلم میں کود جاتا ہے _____جب بھی کوئی طالبہ یا طالب علم امتحان میں فیل  ہوجاتا ہے تو اپنی ناکامی کا ٹھیکرا میرے سر پر پھوڑ کر جہلم میں کود جاتا ہے اسی طرح کسی خاتون کو سسرال والے تنگ طلب کرتے ہیں تو وہ بھی جہلم کی آغوش میں سمانے کے لئے میرا ہی سہارا لیتی ہے ____کو ئی اعلی تعلیم یافتہ جب ملازمت کی دیوی سے بغلگیر نہ ہوسکے تو بدنامی کا داغ میرے ماتھے پر دھر جاتا ہے ______کسی  منشیات کے  عادی کی طلب جب پوری نہیں ہوتی تو مجھے گنہگار کر جاتا ہے _______،جب کوئی غریب باپ اپنی بیٹی کے لئے جہیز کی رقم جٹا نہیں پاتا تو مجھ سے پناہ مانگنے آ جاتا ہے ____ ایک روز تو میری آنکھوں نے دل دہلانے والا منظر دیکھا جب ایک برقع پوش دوشیزہ نے اس غرض سے جہلم میں کودنے کی کوشش کی کہ اس کے کسی سگے رشتہ دار نے اس کی عصمت کی چادر کو داغ دار کردیا اور اب وہ جینا نہیں چاہتی لیکن عین وقت پر وہاں امن و قانون کے رکھوالوں نے اسے کودنے سے بچا لیا اس نے اپنا آپ چھڑانے کی بہت کوشش کی لیکن انہوں نے اسے نہیں چھوڑا۔ اسی دوران وہاں لوگوں کی بھیڑ اکھٹی ہو گئی اور ان میں سے ایک نوجوان موبائل سے اس منظر کی ویڈیو بنانے میں مصروف تھا، جسے وہ یوٹیوب پر چڑھا کر پیسے کمانا چاہتا تھا ___  ہاتھا پائی میں جب دوشیزہ کا برقع اس کے چہرے سے سرک گیا تو ویڈیو بنانے والے نوجوان  کے چہرے پر ہوائیاں اُڑ نے لگیں ،اس نے آو دیکھا نہ تا فورا جنگلے پر چڑھ کر جہلم میں کود گیا ___ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ نوجوان  اس دوشیزہ کا بھائی تھا __ جس کی لاش سات روز بعد پرانے شہر کی آکری حد پر بنے باندھ ویر سے برآمد ہوئی۔ یہ واقعہ میرے ذہن پر کسی جونک کی مانند چپک کر رہ گیا ہے ____،ان سب کو روکنے کی میں بھر پور کوشش کرتا لیکن میں بے بس ہوں میرے ہاتھ وقت نے باندھ رکھے ہیں ___  نہ جانے یہ لوگ اس بات کو کیوں نہیں سمجھتے کہ ایک ناکامی کے بعد زندگی کا سفر ختم نہیں ہوجاتا بلکہ مزید جدوجہد کے لئے اکساتا ہے، انہں کوئی سمجھائے کہ یہ زندگی ایک ہی بار ملتی ہے اس کی قدر کرو ____گزشتہ تیس برسوں میں اتنا پریشان کبھی نہیں ہوا جتنا میں آج ہوں اور وہ بھی انسان کی وجہ سے آج مجھے اپنا وجود خطرے میں لگ رہا ہے۔ رات کے اندھیرے میں جب آپ سب آرام سے اپنے گرم گرم بستر میں سو جاتے ہیں میں یہی سوچتا رہتا ہوں کہ اگر واقعی میں مجھے فقط اس لئے مسمار کردیا گیا کہ سب ناکام لوگ یہاں سے کود کر اپنی جان دے دیتے ہیں تو ان لوگوں کا کیا ہوگا جو میرے سینے پر بیٹھ کر اپنی روزی کماتے ہیں اور اپنے عیال کی کفالت کرتے ہیں ___اب تو مجھے بھی ان کی عادت سی ہوگئی ہے جس روز ہڑتال ہوتی ہے میں خود کو اداس محسوس کرتا ہوں ،اب تو میں انھیں اپنی پسلیاں تصور کرتا ہوں ، لہذا اگر آپ چاہتے ہیں کہ ان لوگوں کی روزی نہ چھنے ____ بس یہی ایک فکر کھائے جارہی ہے ___ رات کا اندھیرا چھٹا تو نور کا سائبان تن گیا __ آج صبح سویرے میرے آس پاس پھر رونق لوٹ آئی ___ وہ دیکھئے وہ سامنے  ہاکر کی آواز گونج رہی ہے  " آج کی تازہ خبر ______آج کی تازہ خبر ____ایک بزرگ شخص  نے امیرا کدل پُل سے جہلم میں کود کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیا _________ لوگوں کا پُل کو بند کرنے کا مطالبہ ____،،
���
 نٹی پورہ سرینگر 
موبائل نمبر؛9622937142
 

تازہ ترین