خواتین معاشرہ کا لازمی حصہ

بچیوں کی ناخواندگی انتہائی نقصان دہ

تاریخ    23 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


سلمی راضی
 کوئی بھی معاشرہ یا سماج خواتین کی مداخلت اور شامل کئے بغیر ادھورا اور نا مکمل ہے۔اگرچہ قدرتی طور پر خواتین صنف نازک ہیں۔لیکن اس کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ خواتین ہر شعبہ میں کمزور اور ناتواں ہیں۔بلکہ بعض شعبوں میں خواتین مردوں سے بہتر اور فعال ہوتی ہیں۔ جس طرح مردوں کے لئے حقوق اور قوانین ہیں، اسی طرح خواتین کے بھی کچھ حقوق ہیں،ان کے لئے بھی کچھ قوانین ہیں۔ حقیقت میں کوئی بھی معاشرہ مرد و خواتین کی یکساں شراکت داری کے بغیر پروان نہیں چڑھ سکتا ہے۔معاشرہ کی تشکیل بھی مرد اورخواتین سے ہی ہوتی ہے۔مرد کما کر لانے کا حق دار ہے اور عورت اس کمائی کو اچھے طریقے سے خرچ کرنے کی۔مرد گھر کے باہر کے تمام کاموں کا ذمہ دار ہے اور عورت گھر کے اندر کے تمام کاموں کی۔مرد اپنے بچوں کے طعام و قیام کے سا تھ ساتھ تعلیم کے اخراجات کاذمہ دار ہے۔لیکن عورت اپنے بچوں کے تمام اندرونی انتظامات کھانے ،پینے صفائی کی بھی اخلاقی طورذمہ دار ہوتی ہے۔مرد مکان بناتا ہے اور عورت اس کو سجا کر رکھتی ہے۔مرد گھر میں ضرورت کا سامان لاتا ہے اور عورت اس کو سلیقے سے رکھتی ہے۔مرد کے ساتھ کوئی بھی مہمان آتا ہے عورت اس کی تواضع کرتی ہے۔مرد دن کاتھکا ہوا گھر میں داخل ہوتا ہےتو عورت اس کی دلجوئی کرتی ہے۔یہاں تک کہ دونوں میں سے اگر کوئی بھی بیمار پڑتا ہے تو دونوں کے باہم اتفاق اور اشتراق سے ہی مشکل ایام بھی گزرجاتے ہیں۔اس لئے مرد کو گھر سے باہر کا بادشاہ اور عورت کو گھر کی ملکہ کہا جائے تو کسی طرح سے غلط نہیں ہو گا۔ مگر یہ سب کچھ تعلیم سے ہی ممکن ہے۔تعلیم نہیں ہے تو نہ مرد اپنے حقوق سے باخبرہوتا ہے اور نہ ہی عورت اپنے حقوق سے واقف ہو گی۔اس لئے اشدضروری ہےکہ ہم اپنے معاشرہ اور سماج کی تشکیل کے لئے تعلیم کو ہر حال میں فوقیت دیں۔تعلیم سے ہی معاشرہ اور سماج میں سدھار اورخوشحالی آتی ہے۔
جموں کشمیر کا سرحدی ضلع پونچھ جہاں دیہی علاقوں میں ابھی بھی تعلیم کا قابل ذکر معیار نہیں ہے،البتہ کچھ حد تک تعلیم بعض علاقوں میں بہتر ہوئی ہے۔تاہم خواتین میں ابھی بھی تعلیم کا فقدان ہےاور بعض جگہوں پر تو تعلیم یافتہ والدین کی وجہ سے مردوں سے زیادہ خواتین میں بھی تعلیم کا معیارکسی حد تک بہتر ہے۔جس کی مثال ضلع پونچھ کے ایک تعلیم یافتہ شخص کی بالکل عیاں ہے۔ جو اگرچہ اب اس دنیا میں تو نہیں ہیںلیکن ان کےکارہائے نمایاںکافی عرصے تک یاد رکھے جائیں گے۔محمد بشیر بھٹی نامی اس شخص کے گھر میں چھ بیٹیاں  تھیں اور کوئی بیٹا نہیں تھا۔ انہوں نے اپنی بیٹیوں کو بیٹوں سے بھی زیادہ پیار دیا۔جس میں اس کی بیوی کا بھی بھرپور ساتھ رہا۔دونوں نے ہمت اور جرأت سے سبھی بیٹیوں کو تعلیم سے روشناس کروایا۔خود محکمہ صحت میں ملازمت حاصل کرنے کے بعد چیف میڈیکل آفیسر تک رسائی حاصل کرچکے تھے۔بچیوں کو تعلیم دیتے وقت یہ نہیں سوچا کہ ان کو تعلیم دے کر کیا کرنا ہے؟ تعلیم کے زیور سے آراستہ کیااور آج یہ چھ بیٹیاں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیںاور والد کی محنتوں ، شفقتوںاور محبتوں کی وجہ سے عوام کی خدمت بھی کر رہی ہیں۔ عزت سے زندگی بھی جی رہی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کو دوسروں کی خدمت اور ملک کی بیٹیوں کی تعلیم کیلئے مثال پیش کر ر ہی ہیں۔اسی طرح اگر ہم تعلیم کے  فقدان اور اس کی عدم دستیابی پر نَظر ڈالیںتو یہ ایک تشویش ناک مسئلہ ہے۔جبکہ یہ طے ہے کہ تعلیم روشنی ہے اور تعلیم کا نہ ہونا جہالت ہے۔اگرچہ دور حاضر میں خواتین میں علم کا رجحان بڑھ رہا ہے، شہرہی کیا، دیہی علاقوں میں بھی خواتین تعلیم کے میدان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔پھر بھی اس دورِجدید میں کچھ ایسے نرالے گھرانے مل جائیں گے جہاں بیٹیوں کی تعلیم کو لوگ باعث مصیبت اور بے فائدہ سمجھتے ہیں۔
ضلع پونچھ کے بلاک منڈی کے گاوں اڑاؔئی سے تعلق رکھنے والے ایک کنبہ اس کا جیتاجاگتا نمونہ ہے۔ عبدالرحمن نامی ایک شخص جسکی عمر 48سال ہےاور چھ بیٹیوں اور تین بیٹوں کا باپ ہے، ایک بیٹا جو پہلی بیوی سے ہے،کی عمر 24 سال کی ہو چکی ہے، دو بچوں کا باپ بھی بن چکا ہے۔دوسری بیوی سے چھ بیٹیاں اور دو چھوٹے بیٹے ہیں۔اس شحص نے اپنی پانچ بیٹیوں کو تعلیم دلانے کے بجائے سات یا آٹھ سال کی عمر میں ہی انہیں دوسروں کے گھروں میں نوکر بناکر رکھ دیا ہے۔جہاں ان بچیوں کوگھر کی صاف صفائی ، برتن منجائی،جھاڑو پوچا وغیرہ کے لئے معموررکھا۔کم عمر میں ہی یکے بعد تین لڑکیوں کی شادی کروا دی گئی ہےاور دو ابھی بھی نوکرانی کا کام کر رہی ہیں۔ستم یہ کہ جس باپ کے گھر میں جنم لیا تھا ،اس کے گھر میں ان بچیوں نے بس لڑکپن کے پانچ یا چھ سال ہی گزارے ہوں گے۔کیاایسے معاملات جہالت کے دائرہ میں نہیں آتے ہیںاور سب سے بڑی جہالت تو تعلیم سے دوری اور بے رغبتی ہے۔ان بچوں کے مان باپ اَن پڑھ تھے اور بچیاں پیدائش کے بعد ہی دوسروں کی غلام بن کر اپنی بلوغت تک بھی نہ پہونچی تھیں کہ شادی کے بندھن میں باندھ دی گئیں۔اب یہ لڑکیاں مشکل میں ہوں، مصیبت میں ہیں، خوشحال ہیں یاپھر پریشان حال۔اس سے کسی کو کچھ سروکار نہیں ہے۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ان بیٹیوں کے لئے ملک میں انصاف کا کوئی قانون نہیں تھا؟ ایک آدمی اگر اپنی کم علمی سے اپنی بیٹیوں سے اس طرح کا برتاؤ کرتا ہے تو سماج کے ذمہ داران کا اس میں کوئی رول نہیں تھا؟ اس طرح کی کتنی بچیاں جنم سے جوانی تک غلامی میں اپنی نازک زندگی گزارتی ہوں گی؟ اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو اب بھی ہزاورں بچیاں ماں باپ ہوتے ہوئے یتیموں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ سرکار کی جانب سے جو قوانین مرتب کئے گئے ہیں اُن سے ان کادور دور تک کوئی واستہ نہیں ہے۔معلوم ہوا کہ جہاں تعلیم نہیں ،وہاں جہالت کے عالم میں اسی طرح کے ناقابل تلافی گناہ ہوتے رہتے ہیں۔اس افسوس ناک امر سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ آج تک جو کچھ ہوا ،وہ آگے نہ ہونا چاہئے۔اس لئے’’ بیٹی بچاؤ اور بیٹی پڑھاؤ‘‘ کے سرکار کے نعرہ کو محض کاغذوں، سڑکوں،پارکوں، دفتروں اور شہروں میں لگے پوسٹروں تک ہی محدود نہ رکھیں بلکہ اس نعرے کو حقیقت کا جامہ پہنائیں۔ساتھ ہی دیہی علاقوں میں معصوم بیٹیوں کو بچپن کی غلامی کی زندگی سے نجات دلانے کے لیے کمرستہ ہو جائیں۔کیونکہ اس طرح کے واقعات جاری رہنے سے ملک کے وقار پر دھبہ لگ سکتا ہے۔تعلیم کے فقدان کو دور کرنے اور اسے گھر گھر تک پہنچانے سےہی ملک ترقی کی تمام منزلیں طے کرسکتا ہے۔اس لئےدور دراز علاقوں یا کئی دیہات میں ابھی تک تعلیم کا فقدان کیوں برقرار ہے۔اس سوال کا جواب سنجیدگی کے ساتھ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔خصوصاًسماج کو یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہئےکہ خواتین کا تعلیم یافتہ ہونا نہایت ضروری ہے کیوں کہ خواتین معاشرے کا انتہائی اہم اور لازمی حصہ ہیں۔ اگر وہ تعلیم یافتہ نہیں ہوگی تو آنے والی نسلیں اَن پڑھ رہ جائیں گی۔ کیا ہم ایسے معاشرے کو قبول کرناگوارا کریں گے؟
(منڈی پونچھ)

تازہ ترین