نظمیں

تاریخ    19 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


موسموں کے بدلتے تہوار

 
دکھ سُکھ موسموں کے تہوار ہیں
جو ہمارے جسم و جاں کی گلیوں میں منائے جاتے ہیں
کوئی موسم سبز پتوں کے اوراق لے کر آتا ہے
تو ہماری پلکوں پہ لفظوں کے شگوفے کھلتے ہیں
موسم  پیاسے دہشت  پہ بارش چھڑکتا  ہے
تو ہم آنسؤں  کی جگہ شبنم کے قطرے لکھ دیتے ہیں
نرم دھوپ کو چھو کر دھیمی ہوائیں چلتی ہیں 
تو ہم آہوں کو دعاؤں میں رنگ دیتے ہیں 
موسم بدلتے رہتے ہیں اپنے تہواروں کے ساتھ 
میری نظموں کے لڑ کھڑاتے راستوں کی طرح 
ابر کی  گھنی وادیوں پہ نئے آسمان کُھلتے ہیں 
بجلی چمکتی ہے
تو کسی بچے کی گڑیا ٹوٹ جاتی ہے
روشنی کے تھرکتے  پیروں تلے
یوں میری نظموں میں شگاف پڑتے ہیں۔
پھر خزاں کا تہوار آ ٹپکتا ہے
عریاں موسم کا جشن منانے ہم سب چلتے ہیں
نئے موسم کے کھلیان میں
میں نے کھڑکیوں کے پردے گرا دئے
جھانکتا رہتا ہوں کب برف کی چادر اُترے گی
میں اپنی عریاں نظمیں  ڈھانپ لوں
دکھ سُکھ موسموں کے تہوار ہوتے ہیں
آؤ ہم سب مل جل کر مناتے رہیں ۔
 
علی شیدؔا
 نجدون نیپورہ اسلام آباد،  
موبائل  نمبر؛9419045087
 

ڈر  

تمام ممکنات سب راستے
سبھی ارادے سارے واسطے
بکھر رہے ہیں
اور میں سمٹا دیکھ رہا ہوں
کہ عمرِ دراز سکڑ رہی ہے
دور افق کی تاریکی میں 
کوئی تصویر ابھر رہی ہے
میرے وہم میں اُتر رہا ہے  
کہ یہی وہ تصویر تو نہیں ہے!
 
میرے ضعف میں بکھر رہے ہیں
جواب بن کر سوال کتنے
محال اب تو بن رہے ہیں
کل کے شوقِ کمال کتنے
 
مجھے بتا دو یہ حال کیا ہے
یہ خوف اور یہ سوال کیا ہے
کیا یہ حقیقت چھا رہی ہے
یا عمر ہے رنگ دکھا رہی ہے
یا ندا یہ میری ہار کی ہے
جو دنیا کو یہ بتا رہی ہے
 
کہ وہ بھی خوابوں سے ڈر گیا ہے
تھا اک فیصلؔ جو مر گیا ہے
 
شہزادہ فیصل
ڈوگری پورہ، پلوامہ،8492838989
 

بوڑھاپا۔اُف بوڑھاپا

بُڑھاپا ہے اِک عتاب یارو!
عتاب کیا، سو عذاب یارو!
گزرتا بے چینیوں میں  ہے دن
نہ نیند شب کو نہ خواب یارو
حسین بچپن کی مست یادیں
ہر اِک سے مانگیں جواب یارو
چلیں قدم دو قدم تو یکدم
یہ گٹھنے دینگے جواب یارو
سُنی کو کرتے ہیں اَن سنی سب
کہ میں ہوں خانہ خراب یارو!
  نظر میں بھی اب فتورآئے 
بجتے ہیں کانوں میں رباب یارو!
سوال اُلٹا کرے اُدھر سے
میں کس سے مانگوں جواب یارو!
کھنکتی ہڈیاں ہیں چوڑیاں جوں
ہیں جوڑ کیسے مضراب یارو
لرزتی ٹانگیں تھراتے ہیں ہاتھ
ہے ڈھیلی ہر اک طناب یارو
مزہ زبان کا ہے جاتا رہتا
پیوگے گر مئہ عناب یارو!
یہ دانت گدھے کے ہیں سینگ جیسے 
کہاں چبائوں کباب یارو!
ضیافتوں کا ہے باب بند اب
دیا ہاضمے نے جواب یارو!
میں اپنی ہی دُھن میں رہتا ہوں گُم
بھاتا نہیں چنگ و رباب یارو!
وہ جن کو پالا تھا مل کے اُن نے
دیا ہے فرتوت خطاب یارو!
ضعف کی ہی بس ہے حکمرانی
ہے طاقِ نسیاں شباب یارو
نییرؔ بڑھاپے کا ذکر مت کر 
ہے درد و کرب کی یہ کتاب یارو!
 
 
غلام نبی نییّرـؔ
کولگام ، کشمیر موبائل نمبر؛9596047612
 

تازہ ترین