تازہ ترین

ہونزڈ سانحہ | بے خانماخاندان اپنے اجڑے آشیانوں کی تعمیر نو کے منتظر

متاثرین کرایہ کے کمروں اور رشتہ داروں کے ہاں پناہ لینے پر مجبور

تاریخ    9 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


سید امجد شاہ
جموں//کشتواڑ کے دور افتادہ گائوں ہونزڈ دچھن میں رواں سال گرمیوں کے موسم میں بادل پھٹنے کے ایک اندوہناک واقعہ میں اپنے آشیانے کھونے والے لوگ ابھی بھی اجڑے گھروں کی تعمیر نوکے منتظر ہیں اور حالات نے انہیں اب کرایہ کے کمروں اور رشتہ داروں کے ہاں پناہ لینے پر مجبور کردیا ہے۔بہت سے خاندان جو بادل پھٹنے سے اپنے رہائشی مکانات تباہ ہونے کے بعد بے گھر ہو گئے تھے، اب بھی مستقل گھروں کی تلاش میں ہیں جبکہ موسم سرما نے دستک دے دی ہے ۔ہونزڈ کے ایک رہائشی نے بتایا’’ہمارے گھر کی تلاش نہ ختم ہونے والی ہے۔ ہم نے گاؤں میں دوبارہ مکانوں کی تعمیر نہیں کی ہے کیونکہ زمین مٹ چکی ہے اور اسی جگہ پر دوبارہ مکانات تعمیر کرنے کا شاید ہی کوئی موقع ہے۔ تاہم ہم غریب مالی امداد کے ساتھ ایک آپشن تلاش کر رہے ہیں‘‘۔مذکورہ دیہاتی نے بتایا کہ "بہت سے خاندان بشمول خواتین اور بچے کشتواڑ شہر، ضلع کے دیگر علاقوں میں کرائے کی کمروں یا اپنے رشتہ داروں کے گھروں میں منتقل ہو گئے ہیں"۔انہوںنے کہا کہ بادل پھٹنے کے واقعہ کے بعد سے زندگی بدل گئی ہے اور اب کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہاہے۔متاثرین میںایک اعجاز احمد بھی ہیں جنہیں شدید چوٹیں آئی تھیں لیکن خوش قسمتی سے گاؤں والوں اور امدادی ٹیموں نے اسے بچا لیاتھا۔اعجازاحمد ولد عبدالصمد نے کہا’’میرا آپریشن ڈاکٹروں نے کیااور اب میںٹھیک ہو رہا ہوں۔ تاہم ہم وہاں واپس نہیں گئے ہیں۔ ہمارا خاندان بٹھنڈی (ضلع جموں) میں ہے اور کچھ لوگ کشتواڑ میں ہیں‘‘۔انہوں نے یاد کیا کہ اس کی بہن اور بھابھی بادل پھٹنے میں کھو گئی تھیں اور آج تک ان کا سراغ نہیں مل سکا۔انہوں نے کہا کہ 8 لاشیں نکال لی گئی ہیں اور 18 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشتواڑ کے دچھن علاقے کے ان کے تباہ شدہ گاؤں میں چھ خاندان اب بھی رہ رہے ہیںجن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔