ہمیں کیا کرنا ہے اور ہم کیا کررہے ہیں؟

زندگی سنورتی ہیں نہ آخرت!

تاریخ    9 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


عذراء زمرود
 ہم ظاہری آرائش و زیبائش پر حد سے زیادہ فوقیت دیتے ہیں ،جس کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی مطلوب ہے ۔زندگی کو سنوارنے کے لیے کیا کرنا ہوتا ہے یہ بہت کم خواتین جانتی ہیں۔ یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لینا چاہئے کہ ہم  نہ صرف گھر اور معاشرہ کے ہر معاملے میں نہایت کار آمد ثابت ہوسکتی ہیںاور معاشرہ کےہر فرد کی مدد کرسکتی ہیں  بلکہ تاریخ بھی رقم کر سکتی ہیںتواسی لیے کہا گیا ہے :وجود زن سےہے تصویر کائنات میں رنگ ۔اگر نہیںتومیرے نزدیک یہ صنف نسواں کی توہین ہے۔ کیا ہم نے کبھی غور کیاہے کہ ہم جس صنف کو فقط حسن کی علامت سمجھ رہے ہیں اور دل رُبائی اور ستائشی القابات کے نا زیبا القابات سے نواز رہے ہیں تو کیا یہ عورت آپ کے لئے فقط ایک عورت ہی ہے؟ نہیں! یہ فقط عورت نہیں بلکہ اس کے ساتھ سے جڑے کئی مقدس رشتےہیں جو پاکیزگی کی مثال ہیں ۔عورت، اگر ماں ہے تو جنت، بیوی کے روپ میں راحت، بہن کی صورت میں غیرت اور بیٹی کی شکل میں رحمت ہوتی ہے۔ عورت کائنات کا وہ جز ہے جس نے تخلیق کو مکمل کیا۔ ہم نے اقبال کے نکتہ فکر کو بھول کر اس کو اشتہار کا سامان بنا ڈالا اور یہ ہم عورتوں کی کم عقلی اور نادانی ہے کہ مرد نے اس کی صلاحیت کو پسپا کرنے کے لئے جو القاب چنے ،ہم نے اپنے گلے کے ہار بنا لئے۔ جب کہ ہم نے اقبال کے شعر کو پورا پڑھنا تک گوارا نہ کیا کہ وہ مفکر شاعر عورت کی عظمت کو کن پہلو سے اُجاگر کرنے کی بات کر رہا ہے۔
آج کی عورت نے خود قبول کیا ہے کہ اُس کے ظاہری نقش و نگار، چال ڈھال اور انداز ِدل رُبانہ کو آج کا مرد نہ صرف سرہناکرے بلکہ اس پر پری زاد کا مہر بھی لگادے۔ جس کی وجہ سے عورت نے اپنے اصل مقام پہچاننے کے بجائے خود کو دوسروں کے ہاتھوں کھلونا بنا دیا۔ جبکہ حسن وہ نہیں جو دکھائی دے بلکہ اصل حسن سیرت اور عقلمندی سے مشروط ہے۔اگر ہم عورتیں تاریخ اسلام پر نظر ڈالیں تو ہمیں اپنا اصل مقام نظر آئے گا۔ کون کہتا ہے کہ عورت صرف اپنے ظاہری پیکر کا شاہکار ہے۔ عورت تو عقل و فہم میں وہ مقام رکھتی ہے جو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کا تھا۔ جب ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غار حرا پر وحی آئی اورآپ گھبرا گئے تو دانائی کا یہ عالم تھا کہ آپؓ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ وہ نبوت کے مدارج سے گزر رہے ہیں۔
اسی طرح سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جن باکمال عورتوں کا تذکرہ ملتا ہے، ان میں حضرت خدیجہؓ، حضرت عائشہؓ اور حضرت فاطمہ ؓ بہت نمایاں ہیں، ان میں سے ہر خاتون کی دینی، علمی، عملی ہراعتبار سے الگ الگ خصوصیت تھی، گویا ہمیں یہ حکم ہو رہا ہے کہ ہماری عورتوں کو ان خصوصیات کے اپنانے کی کوشش کرنی چاہئے، اگر ان خصوصیات میں سے کوئی خصوصیت ہم میں نہیں ،تو ہم کامل نہیں بلکہ ناقص ہوں گی۔ حضرت خدیجة الکبریٰ کی خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے دین کے خاطر بہت ساری قربانیاں دی تھیں ۔جیسے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اور ان کو تسلی دینا ،اور ان پر اپنا مال خرچ کرنا اور ان کے ساتھ شعب ابی طالب میں رہنا اور بھوک و پیاس برداشت کرنا، یہ ان کی خصوصیات تھیں، اس خصوصیت کو ہم اور ہماری عورتیں بھی اختیار کریں۔ اپنا مال دین پر خرچ کریں اور دین کے راستے میں بچے اور بچیوں کو درپیش تکالیف دور کریں۔اپنے شوہر پر کوئی تکلیف آئے تو ان کو حوصلہ دیں۔ جب رسول اللہ علیہ وسلم نبوت کے ابتدائی دور میں بار بار پریشان ہوتے تھے تو حضرت خدیجہ ؓآپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر وقت یہ فرمایا کرتی تھیں: کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ناکام و رسوا نہیں کریں گے،کیونکہ آپ رشتہ داریوں کو پالتے ہیں۔ آپ کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ مال کماکر ان کو دیتے ہیں، جن کے پاس مال نہیں ہےاور حق کے راستے میں جنہیں مصیبتیں آن پڑتی ہیں اُن کی مدد کرتے ہیں۔ دیکھو! تسلی دینا، مال خرچ کرنا اور مصیبت برداشت کرنا یہ خصوصیت ہم سب عورتوں میں بھی ہونی چاہئے، جتنا عمل اونچا ہوتا ہے جزاء بھی اتنا ہی بڑا ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جبریل نے مجھے فرمایا کہ: میں خدیجہ ؓکو ایسے محل کی خوشخبری دوں، جو موتیوں کا بنا ہوا ہے۔ جنہوں نے دین میں مشقت برداشت کی ،ان کے ساتھ خاص فضل و کرم اور راحت والا معاملہ ہوگا۔ ایک پہلو تو یہ ہے،  ہمیںاس پہلو سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔ دوسری عورت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں تھی ،وہ حضرت عائشہ ؓتھیں، ان کی دیگر خصوصیات کے علاوہ ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ حضرت عائشہ ؓکی فصاحت و بلاغت بہت زیادہ معتبر مانی جاتی ہیں کیونکہ اسلام و فقہ کے تمام مسائل پر آپ کو کمال حاصل تھا اور بڑے بڑے صحابہ کرام آپ سے رہنمائی طلب کرتے تھے۔کیونکہ وہ علم کے حاصل کرنے میں بہت زیادہ مشغول تھیں۔ محدثین نے راویوں کو تین حصوں پر تقسیم کیا ہے:
حضرت عائشہ کا شمار مکثرات صحابہ میں سےہیں اور اُن سے ۲۲۱۰ ؍احادیث مروی ہیں۔تو ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم حضرت عائشہؓ کی وراثت کو سنبھالیں، ان کی وراثت، علم کا پھیلانا ہے۔ حضرت عائشہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھی علم سکھاتی تھیں اور رشتہ داروں کے علاوہ دوسرے مرد صحابہ بھی پردے کے پیچھے بیٹھ کر اُن سے علمی استفادہ کرتے تھے۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کی ایک خاتون حضرت فاطمہ ؓتھیں، انُہیںایک نمایاں خصوصیت یہ حاصل تھیںکہ وہ گھر کا کام کاج خود کیا کرتی تھیں۔در اصل ہماری تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ عورت کی مامتا ہی اس کائنات کا حسن ہے کہ رب تعالیٰ نے اپنی محبت کو ماں کی محبت کی مثل سے بیان کیا ہے ۔ عورت کی عظمت کا مشاہدہ تب کیا جا سکتا ہے جب اللہ تعالی نے حج و عمرہ میں عورت کی سنت کو عبادت کا لازمی جز قرار دیا۔ سعی کی ادائیگی وہ عمل ہے جس میں ماں کی بے قراری کو عبادت کا درجہ دیا گیا۔اب ضرورت صرف اور صرف سوچنے اور سمجھنے کی ہے۔ ہمارے اسلام نے ہرگز عورت کو مرد سے کم تر نہیں بنایا۔ ماں کے قدموں تلے جنت ہونے کا مطلب ہی عورت کی عزت کو بالا تر کرنا ہے۔ اللہ نے ہر وہ کام جو محنت و مشقت پر مبنی ہے، مرد کی ذمہ داری بنائی۔ عورت کو تحفظ دینے کے غرض سے مرد کو کفالت کرنے کا حکم دیا۔ علم و تدریس کو کبھی ممنوع نہیں ٹھہرایا، بلکہ عورت اور مرد کے حدود مقرر کیے۔ یہ حدود کا اطلاق ہرگز کسی ایک صنف کو کم تر اور کمزور ثابت کرنے کے لئے نہیں بنائے گئےبلکہ ایک صحتمند معاشرے کی افزائش کے لئے اصول و ضوابط کا لاگو کرنا ضروری تھا ،لیکن ہم نے اسلام کے حدود و قیود کو اپنی محدود سوچ کی نذر کردیااور اسلام کا نظریۂ حیات پامال کر ڈالا۔
قرآن کریم میں سورة النمل اور سورة القصص دو مفصل سورتیں ہیں۔ ایک میں ملکہ بلقیس کی حقیقت پسندی اور ایمان ذکر فرمایا ہے، اس کے بعد متصل سورت میں فرعون کا قصہ ہے، اس میں اشارہ ہے کہ بعض عورتیں مردوں سے زیادہ حقیقت پسند اور زیادہ دین کا کام کرنے والی ہوتی ہیں۔ بلقیس کا قصہ مشہور ہے کہ: جب حضرت سلیمان علیہ السلام کو ہدہد کے ذریعے پتا چلا کہ وہاں ایک عورت ہے جو تملکھم (ان کی بادشاہ ہے) قابل تعجب بات یہ ہے کہ عورت ہے اور ملکہ ہے۔دوسری تعجب کی بات یہ ہے کہ أُوتیت من کل شیء، کہ اس کے پاس ہر قسم کا ساز و سامان ہے۔تیسری تعجب کی بات یہ ہے کہ ولھا عرش عظیم کہ عظیم الشان تخت کی مالکہ ہےاور چوتھی تعجب کی بات یہ ہے کہ اس کو اور اس کی قوم کو میں نے دیکھا کہ وہ سورج کی عبادت کرتے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ بلقیس کو خط لکھا، ملکہ بلقیس نے اپنے وزیروں اور مشیروں سے اس خط کے تناظر میں مشورہ کیا اور بادشاہی روایات کے مطابق حضرت سلیمان کو ہدیہ بھیجا، حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہدیہ واپس فرمایا اور انہیں اسلام کی دعوت دی اور تبلبغ کی ،کیونکہ قرآنِ کریم میں أُدخلی الصرح تو ہے، بہرحال وہ اتنی حقیقت پسند تھی کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی ایک بار دعوتِ اسلام سے متأثر ہوکر اسلام قبول کرلیا اور کوئی رد و قدح نہیں کی۔ اس کے بالمقابل فرعون کا قصہ ہے، فرعون باوجود مرد ہونے، ہوشیار ہونے اور باوجود تمام اسبابِ ہدایت موجود ہونے کے، اس کی ضد، عناد، جحود اور تکبر و اِستکبار کی وجہ سے اس کو ہدایت نصیب نہیں ہوئی۔ بہرحال حضرت بلقیس بھی عورت تھی اور اسی طرح حضرت آسیہ بنت محازب فرعون کے گھر میں تھی اور فرعون کے گھر میں پلی بڑھی، فرعون کی بیوی تھی، اس کے باوجود اللہ نے اس کو اعلیٰ درجے کی ہدایت کی توفیق نصیب فرمائی تھی، فرعون کا مقابلہ کیا اور سخت مشقتوں کو برداشت کیا، اسی طرح دین کی محنت میں ہم مشقتوں کو برداشت کریں اور اس محنت اور مشقت کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ہم کو مالامال فرمائیں گے ان شاء اللہ۔بہرحال اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے برکات سے نوازیں اور ہم کو  اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ فرمائے تاکہ ہم سے دین کی خدمت ہوسکے۔ آمین یارب العالمین ۔
(کجر،کولگام)

تازہ ترین