ہمارےمعاشرے کا اجتماعی شعور؟

عجیب واہیات کی ترویج و فضیلت ہے

تاریخ    9 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


معراج زرگر
وحی یا الہام یا القاء یا کوئی بھی شعوری یا قلبی واردات ایک ایسا الٰہی ہتھیار ہے جو اذہان اور قلوب پہ ضرب لگاتا ہے۔ جسمانی نشو و نما اور تزئین کی طرف کم یا بالکل دھیان نہیں دیتی۔ بلکہ اس کے برعکس اپنی جھولی میں ایسے ایسے ترکش یا ایمونیشن رکھتے ہیں جن سے اجسام پر مجاہدوں اور ریاضت سے قدقن لگائی جاتی ہے۔ اور صوم و صبر اور قلتِ طعام و منام و کلام کی شدید ضربوں سے اجسام اور انسانی وجود میں ودیت حیوانی نفس کو نکیل دی جاتی ہے۔ یہ ایک اٹل بات ہے اور ہماری مذہبی روایت اور تہذیب کا حصہ رہی ہے۔ اللہ کے بر گزیدہ بندوں کے علاوہ بھی قرونِ اولیٰ میں عام انسانوں نے اپنے اجسام سےزیادہ اپنے وجود و شعور اور روح کا سامان کرنے کی فکر کی ہے۔ اور وہ اسی کم مائیگی اور کم نفسی کو آزادی سے تعبیر کرتے تھے۔ 
ہمارے دور کا ایک بڑا المیہ ذہنی یا شعوری غلامی ہے۔ جو خارج میں جسمانی قدغن سے زیادہ خطرناک ہے اور جس کا دائرہ عمل اور کار گذاری داخل میں ہے۔ ہمارا معاشرہ وحی کے مطلوبہ عمل درآمد کے بجائے ایک بے ڈھب اور بے ہنگم رواج کی پاسداری کا ایک جیسے آلہ بن گیا ہے۔ آلہ کیا بلکہ ہمارا معاشرہ الہامی رشد و ہدایت کے سند یافتہ اور نبوت کے ٹھپہ شدہ منشور سے باغی ہوکر ایک حیوانی اور غیر فطری بد تمیز اور بے حیاء ہجوم میں منتقل ہو چکا ہے جہاں دھکم پیل، بھاگ دوڑ، رسہ کشی، تکاثر فی المال، کثرت المنکرات، شور شرابہ، بے ترتیبی اور عجیب واہیات کی ترویج اور فضیلت ہے۔ ایک ایسا بد نصیب معاشرہ جہاں کھانے پینے اور زیب و زینت کی دکانیں ہزاروں ہیں اور کتابوں کی دکان کوئی نہیں۔ جو چند کتابوں کی دکانیں رہ گئی ہیں وہ اسکولی کتابیں بیچ رہے ہیں اور تھوڑے بہت مسلکی کتب، مسلکی جریدے اور مسلکی کیلینڈر۔  
اسی ذہنی پستی اور شعوری غلامی کی زد میں آکر ہم نے مخلوقِ خدا کو استہزاء اور تمسخر کا سامان بنایا ہے۔ جو کہ میرا اصل موضوع ہے۔ ہم وہ ہیجڑے اور چھکے ہیں جن کی زبان درازیوں اور باطنی غلاظت کے منحوس اخراج کا شکارایسے کئی کردار ہیں جن کی مروجہ سسٹم میں پیوند کاری کی گئی ہے۔ اور اناف شناف ,لغو اور مغلزات سے بھرپور ایک ڈسکورس ہمارے بیمار معاشرے کے فالج زدہ اذہان میں انجیکٹ کیا جارہا ہے۔ جس سے سنجیدہ رہنے اور سنجیدگی کے روایتی اور اخلاقیات کے رائج شدہ نظام کی عصمت دری ہو رہی ہے۔ یہ معاملہ اتنا سادہ اور تماشے کی حد تک معمولی نہیں ہے۔ یہ ایک خارج میں ہونے والی ایسی واردات ہے جس کا اثر کورونا وائرس سے زیادہ گھمبیر ہے۔ یہ ایک کھیل ہے اور اس چھل کپٹ کا ہر ایک پہلو اولمپکس کی طرح پیچیدہ ہے۔
اس غیر اخلاقی اور غیر سنجیدہ ڈسکورس یا نظریے کا جواز تلاش کرنا اور اس لعنت کو ایک سماجی اور اخلاقی پستی کے ایک عنصر کی طرح ٹریٹ کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اور یہ آسان نہیں۔ کیونکہ ہمارے موجودہ معاشرے کا بڑے سے بڑا اسکالر اور بظاہر بڑے سے بڑا معلم، معالج،پروفیسر، ڈاکٹر، صحافی، کارپوریٹر، کاروباری، مولوی اور امام سب کے سب فاضل وقت میں ان کرداروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور قہقہہ بازی اور لٹر مستی کا یہ عالم ہے کہ عالمان و فاضلان اور مرتبے والوں کے اہلِ خانہ منجملہ لطف اندوز ہوتے ہیں۔ انسانی معاشرے کی ایک ایسی صنف جو ہماری ہمدردی اور سنجیدگی کے سب سے زیادہ مستحق ہیں،انہیں با ضابطہ دھمال چوکڑی اور بانڈ بازی کے لئے سوسائٹی کی محفلوں، مجلسوں اور ایسے صحافتی پلیٹ فارموں (جو خود ایک مذاق ہیں) پر اپنی گھناؤنی اور نفسی خواہشوں کے ہتھے چڑھایا جاتا ہے۔ ایسے انسانی کردار اور بے بس مخلوق ہمارے موجودہ معاشرے کی پست ذہنی اور بھونڈی خواہشوں کا نوالہ بن چکے ہیں۔ ایک ناقص العقل یا فاطر العقل انسانی وجود جسے سرخ و سفید اور حق و غیر حق کا علم نہیں۔جب اس کا استحصال ہو رہا ہو تو وہ صنعِ خداوندی میں ایک ڈائریکٹ دخل اندازی ہے۔ اس ناشائستہ عمل کے اگرچہ کئی پہلو ہیں،جن میں انسانی، معاشرتی، اخلاقی پہلو وغیرہ سرفہرست ہیں، مگر یہاں میں ایک خاص ذہنی یا شعوری پہلو (یا جسے ایک طرح کا نفسیاتی پہلو بھی گردانا جائے تو کوئی مظائقہ نہیں) کے ارد گرد ہی بات کر رہا ہوں۔ 
جن کرداروں کا ذکر ہو رہا ہے، وہ معاشروں کی ذمہ داری ہیں۔ ایسے کردار اُسی ایک پراسیس یا سسٹم سے آتے ہیں، جس سسٹم یا پراسیس سے ایک اعلیٰ دماغی یا اعلیٰ شعوری نسل آتی ہے۔ تخلیق کے مدارج اور اصول ایک ہیں، پھر طبقے اور مراتب کہاں سے آئے۔ یہ ایک گتھی ہے۔ کیا اعلیٰ شعور والے اور خود کو طُرم خان سمجھنے والے حضرت عمر ؓ سے بھی زیادہ اونچی شان رکھتے ہیں۔ جنہوں نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ ’’کاش مجھے میری ماں نے جنا ہی نہ ہوتا‘‘۔ کسی دانا سے یہ بھی نقل ہے کہ ’’کاش میں گھاس پھوس کی طرح ہوتا تاکہ مجھ سے میرا حساب نہ لیا جاتا‘‘۔ جن کرداروں کو ہم فخریہ ذلیل اور کمتر سمجھتے ہیں وہ حساب و کتاب اور میزان کی گھڑی کے وقت اپنے لا شعور اور اپنی ذہنی کم مائیگی پر فخر کریں گے اور خود کو ارسطو اور افلاطون کی اولاد سمجھنے والے اعلیٰ عقل کے شہسوار اپنا منہ نوچ لیں گے۔
ہماری ذہنی نشو ونما اور شعور سازی کے دو درجے ہیں۔ ایک انفرادی ذہن کی پرداخت اور دوسری شعور کی اجتماعی تعمیر۔ جسے آج کل Collective Conscious کہا جاتا ہے اور جو زبان زد عام بھی ہے۔ انفرادی سطح پہ ہم ذہنی طور اپاہج اور لاغر ہیں اور اجتماعی سطح پہ شعوری اور ذہنی غلام۔ جو کہ اجسام کی غلامی سے بد ترین غلامی ہے۔ کیونکہ شعوری غلامی ایک انسانی سر کو (جسے عبدیت کا شعار بنایا گیا تھا تاکہ بارگاہ ایزدی میں سجدہ ریز ہوسکے)  ایک تربوزہ بناتی ہے جس کا مغز گل سڑ چکا ہے۔ اور اگر اسے سڑک کنارے پھوڑ دیا جائے تو آنِ واحد میں ہزاروں غلیظ مکھیاں بھنبھناتی ہوئی اس سڑے گلے مادے سے چپک جائیں گی۔
یہی وجہ ہے کہ اگر ایک گھر کا پانی آنا بند ہو جائے یا ایک گھر کا پاور کا کنکشن کٹ جائے تو ایک گھنٹے تک انتہائی اہمیت کی حامل سڑک کو روک دیا جائے گا۔ اور چاہے اس دوران اسکولی بچوں کی گاڑی میں دسیوں نونہال بھوک اور گرمی یا سردی سے بے ہوش ہی کیوں نہ ہوں یا درد زیہہ میں مبتلا کسی بیٹی یا بہن کا اختتام ہی کیوں نہ ہوجائے۔ یہ ہے ہمارا مشترکہ شعور یا مشترکہ ذہنی بناوٹ۔ 
یہ ایویں کسی معاشرہ میں اچانک نہیں وارد ہوتا۔ یہ کوئی مہلک وائرس نہیں کہ اچانک سے ووہان یا جاپان سے آگیا۔ اسی لئے یہ زیادہ خطرناک ہے۔ اسے کوئی ارتقائی عمل بھی نہیں کہیں گے اور نہ تقدیر کے کھاتے میں ڈالیں گے۔ یہ ایک طبقاتی کھیل ہے اور شاید اس سے بڑھ کر۔ اس کا دائرہ کار اتنا وسیع ہے کہ اگر ایک بیٹا یا شاگرد اپنے باپ یا استاد کے سامنے ٹی۔وی دیکھتے ہوئے یا موبائل دیکھتے ہوئے لوٹ پوٹ ہو رہا ہے اور والد یا استاد اس کی وجہ پوچھ بیٹھے تو وجہ سن کر والد اور استاد بھی اسی کھیل میں شامل ہو جاتا ہے اور مسخرے پن اور ذہنی یا شعوری نا پختگی کا جنازہ اکٹھے دھوم دھام سے نکلتا ہے۔
تو کیا بحث کو یہیں سمیٹ لیا جائے۔ نہیں! یہ اتنا سادہ معاملہ نہیں۔ ایک فالج زدہ معاشرہ جس نے اپنا حدف اور منزل کھو دی ہو اور جس کے رگ و پے میں تماشا، آتش بازی، بے غیرتی، تساہل، تمسخر، مجادلہ، مناظرہ، بحث و تکرار، جھنجھناہٹ، فریسشریشن، استہزاء اور اپنے ہی لوگوں اور اپنے سے کم تر انسانوں کی تضحیک و تذلیل،خبوط الحواس اور مجذوب لوگوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک، لٹر مستوں اور بھانڈوں کی نقل اور مذاق سما گئے ہوں، وہ قوم کب کی غرق ہو چکی ہے۔ اور اس قوم کے اجتماعی شعور کا بیڑا غرق ہو چکا ہے۔ 
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ استحصالی سیاست، چاپلوسی، موقع پرستی، شیطنت اور لومڑی پن پر تمسخر ہونا چاہیے تھا۔ مگر ایک ایسا ماحول قائم اور رائج کیا گیا ہے جہاں ہر پہلا شخص بھانڈ ہے اور ہر دوسرا تماشا بین۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
دیکھتے  رہتے  ہیں  خود اپنا تماشا    دن رات 
ہم ہیں خود اپنے ہی کردار کے مارے ہوئے لو

تازہ ترین