مزید خبریں

تاریخ    9 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک

ناگہانی آفات کے دوران بچائو کارروائیاں | نگین گلب میں فرضی مشق کا انعقاد

 
ارشاد احمد
 
سرینگر//ضلع ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سرینگر نے نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس،اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس، اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ریلیف بحالی اور تعمیر نو کے محکموں کے اشتراک اور تعاون سے زلزلے آنے کی صورت میں کی جانے والی بچاو کارروائیوں پرفرضی مشق کا انعقاد کیا۔نگین کلب میں کی جانے والی مشق کے دوران تباہی کے مختلف منظرناموں کی نقالی انجام دی گئی مشق کے دوران ریسکیو ٹیموں کے ردعمل کا تجربہ کیا گیا۔ فائر اینڈ ایمرجنسی سروس،محکمہ صحت،سرینگر میونسپل کارپوریشن،سول ڈیفنس،پولیس، ٹریفک پولیس کے علاوہ دیگر کئی محکموںاوررضاکاروں سمیت دیگر انجمنوں نے اس فرضی مشق میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
 
 
 

 حق جنگلات قانون کا نفاد | کمیٹیوں میں پنچایتی ممبران کو شامل کیا جائے: فارسٹ رائٹس کوائی لیشن 

 
سرینگر/بلال فرقانی/جموں کشمیر میں حق جنگلات قانون کو اسکی اصل روح کے برعکس لاگوکرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایوان صحافت کشمیر میں بدھ کوپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر فارسٹ رائٹس کوائی لیشن کے سربراہ شیخ غلام رسول نے کہا کہ انتظامیہ نے جنگلاتی علاقوںمیں ازخود کمیٹیاں تشکیل دے رہی ہیں جو قانون کی خلاف ورزی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق کمیٹیوں میں پنچایتی ممبران اور مقامی افراد کو شامل کیا جانا چاہئے لیکن محکمہ جنگلات کے افسران اور انتظامیہ چنندہ افراد کو ان کمیٹیوں میں شامل کررہی ہے۔ 
انہوں نے بتایا ’’ پولیس اور سول انتظامیہ جنگلوں میں مقیم لوگوں کو قابض قرار دے کے ان پر مقدمے درج کر رہے ہیں جبکہ قانون کے مطابق ان کو تب تک جنگلات سے بے دخل نہیں کیا جانا چاہئے جب تک کمیٹی منظوری نہیں دے گی۔‘‘ شیخ غلام رسول کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق اس قانون کا نفاذ محکمہ قبائلی امور عمل میں لاے گا لیکن جموں و کشمیر میں محکمہ جنگلات ہی اس کو لاگو کر رہی ہے جو بڑی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن افراد پر پولیس نے مقدمے درج کئے ہیں وہ مقدمے واپس لیے جائیں جب تک قانون کا مکمل اطلاق نہ ہو۔جموں و کشمیر میں جنگلات حقوق قانون کو دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد لاگو کیا گیا ہے جبکہ بھارت میں اس کا اطلاق 2006 میں کیا گیا تھا۔ 
 
 

تازہ ترین