ریاستی درجہ کی بحالی، حد بندی کی عمل آوری

اپنی پارٹی کے پہلے ورکنگ کمیٹی اجلاس میں متعدد مطالبات

تاریخ    9 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//جموں کشمیر اپنی پارٹی نے انتخابات سے قبل ریاستی درجہ کی بحالی، حد بندی عمل میں تیزی لانے اور بجلی سپلائی میں بہتری لانے کی قرار دادیں منظور کیں۔اسکے علاوہ مخصوص آئی اے ایس، کے اے ایس کیڈر، جامع مسجد میں نماز کی اجازت ،یومیہ اُجرت ملازمین کو مستقل کرنے کے مطالبات بھی رکھے۔ اپنی پارٹی ورکنگ کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا ،جس کی صدارت پارٹی صدر سید الطاف بخاری نے کی۔ورکنگ کمیٹی نے کہاکہ پارٹی دفعہ370اور35Aکی بحالی کے عزم کا اعادہ کرتی ہے اور اِس کے لئے سیاسی وقانونی طور پر جدوجہد جاری رہے گی۔ ایک بیان میں بخاری نے کہاکہ اپنی پارٹی جموں وکشمیر کے سیاسی منظر نامہ پر ایک بااعتماد پلیٹ فارم کے طور اُبھر کر سامنے آئی ہے اور لوگوں کی خواہشات کی ترجمانی کی ہے۔ ورکنگ کمیٹی اجلاس میں بھی لوگوں کے بنیادی مسائل کو اُجاگر کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ انہوں نے کہا’’ورکنگ کمیٹی اراکین نے مطالبہ کیا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی آئندہ انتخابات سے پہلے کی جانی چاہیے تاکہ عوامی فلاح کے لیے کام کرنے کے لیے ایک منصفانہ اور جوابدہ حکومت قائم ہو‘‘۔بخاری نے کہاکہ کمیٹی نے اِس بات پربھی زور دیاکہ حد بندی کمیشن مقررہ مدت کے اندر رپورٹ پیش کرے اور اسمبلی حلقوں کی حد بندی کا عمل شفاف، غیر جانبدار اور آئین ِ ہند کے عین مطابق ہونا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہاکہ اپنی پارٹی قیادت متعلقہ حکام تک لگاتار اِس مسئلہ کو اُٹھاتی رہے گی تاکہ جلد انتخابات منعقد ہوں اور ایک جوابدہ حکومت قائم ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر یوٹی کو اِس وقت بے روزگاری کے بحران کا سامنا ہے لیکن حکومت ِ ہند اِس حساس مسئلے پر غیر سنجیدہ نظر آرہی ہے۔  مرکزی سرکار نے جموں وکشمیر میں باہر سے سرمایہ کاری لاکر نجی سیکٹر کو فروغ دینے کے وعدے کئے تھے لیکن ابھی تک زمینی سطح پر اِس کے نتائج نظر نہیں آرہے ۔ کمیٹی نے جموں وکشمیر میں بجلی کی آنکھ مچولی اور بحرانی صورتحال کا بھی سنجیدہ نوٹس لیا جس کے لئے حکومت کو مطلوبہ اقدامات اُٹھانے چاہئے تاکہ لوگوں کو ریلیف مل سکے۔ انہوں نے کہاکہ’’جموں وکشمیر آئی اے ایس۔کے اے ایس کیڈر کو AGMUTضم کرنے کے فیصلے کو واپس لیاجانا چاہئے ۔ پارٹی نے جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماعات کے اجازت نہ دینے کو بھی بدقسمت قرار دیا اور حکومت سے کہاکہ اب اِس کے لئے اقدامات اُٹھائے جانے چاہئے۔بخاری نے کہاکہ جموں وکشمیر میں متعلقہ حکومتوں نے 60ہزار ڈیلی ویجروں کو مستقل کرنے کا وعدہ کیاتھا لیکن آج تک کوئی بھی ٹھوس اقدامات نہ اُٹھائے گئے ہیں۔
 

تازہ ترین