تازہ ترین

حد بندی سے متعلق مرکز کے قول و فعل میں تضاد

بہت ہوگئی افسر شاہی ،عوامی حکومت کا کوئی متبادل نہیں : ڈاکٹر فاروق

تاریخ    9 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
جموں// نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ تاناشاہی مسائل کا حل نہیں ، صرف نمائندہ حکومت ہی عوام کو موجودہ دلدل سے نکال سکتی ہے ۔وہ شیر کشمیر بھون جموں میں پارٹی کی او بی سی ونگ کے یک روزہ کنونشن سے خطاب کررہے تھے۔۔ کنونشن میں 3قراردادیں منظور کی گئیں، جن میں دفعہ370اور 35اے کی بحالی، جموں وکشمیر کے ریاستی درجے کی واپسی کے علاوہ او بی سی کیلئے 27فیصد ریزرویشن اور شیڈل کاسٹ و شیڈول ٹرائب کی طرز پر یک وقتی کٹیگری سرٹیفکیٹ کی اجرائی کا مطالبہ شامل ہے۔ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ حکومت نے حدبندی کمیشن قائم کیا اور اُن سے کہا گیا تھا کہ 6مارچ 2021کو اپنی رپورٹ مکمل کی جائے اور اس میں توسیع نہیں ہوگی لیکن کل پارلیمنٹ میں بتایا گیا کہ کمیشن اپنا کام کررہا ہے اور اس میں کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا ہے۔ جن لوگوں نے کل پارلیمنٹ میں یہ بات کہی انہی لوگوں نے کہا تھا کہ 6مارچ تک حد بندی مکمل ہوجائے گی۔ہم بھی اس کمیشن کے ممبر ہیں، لیکن آج تک ہمیں نہ بلایا گیا، نہ ہمیں کوئی رپورٹ دکھائی گئی اور نہ ہی ہمیں پتہ ہے کہ کمیشن کر کیا رہا ہے؟یہ حال ہے کہ یہاں کی جمہوریت کا ، یہ لوگ کہتے ایک بات ہے اور کرتے دوسری بات ہے‘‘۔ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ ’’بہت تاناشاہی ہوگئی، بہت افسرشاہی ہوگئی،بہت لیفٹیننٹ گورنر کی حکومت ہوگئی،عوام اب اور زیادہ نہیںسہہ سکتے، اب عوامی حکومت آنی چاہئے، عوامی حکومت سے ہی لوگوں کے مسائل حل ہوسکتے ہیں، چاہے جتنے بھی جھوٹے دعوے کئے جائیں تاناشاہی سے مسئلے حل نہیں ہوسکتے۔ جموں وکشمیر کی زمینی صورتحال ہی دیکھ لیجئے، نئی دلی سے یہاں امن و امان، ترقی اور ٹورازم کے دعوے کئے جارہے ہیں لیکن زمینی حالات ان سارے دعوئوں کی نفی کرتے ہیں‘‘۔ ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ جموں وکشمیر میں ہماری حکومتوں کے دوران ذرائع ابلاغ پر کوئی پابندی نہیں تھی اور صحافی حکومت کیخلاف آزادی سے لکھتے تھے اور ہم بھی اخباروں کے اداریہ پڑھ کر حقائق سے آشنا ہوجاتے تھے اور سرکار صحیح راستہ اپناتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے حقوق کیلئے بے خوف لڑنا چاہئے، یہ لوگ ہم پر بہت سارے الزامات لگائیں گے، میرے والد پر بھی الزامات لگائے گئے اور مجھ پر بھی لگائے گئے لیکن اس میں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں،  کل یہی لوگ ہمارے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ آپ صحیح تھے۔ 
 

تازہ ترین