تازہ ترین

بھارت کی تاریخ میں سب سے بڑا فوجی ہیلی کاپٹر حادثہ|ملک کا پہلا چیف آف ڈیفنس سٹاف جاں بحق

جنرل بپن راوت کے علاوہ مہلوکین میں انکی اہلیہ اور دیگر 11افسران بھی شامل، ایک کیپٹن بچ گیا، حالت نازک،حادثے کی کورٹ آف انکوائری کے احکامات صادر

تاریخ    9 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


مانٹیرنگ ڈیسک+یو این آئی
نئی دہلی//بھارت کی تاریخ میں اب تک کے سب سے بڑے فوجی طیارہ حادثے میںملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت ہلاک ہوئے۔اس حادثہ میں انکی اہلیہ اور انکی ذاتی ٹیم اور طیارہ عملہ سمیت دیگر 11 ہلکار بھی مارے گئے جبکہ طیارہ کا ایک پائلٹ گروپ کیپٹن بچ گیا جس کی حالت انتہائی نازک ہے۔انڈین ائرفورس کے اس ہیلی کاپٹر میں کل 14افراد سوار تھے جن میں عملہ کے 5ارکان بھی شامل ہیں۔ ہیلی کاپٹرMI-17V5 انتہائی جدید نوعیت کا ہے جسے پہلی بار حادثہ پیش آیا ہے۔حادثے کی انکوائری کرنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔ہیلی کاپٹر میں سوار گروپ کیپٹن ورون سنگھ حادثے میں زخمی ہو گئے ہیں اور ان کا ویلنگٹن کے ملٹری ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے ۔ جنرل راوت ائر فورس کے ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر میں ویلنگٹن کے ڈیفنس سروسز کالج میں ایک تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے ۔ ان کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں 14 افراد سوار تھے ۔ فوجی ہیلی کاپٹر نئی دہلی سے پرواز کررہا تھا جسے تمل ناڈو کے سالورہ ائر بیس پہنچنا تھا۔لینڈنگ کرنے سے محض 5منٹ قبل دن کے 12بجکر 20منٹ پر ہیلی کاپٹر کنور کے مقام پر حادثہ کا شکار ہوا اور نیل گری جنگلاتی سلسلے میں تباہ ہوا۔’’ فضائیہ نے ایک ٹویٹ میں جنرل راوت کی موت کی تصدیق کی۔ فضائیہ نے کہا کہ انتہائی افسوس کے ساتھ اس بات کی تصدیق کی جا رہی ہے کہ اس افسوسناک واقعہ میں جنرل راوت، ان کی اہلیہ اور 11 دیگر افراد کی موت ہو گئی ہے ۔ فضائیہ نے کہا کہ ہیلی کاپٹر میں سوار گروپ کیپٹن ورون سنگھ اس حادثے میں زخمی ہیں اور ان کا ویلنگٹن کے ملٹری ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے ۔حادثے کیساتھ ہی فوج،  سیکورٹی فورسز، اور  مقامی لوگ جائے وقوع پر پہنچ گئے اور انہوں نے بچائو کارروائیاں شروع کیں۔ پہلے زندہ بچ جانے والے 3افراد کو نکالا گیا لیکن ان میں دو راستے میں ہی دم توڑ بیٹھے۔بعد میں دن بھر لاشوں کو دھونڈنے کی کارروائی جاری رہی اور شام کے وقت سبھی لاشوں کو بر آمد کرنے کیلئے جنرل بپن راوت کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی۔دہلی سے سلور تامل ناڈوجانے کے دوران جنرل راوت کے ہمراہ جو افراد تھے ان میں انکی اہلیہ مس مدھولیکا راوت، بریگیڈیئر ایل ایس لدر، لیفٹیننٹ کرنل ہر جندر سنگھ، نائک گر سیوک سنگھ، نائک جتندر کمار، لانس نائک وویک کمار، لانس نائک بی سائی تیجا اور حوالدار ست پال شامل ہیں۔دریں اثناء فوج کی جانب سے حادثے کی کورٹ آف انکوائری کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔ پہلی کاپٹر کا بلیک بکس مل گیا ہے اور اب اس بات کی انکوائری کی جائیگی کہ ہیلی کاپٹر میں کوئی تکنیکی خرابی پیدا ہوئی تھی یا علاقے میں موسم کی کوئی خرابی تھی یا پائلٹ سے کوئی حادثاتی طور پر کوتاہی سرزد ہوئی ہے۔
 
 

 کون تھے جنرل راوت ؟

یو این آئی
 
نئی دہلی// ایک فوجی گھرانے میں پیدا ہوئے سابق آرمی چیف اور ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت کا شمار فوج کے طاقتور، بے باک اور نڈر جرنیلوں میں کیا جاتا تھا۔ اتراکھنڈ کے پوڑی گڑھوال میں 16 مارچ 1958 کو پیدا ہونے والے جنرل راوت کا پورا نام بپن لکشمن سنگھ راوت تھا۔ انہوں نے فوجی اصلاحات سے لے کر فوج کو چوکس بنانے ، اس کی صلاحت کو بڑھا کر سرحد پار جا کردہشت گردوں کے خلاف محدود فوجی کارروائی اور کارگل کی جنگ میں ایک اہم اور قائدانہ کردار ادا کیا تھا ۔ ان کے چیف ڈیفنس چیف رہتے ہوئے ہندوستان پچھلے سال مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول کو تبدیل کرنے کی چین کی کوششوں کا معقول جواب دیا۔جنرل راوت کی بدھ کے روز تمل ناڈو کے ضلع نیلگیری میں کنور کے نزدیک ہیلی کاپٹر حادثے میں موت ہو گئی۔ ان کی عمر 63 برس تھی ۔ ان کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں ان کی اہلیہ مدھولیکا راوت بھی تھیں اور 11 افسر بھی اس حادثے میں مارے گئے ۔ جنرل راوت اس سے قبل بھی ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوئے تھے لیکن خوش قسمتی سے اس وقت وہ بچ گئے تھے ۔ 3 فروری 2015 کو ان کا ہیلی کاپٹر ناگالینڈ کے دیما پور میں حادثے کا شکار ہو گیا تھا ۔اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کی وجہ سے جنرل راوت نے اپنے سے سینئر دو افسرون کو پیچھے چھوڑ کر فوج میں اعلیٰ ترین رینک جنرل تک پہنچنے اور بعد میں انہیں ملک کا پہلا چیف آف ڈیفنس اسٹاف مقرر کیا گیا تھا ۔ جنرل راوت کے والد بھی فوج میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے ۔ فوجی وراثت میں پرورش پانے والے جنرل راوت نے 1978 میں فوج کی 11ویں گورکھا رائفلز کی 5ویں بٹالین میں کمیشن کے ساتھ اپنے فوجی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ انہیں یکم ستمبر 2016 کو ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف بنایا گیا تھا ۔ 
 
 

وزیراعظم، وزیر دفاع، وزیر داخلہ اور لیفٹیننٹ گورنر کا صدمے کا اظہار

یو این آئی
 
نئی دہلی //وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، وزیر داخلہ امیت شاہ اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہیلی کاپٹر کے حادثے میں جنرل بپن راوت، ان کی اہلیہ اور مسلح افواج کے دیگر اہلکاروں کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا ‘‘میں تمل ناڈو میں ہیلی کاپٹر کے حادثے سے کافی غمزدہ ہوں جس میں ہم نے جنرل بپن راوت، ان کی اہلیہ اور مسلح افواج کے دیگر اہلکاروں کو کھو دیا ہے ۔ انہوں نے انتہائی تندہی کے ساتھ ہندوستان کی خدمت کی۔ میری ہمدردیاں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔جنرل بپن راوت ایک بہترین سپاہی تھے ۔ ایک سچے محب وطن، انھوں نے ہماری مسلح افواج اور سیکورٹی سے متعلق سازوسامان کو جدید بنانے میں کافی تعاون کیا۔ اسٹریٹجک معاملات سے متعلق ان کی بصیرت اور نقطہ نظر غیر معمولی تھا۔ ان کے انتقال سے مجھے گہرا صدمہ پہنچاہے ۔ہندوستان کے پہلے سی ڈی ایس کے طور پر، جنرل راوت نے دفاعی اصلاحات سمیت ہماری مسلح افواج سے متعلق مختلف پہلوؤں پر کام کیا۔ وہ اپنے ساتھ فوج میں خدمات انجام دینے کا بھرپور تجربہ لے کر آئے ۔ ہندوستان ان کی غیر معمولی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کرپائیگا۔’’
 
 

حالیہ7 برسوںمیں 17طیارے تباہ،قریب 70افسران و اہلکار ہلاک

نیوز ڈیسک
 
نئی دہلی //ہندوستانی فضائیہ (آئی اے ایف) کے ایک ہیلی کاپٹر کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت کو لے جانے والے تمل ناڈو میں کنور کے قریب نیل گیرس میں گر کر تباہ ہونے سے ایک بار پھر ہندوستان میں فوجی طیاروں کے حادثات کے سنگین مسئلے کو سامنے لایا گیا ہے جس کی وجہ سے کئی افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پچھلے ہفتے کے شروع میں، مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ پچھلے دو سالوں میں سات IAF طیارے گر کر تباہ ہو چکے ہیں۔وزیر مملکت برائے دفاع اجے بھٹ نے لوک سبھا میں کہا، "گزشتہ دو سالوں میں فضائیہ کے کل سات طیارے گر کر تباہ ہو چکے ہیں، جن میں میراج 2000 بھی شامل ہے جو حال ہی میں مدھیہ پردیش میں گر کر تباہ ہوا تھا۔اس سے پہلے جولائی 2019 میں اس وقت کے وزیر مملکت برائے دفاع شری پد نائک نے پارلیمنٹ میں 2014 سے 2019 تک کے اعداد و شمار پیش کیے تھے۔انہوں نے بتایا تھا کہ-15 2014 سے-19 2018 تک کے 5 سالوں میں باری باری 10 سے زائد حادثات ہوئے ، جس میں-15 2014 سے جولائی 2019 تک دفاعی فضائی حادثات میں مجموعی طور پر 46 اہلکار ہلاک ہوئے۔ IAF کا ایک میراج 2000 طیارہ 21 اکتوبر 2021 کو مدھیہ پردیش کے بھنڈ ضلع میں تربیتی پرواز پر گر کر تباہ ہو گیا۔ IAF کا ایک MiG-21 لڑاکا طیارہ 25 اگست 2021 کو راجستھان کے باڑمیر میں تربیتی مشن کے دوران گر کر تباہ ہو گیا۔ 20 مئی 2021 کو پنجاب کے ضلع موگا میں ایک MiG-21 طیارے کے حادثے میں ایک IAF پائلٹ ہلاک ہو گیا۔ 17 مارچ 2021 کو مدھیہ پردیش کے گوالیار میں Mig-21 بائیسن طیارے کے حادثے میں IAF کا ایک گروپ کیپٹن ہلاک ہو گیا۔ 5 جنوری 2021 کو راجستھان کے سورت گڑھ میں لینڈنگ کے دوران ایک MiG 21 بائیسن طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔ فروری 2019 میں، IAF کی ایروبیٹک ٹیم سوریا کرن کے دو طیارے درمیانی ہوا میں ایک دوسرے سے ٹکرانے کے بعد گر کر تباہ ہو گئے، جس سے ایک پائلٹ ہلاک اور دو زخمی ہو گئے جو ایرو انڈیا شو کی ریہرسل کے دوران محفوظ جگہ پر نکل گئے۔ اکتوبر 2017 میں، کم از کم سات افراد اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب اروناچل پردیش میں توانگ کے قریب تربیتی پرواز کے دوران بھارتی فضائیہ کا ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ دسمبر 2015 میں، 10 بارڈر سیکورٹی فورس (BSF) کے اہلکار اس وقت مارے گئے جب انہیں لے جانے والا ایک نیم فوجی طیارہ دہلی ہوائی اڈے کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔
 

تازہ ترین