امریکی سینٹ کی سعودی عرب کو اسلحہ فروخت کرنے کی تجویز مسترد

تاریخ    9 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


واشنگٹن//امریکی سینیٹ نے سعودی عرب کو 650 ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے ۔امریکی سینیٹ نے منگل کی رات اس تجویز کو 30 کے مقابلے 67 ووٹوں سے خارج کر دیا۔سعودی عرب کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت میں 280 درمیانی فاصلے تک ہوا سے ہوا میں مار کرنے والی میزائلیں شامل ہیں جن کا استعمال دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون حملوں سے بچاؤ کے لئے کیا جاتا ہے ۔اراکین نے سعودی عرب کو اس ضمانت کے بغیر فوجی ساز و سامان فروخت کرنے کی مخالفت کی تھی کہ امریکی آلات کو سویلین کو مارنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔تاہم اسلحے کی فروخت کی حمایت کرنے والوں نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ پہلے ہی سعودی عرب کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت روک چکی ہے۔ڈیموکریٹ رکن اور سینیٹ کمیٹی برائے خارجہ تعلقات کے چیئرمین سینیٹر باب مینڈیز کا کہنا تھا کہ ’میں مختلف کارروائیوں کے لیے سعودی قیادت کا احتساب کرنے سے مکمل اتفاق کرتا ہوں لیکن میں یہ بھی مانتا ہوں کہ ضروری ہے کہ ہمارے سیکیورٹی پارٹنرز جانیں کہ ہم اپنے وعدوں کو برقرار رکھیں گے‘۔ہتھیاروں کی فروخت کا پیکج اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے علاوہ سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کی امورِ خارجہ کمیٹیوں سے منظور ہوچکا ہے جس میں 280 اے آئی ایم -120-سی 7 / سی ایٹ ایڈوانس میڈیم رینج کے فضائی میزائل ( اے ایم آر اے اے ایم)، 596 ایل اے یو-128- میزائل ریل لاؤنچرز (ایم آر ایل) اور دیگر آلات شامل ہیں۔قبل ازیں ایک بیان میں بائیڈن انتظامیہ نے کہا تھا کہ وہ قرارداد کی سختی سے مخالفت کرے گی۔بیان میں کہا گیا تھا کہ اس قرارداد کی منظوری سعودی عرب میں شہریوں کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے وقت ہمارے پارٹنر کے دفاع میں مدد کے لیے صدر کے عزم کو کمزور کر دے گی۔

تازہ ترین