حکومت ملی تو نا انصافیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے: ڈاکٹر فاروق عبداللہ

تاریخ    8 دسمبر 2021 (32 : 04 PM)   
(Mir Imran)

یو این آئی
جموں// نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ اگر ان کی پارٹی کو حکومت ملی تو وہ پسماندہ لوگوں کے ساتھ ہوئی نا انصافیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پسماندہ طبقوں سے وابستہ لوگ بہت عسرت کی زندگی گذار رہے ہیں انہیں بھی اپنے حقوق کے لئے کھڑا ہوکر جد وجہد کرنی چاہئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم سے اسمبلی نشستوں کی سر نو حد بندی کو چھ مارچ تک مکمل کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن لگتا ہے اس کو چھ سال لگ جائیں گے۔
موصوف صدر نے ان باتوں کا اظہار بدھ کے روز شیر کشمیر بھون جموں میں منعقدہ یک روزہ تقریب سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا: ’پسماندہ طبقے کے لوگوں کے ساتھ نا انصافیاں ہوئی ہیں یہ لوگ کافی غریب ہیں، ہم لوگوں کو ان کے مسائل کو دور کرنا چاہئے اور اگر ہماری جماعت کو حکومت ملی تو ہم ان کے ساتھ ہوئی نا انصافیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے‘۔
ان کا کہنا تھا: ’پسماندہ طبقے کے لوگوں کو بھی چاہئے کہ وہ کھڑے ہو کر اپنے حقوق کے لئے جد و جہد کریں‘۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ چھ مارچ تک حد بندی کے عمل کو مکمل کیا جائے گا اور اس کے بعد انتخابات منعقد کرائے جائیں گے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس عمل کو مکمل ہونے میں چھ سال لگ جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم بھی اس کمیشن کے ممبر ہیں لیکن ہمیں نہ ہی بلایا گیا اور نہ ہی ہمیں معلوم ہے کہ یہ عمل کہاں پہنچ گیا ہے۔
موصوف سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج اخبار والوں کو سچ لکھنے کی اجازت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا: ’اگر کوئی اخبار والا سچ لکھے گا تو اس کو جیل بھیج دیا جائے گا اور اس کے اخبار کو بند کیا جائے گا لیکن میں اپنی حکومت میں اخبار والوں کو سچ لکھنے کی مکمل آزادی دوں گا کیونکہ اس سے ہم بھی جاگ جاتے ہیں اور اپنی غلطیوں کو درست کرتے ہی‘۔
ان کا کہنا تھا کہ مصیبت یہ ہے کہ ہمارے اخبار والے سرکاری اشتہارات پر منحصر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک ایسا قانون لانے کی ضرورت ہے کہ میڈیا کو آزادی ہونی چاہئے صرف فرقہ وارانہ فسادات اٹھانے کی ان کو اجازت نہیں ہونی چاہئے۔
نیشنل کانفرنس کے صدر نے کہا کہ پسماندہ طبقوں میں آج بھی عورتوں کو آگے بڑھنے کے موقعے نہیں دئے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب تک عورتوں کو اختیارات اور حقوق نہیں دئے جائیں گے تب تک ترقی ممکن نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک مندر یا مسجد توڑنے سے نہیں بنے گا اور ہم لیڈروں کی یہ کمزوری ہے کہ ہم مذہب کی بات نہیں کرتے ہیں بلکہ ہمیشہ کرسی کی بات کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مذہب غلط کرنے کی تعلیم نہیں دیتا ہے۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ لوگ طاقت کا اصل سرچشمہ ہیں اور حقیقی بادشاہ ہیں جبکہ لیڈر ان کے خدمتگار ہیں۔
 

تازہ ترین