شیر کشمیر بھون جموں میں یک روز کنونشن

’دلی کی دوری اور دل کی دوری‘ کب ختم ہوگی؟: ڈاکٹر فاروق

تاریخ    8 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک

ریاستی درجہ کی بحالی کے مطالبہ سمیت 7قراردادیں منظور

 
جموں// نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے اُن حقوق کی بحالی چاہیے جو اُن سے 5اگست2019کو چھینے گئے ،یہاں کے لوگوں کی خوشیاں لوٹا دیں جائیں ۔شیر کشمیر بھون جموں میں ایک کنونشن، جس میں دفعہ 370اور 35 اے کیے علاوہ ریاستی درجہ کی بحالی سمیت 7قرار دادیں منظور کی گئیں، سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہمیں ڈریا دھمکایا جارہا ہے ، لیکن ہم ڈرنے والوں میں سے نہیں، ہم مقابلہ کریں گے اور ایمانداری سے کرینگے، ہم نے کبھی بندوق اور گرینیڈ نہیں اُٹھائے اور ہماری جدوجہد پُرامن ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایک دن انہیںضرور ہوش آئے گا لیکن اُس وقت پانی بہت بہہ گیا ہوگا اور پھر اُس بہائو کو واپس موڑنا بہت مشکل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نئی دلی جموں وکشمیر سے متعلق اپنی غیر سنجیدگی اور غیر دانشمندانہ پالیسی ترک کرے۔انکا کہنا تھا ’’ وزیر اعظم نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ دل کی دوری اور دلی کی دوری کو ختم کیا جائے گا لیکن 24جون 2021سے آج تک اس سمت میں کیا گیا، کون سا دل جیتا گیا؟’’جھوٹ بولنے کیلئے تو آپ نے بہت لوگ رکھے ہیں کبھی حق بیانی بھی کیجئے‘‘۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ ’’ہم گاندھی کا ہندوستان واپس چاہتے ہیں، ہم نے گاندھی کے ہندوستان کیساتھ الحاق کیاہے، ہم نے گوڈسے کے ہندوستان سے الحاق نہیں کیا ہے، ہم ہندو ،مسلم، سکھ اور عیسائی میں فرق نہیں کرتے، مذہبی ہم آہنگی ہماری ریت رہی ہے، لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنا بند کیجئے، نفرتیں پھیلانا بند کیجئے، نفرتوں سے یہ دیش ختم ہوجائیگا، اپنے کام کی بنیاد پر الیکشن میں ووٹ مانگئے ، مذہب کے نام پر نہیں‘‘۔ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ ’’ جموں وکشمیر کا نوجوان مایوس ہے، کیونکہ یہاں اس کیلئے روزگار کے مواقعے بند کردیئے گئے ہیں، اس کے حقوق چھین کر باہر کے اُمیدواروں کو دیئے جارہے ہیں ۔ دوسری جانب اب لوگوں سے روشنی کی زمینیں چھینی جارہی ہیں اور اپنی زمینوں سے سالہاسال سے روزگار کمانے والے بھی مایوسی کے بھنور میں بے کار بیٹھے ہیں۔ ایسے میں یہ نوجوان منشیات اور دیگر غلط کاموں کی طرف راغب ہورہے ہیں، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ہم اپنے بچوں کے حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں اور اس کیلئے ہمیں مل جل کر جدوجہد کرنی ہے‘‘۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ آج جموں کا دکاندار ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھاہے اور گاہک کے انتظار میں ہے، ان تاناشاہوں نے آناً فاناً دربارمو کی روایت ختم کردی، یہ دربارمو صرف کاروبار تک محدود نہیں تھا بلکہ یہ عمل کشمیری، ڈوگری ،بودھ اور دیگر کلچروں کو جوڑ کر رکھتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جموں، کشمیر کا دروازہ ہے اور کشمیر ،لداخ کا دروازہ ہے لیکن آج یہ لوگ یہ دروازے توڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔

 

تازہ ترین