عوام کب تک پیاس سے نڈھال رہے ؟

لمحۂ فکریہ

تاریخ    7 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


سرفرازاحمدخان قادری
جموںو کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کے سب ڈویژن مینڈھر میں سرکار کے کروڑوں روپے کی لاگت سے تکمیل کیئے گئے محکمہ جل شکتی کی زیرِ نگرانی لگائے گئے پروجیکٹوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے ۔جن میں سے انتظامیہ کی نظروں کے سامنے والی لفٹ اسکیمیں ضرور کام کر رہی ہیں لیکن آنکھوں اور پہاڑ سے اوجھل دور دراز دیہاتی علاقوں میں کئی اسکیمیں فعال نہیں ہیں۔ سب ڈویژن مینڈھر میں محکمہ جل شکتی کی ناقص کاکردگی کی وجہ سے پسماندہ اور سرحدی علاقوں کی عوام صاف پینے کے پانی کی سہولیات سے محروم ہیں جس کی وجہ سے علاقہ کی عوام کو عالمی وبائی مرض کویڈ۔19 کے دوران بھی کئی کلو میٹر دور کا سفر طے کرکے چشموں سے پانی لانا پڑتا ہے۔واضح رہے اس سرحدی اور پسماندہ علاقہ کے اندرصاف پانی کے چشمے کم تعداد میں موجود ہیںاور ان کے علاوہ علاقہ جات کے اندر ہینڈ پمپ کی سہولیات بھی انتظامیہ کی جانب سے مہیانہیں کروائی گئی ہیں ۔تاحال جہاں ہینڈ پمپ موجود ہیں وہ بھی اکثرو بیشتر خراب ہو جاتے ہیں ۔ عوامی حلقوں کے مطابق این ہینڈ پمپوں کو خود مرمت کروانا پڑتا ہے یا پھر یہ ایسی ہی حالت میں ایک عرصہ تک پڑے رہتے ہیں ۔
ایک طرف عالمی وبائی مرض کویڈ۔19 نے کئی ممالک کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک کو بھی تیزی کے ساتھ اپنی لپیٹ میں لیا اور اب تیسری لہر کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ جہاں کرونا کی اومی کرون نامی ایک نئی اور خطرناک قسم دنیا میں آچکی ہے ۔انتظامیہ کی جانب سے اس جان لیوا وبا سے بچنے کیلئے باربارسماجی دوری ،ماسک اور صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھنے کی ہدایت دی جا رہی ہے۔ مگر بد قسمتی سے سرحدی اور پسماندہ خطہ کی عوام کی حالت یہ ہے کہ علاقہ جات کے اندر پانی کے چشمے کم ہونے کے باعث انہیں صاف پانی کی خاطر قطاروں میں کئی گھنٹے کھڑے ہو کر پانی حاصل کرنا پڑتا ہے کیونکہ صاف پانی کے بغیر گھر کے کھانے ،پینے اور صفائی ستھرائی کا نظام نہیں چل سکتا ۔باوجود اس کے بھی علاقہ کے اندر محکمہ جل شکتی کے آفیسران اور ملازمین کے کانوں تک جوں نہیں رینگتی ۔جس کی وجہ سے ان نازک حالات کرونا وباء کے دور میں خطہ کی عوام کو بہت سارے مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سرحدی ضلع پونچھ کے قصبہ مینڈھرسے بائیس کلو میٹر دور پسماندہ گاؤں پٹھانہ تیر ایک بلندپہاڑی پر واقعہ ہے جو سرنکوٹ اور مینڈھر اسمبلی حلقہ دونوں کوساتھ میں ملاتا ہے، لیکن تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ قارئین جس طرح تحصیل مینڈھر کے مختلف علاقہ جات کے لوگ پانی کی عدم دستیابی کے باعث پریشان ہیں، یہی حال پٹھانہ تیر جیسے پسماندہ گاؤں کا بھی ہے۔ جس میں قدرتی پانی کے ذرائع نہ ہونے کے ساتھ ساتھ کوئی بھی ہینڈپمپ نہیں ہے اس کی وجہ سے عوام پینے کے صاف پانی کی ایک ایک بوند کے لئے ترس رہی ہے۔وہیں مقامی عوام کے مطابق یہاں کے لوگوں کو کئی کلومیٹر دور سے پینے کا صاف پانی لانا پڑتا ہے۔جبکہ خشک سالی کے باعث عوام سخت پریشان ہے کیوں کہ اپنے مکانوں کی چھتوں سے پانی کا ذخیرہ نہیںکر سکتے ہیں۔
اس سلسلے میں مقامی شخص سید فیصل شاہ نے بتایاکہ دھڑہ تا پٹھانہ تیر کنجیالی واٹر سپلائی اسکیم میں محکمہ جل شکتی کے ملازمین کی غفلت و لاپرواہی کی بدولت لفٹ سپلائی اکثر بند رہتی ہے جس کی وجہ سے عوام پٹھانہ پانی کی ایک ایک بوند کے لئے ترس رہی ہے۔واضح رہے کہ اس گائوں میں محکمہ نے چار مستقل اور چالیس سے زائد ڈیلی ویجرملازمین بھی تعینات کر رکھے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود عوام کو پانی کیلئے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سید فیصل نے کہاکہ یہاں کی عوام کوعرصہ دراز سے پانی کی سہولیات سے محروم رکھا ہوا ہے۔ جہاںمحکمہ نے سبھی مقامی ملازمین تعینات کئے ہوئے ہیںجن کے نگران سپر وائزر بھی تعینات ہیں جواکثر گھریلو کاموں میں مصروف رہتے ہیں اور عوام مشکلات کا سامنا کر رہی ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو کئی میل سفر طے کر کے اپنے شیر خوار بچوں کو گھر چھوڑ کر پینے کا صاف پانی لانا پڑتا ہے یہاں محکموں کے درمیان آپسی تال میل کے فقدان کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اس سے صاف عیاں ہوتا ہے کہ آفیسران کی غفلت سے ملازمین کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے ۔ اس ضمن میں جب ایک مقامی شخص ثقلین شاہ سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایاکہ مذکورہ لفٹ اسکیم بہت کم چلتی ہے اوراکثر بند رہتی ہے ۔جس کے باعث یہاں کی عوام کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ انہوں نے بتایاکہ مذکورہ لفٹ اسکیم مہینے میں صرف تین چار دن چالو ہوتی ہے باقی پورے مہینے بند رہتی ہے اور عوام کو ان چار دنوں کا پانی مہینے بھر استعمال کرنے کیلئے مجبور ہو نا پڑتا ہے۔ جس کا اندازہ ہر ذی شعور لگا سکتا ہے کہ تین یا چار دن کا پانی کیا مہینے بھر کیلئے کافی ہے ؟انہوں نے بتایاکہ حالیہ دنوں چند جگہوں پر اموت ہوئی تھی جہاں پانی کی اشد ضرورت تھی لیکن لفٹ اسکیم کے بند رہنے کی وجہ سے اموات والے گھروں میں پانی نہ مل سکا۔ انہو ں نے کہا کہ جب کبھی اموات یا کسی کے گھر شادی وغیرہ کے مواقع آتے ہیں تو لوگ پانی کی بوند بوند کے لیے ترستے ہیں ۔انہوں نے بتایاکہ کچھ ایسے ملازمین تعینات کئے گئے ہیں جنہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ باربار مشین خراب ہونے کی وجہ کیا ہے؟
اس ضمن میں محکمہ جل شکتی ،پونچھ کے ایگزیکٹوانجینیرسدھیر سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایاکہ میں بیماری کے باعث چھٹی پر ہوں تاہم انہوں نے جیونئر انجینئر سے بات کر کے بتایاکہ جے ای کے مطابق لفٹ اسکیم میںپہلے بیرنگ کی خرابی تھی تاہم ابھی موٹر کا پنکھا خراب ہے جس جلد مرمت کرکے موٹر کو پانی کے لیے فعال بنایا جائے گا۔جب اس ضمن میں محکمہ جل شکتی کے دیگرجے ای امتیاز سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ دور حاضرہ میں الگ قسم کی موٹریں آتی ہیں جس کی اگر کوئی چیز خراب ہو جائے تو مرمت کے لیے اس کا سیمپل بھیجنا پڑتا ہے تب جاکر اس کی وہ خراب چیز مل سکتی ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ کوئی بھی آدمی یہ نہیں چاہتا کہ مشین خراب ہو اور نا ہی جان بوجھ کر خراب کی جاتی ہے۔موصوف نے کہاکہ مشینری قدرتی طور جب خراب ہوجاتی ہے پھر اس کومرمت کرواکر ہی پانی کی دستیابی کے لیے فعال بنایا جاتاہے۔ انہوں نے کہاکہ اس سے قبل موٹر کی بیرنگ خراب تھی جسے مرمت کروایا جا چکاہے اور اب پنکھے میں خرابی ہے جسے بہت جلد مرمت کرواکر عوام تک پانی پہنچایاجائے گا۔لیکن یہ کب تک ممکن ہوگا اس کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں ہے۔
قارئین اب دیکھنا یہ ہے کہ محکمہ آخر کب تک اس مشین کا پنکھا ٹھیک کرواکر پانی کیلئے ترس رہی عوام کو یہ بنیادی ضرور ت فراہم کر وایگا۔ سرکار نے 2022ء؁ تک ہر گھر میں نل کا پانی فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہوا ہے۔لیکن مقصد صرف ہدف کا پورا ہونا نہیں ہے بلکہ لوگوں تک بنیادی ضروریات کی دستیابی اہم ہونی چاہئے۔اس وقت پیاسی عوام کو موٹر ٹھیک ہونے کا انتظار ہے۔
(پٹھانہ تیر، پونچھ)
 
 

تازہ ترین