تازہ ترین

آج بھی علم کی ضرورت ہے!

فکرو فہم

تاریخ    7 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


سید مصطفیٰ احمد
 زندگی میں ہر جگہ علم کی ضرورت ہے۔ کوئی بھی کام ہو، علم کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے۔ دنیا کی مذہبی اور غیر مذہبی کتب میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ عالم ایک اعلیٰ پایہ کا انسان ہوتا ہے۔ علم کی بہت سارے تاویلات ہیں، مگر بنیادی طور پر علم کا مطلب جاننے کے ہیں۔ اسلام میں بھی علم کی فضیلت پر زور دیا ہے ۔ انبیاء کرام میراث میں مال اور دولت چھوڑ نہیں چھوڑتے ہیں بلکہ وہ علم لوگوں کے لئے  چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ ایک عالم کی فضیلت ایک عابد پر بہت زیادہ ہے۔ شہید کا خون اور ایک عالم کی قلم کی سیاحی قیامت کے دن برابر ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ علم کتناضروری ہے۔ 
       مگر آج کے زمانے میں زیادہ تر لوگ علم کے نام پر جہالت سیکھتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے کہا گیا کہ علم کا بنیادی مقصد ہے کہ لوگ اپنے آپ کو پہچانیںاور جس سماج میں وہ رہتے ہیں اس کو بھی جانیں۔ لیکن ہمارے سماج میںان باتوںکے بالکل برعکس چیزیں پائی جاتی ہیں۔ اگر کوئی کچھ ڈگریاں حاصل کرتا ہے تو وہ دوسرے لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اپنے علم کو صرف پیسے کمانے کا ذریعہ بنانا ہی ہمارے سماج میں عام چلن ہے۔ اس کے علاوہ علم کو جھگڑے کا باعث بنانابھی عام سا ہوگیا ہے۔ جب ناقص اور ایک طرفہ علم بولا جاتا ہے، تو اس کا سیدھا سادہ مطلب لڑائی اور جھگڑوں کی شکل میں نکل آتا ہے۔ اس کے علاوہ جب کس کا علم باعث شہرت بنتا ہے، تب وہ علم ہرکس و ناکس کے لئے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوجاتا ہے۔ جب علم والے کے دل میں نام اور شہرت کی اُمنگیں جاگنے لگتی ہیں، تب معاشرہ بھی برائیوںکی طرف گامزن ہوجاتا ہے۔  
     حالانکہ یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے تھی کہ علم کے حصول کے لئے لوگوں نے کتنی قربانیاں پیش کیںاور پھر علم پھیلانے یا اسے فروغ دینےکے لئےیا پھر سچا علم بانٹنےکے لئےکتنےسارے عالموں کو  بڑی بڑی قربانیاں دینا پڑیں یہاں تک کہ حق کی تعلیم دینے والوںکو موت کےمنہ میں بھی جانا پڑاہے،انہیں بھوک، پیاس اور رسوائی کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ نہ صرف وقت وقت کے حکمران ان کے خلاف ہورہے تھے بلکہ سماج بھی ان کی مخالفت ہوتی رہیں، مگر پھر بھی وہ اپنےاس کام میں برابر ڈٹے رہتےتا کہ علم کا نور دور دور تک پھیلے۔ علم اللہ کی خوشنودی کا وسیلہ ہےاور سچے علم والے لوگوں کے طعنوں اور گالیوں کو سہہ کراپنے میراثِ انبیاء کو آگے بڑھاتے رہے۔ کھبی حکمرانوں کی زیادتیوں کا شکار ہوئے اور کبھی جاہلیت میں گرفتار سماج کا نشانہ بنتے رہے۔ انہوں نے پیسوں کے لئے علم کو حاصل نہیں کیا تھا۔ بلکہ وہ لوگ تو علم کے لئے جان دینے کو بھی تیار رہتے تھے۔ یہ ان کے لئے شہید ہونے کے برابر تھا۔  
        اب موجودہ زمانے میں علم کو ایک عبادت برقرار رکھنے کے لئے بہت ساری چیزوں کی ضرورت ہے۔ پہلا ہے کہ ہم لوگ وہ علم حاصل کرے، جو فائدہ مند ہو۔ جس علم سے اللہ ملے، وہ علم اصلی علم ہے۔ جس علم سے دوسروں کو فائدہ پہنچے، وہ علم باعث ِ رحمت ہے۔ اس کے علاوہ جس علم سے بیماریوں کا علاج ہوسکے، پریشانیاں کم ہوجائیں، اخلاقی نشوونما ہوجائے،لوگوں کو جینے کا ایک معقول سلیقہ معلوم آجائےوہی علم عزت کا باعث ہے۔ اگر کوئی لاعلم کسی چیز ، کسی بات،کسی معاملے یا کسی مسئلے کے متعلق کچھ نہیں جانتا ہے، تو اس کو وہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ علم والے کو سب کچھ معلوم ہو ،وہ بھی مختلف معاملوں، مختلف مسئلوں ،مختلف باتوں اور مختلف چیزوں سے بے خبر ہوسکتا ہے۔ یہ کوئی بے عزتی کی بات نہیں ہے کہ ایسا علم والا پھر سے سیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ سیکھ کر پھر سے سیکھنا ہی علم کا نام ہے اور مرتے دَم تک انسان کو کچھ نہ کچھ سیکھنا پڑتا ہے۔ ایک انسان اپنی زندگی میں جتنی بھی باتیں سیکھتا ہے، ان کو پھر سے سیکھنا اور سیکھنے کے بعد ان کا معائنہ کرنا ہی علم ہوتا ہے۔ علماء کی قدر کرنا بھی ہماری لغات میں شامل ہونا چاہیے۔ ہم انجانے میں اُن کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی اہمیت کم تو نہیں ہوتی البتہ ہم لوگ ہی جہالت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اور سب سے زیادہ ضروری چیز ایک انسان کے لئے جو ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ سے دعا مانگتا رہےکہ اے اللہ! میرے لئے علم کے دروازے کھول دے۔ جہالت سے مجھے دور رکھ۔ مجھ میں عاجزی اور سادگی عطا کر۔ مجھ کو علم نافعا عطا کر، جس سے میں انسان ہی رہو، شیطان اور خدا بننے کی کوشش نہ کرو۔ 
      آیئے ہم عہد کریں کہ ہم علم کو نور کی طرح پیش کرنے کی بھر پور کوشش کریں۔ خود کو بھی اور آنے والی نسلوں کو بھی علم کے نور سے آراستہ کرانے کی پوری پوری کوشش کریں۔ اوروں کو بھی اس نیک کام کا حصہ بنانے میں پیش پیش رہیں۔ موجودہ ٹیکنالوجی کا بھی فائدہ اٹھا کر دوسروں تک علمی باتیں پہنچانے کی تگ و دَو کریں۔ ساتھ ہی ساتھ دوسری غیر ضروری کاموں پر پیسے خرچ کرنے سے بہتر ہے کہ علم کے فروغ پر پیسہ خرچ کریں۔ فضول رسموں سے پرہیز کر کے ہم بہت ساری دولت اس کار خیر کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس سے آنے والی نسل خوشحالی کی زندگی گزار سکتی ہے۔ تہذیب یافتہ ممالک علم کی راہوں میں خرچ کرتے ہیں۔ آیئے! ہم اُن ہی کی طرح علم کو عام کریں اور جہالت کو دور بھگائیں۔ 
تعلیم کی اہمیت کسی بھی ذی شعور سے مخفی نہیں ہے ۔ ہر مسلمان مرد اور عورت پر بنیادی دین کی تعلیم حاصل کرنا فرض ہے۔ اس کے بغیر دینی تقاضوں کو پورا نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ارکان اسلام پر بصیرت حاصل کرنا ممکن ہے ۔آج کتنی ہی دختران ملت ہیں ،جنہوں نے عصری تعلیم حاصل کی ہے مگر دینی علم سے نا بلد ہیں،جس کے نتیجے میںہمیں ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑتا ہے، گھر اور خاندان کے ساتھ امت اور معاشرہ بھی متاثر ہورہا ہے ۔ اشد ضرورت ہے کہ اُمت میںاس خلاء کی طرف متوجہ ہوجائیں اور قوم کی بچیوں کو علم دین کے زیور سے آراستہ کیا جائے۔
(حاجی باغ، سرینگر۔مدرس الھدیٰ کوچنگ سنٹر
 مصطفیٰ آباد، عمر آباد، زینہ کوٹ

تازہ ترین