طلبا میں کون سی خصوصیات ہونی چاہئے؟

فکروادراک

تاریخ    7 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


سلیم انور عباس
حصولِ تعلیم کے دوران اچھا پڑھنے کے ساتھ ساتھ مختلف تکنیک سیکھنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے، اسی لیے اساتذہ کرام کو چاہیے کہ اپنے طلبا کو ایسی بنیادی صلاحیتیں بھی سکھائیں جن کا انھیں پیشہ ورانہ زندگی میں فائدہ ہو۔ دیکھا جائے تو ہمارا بنیادی طرزِ تدریس ابھی بھی پرائمری سطح پر طالب علموں کے توجہ دینے اور یاد رکھنے کی مہارت پر منحصر ہے۔ 
تاہم، مستقبل میں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو روایتی صلاحیتوں کے حامل ہونے کے ساتھ ساتھ اختراعی ، موافقت پذیر، فوری سیکھنے والے اور اپنی راہ خود تلاش کرنے والے ہوں۔ آج کے طلباکو اپنے اساتذہ سے بہت زیادہ توقعات ہیں۔ بطور استاد اگر آپ اپنے طلبا کو مستقبل کے لیے تیار کرنا چاہتے ہیں تو کچھ مہارتیں ایسی ہیں جو اس حوالے سے معاون ہیں۔
کمیونیکیشن یا ابلاغ :ہمارے پاس وسیع پیمانے پر ابلاغ کے ذرائع موجودہیں۔ ایک ذاتی خط لکھنے سے لےکر ذاتی بیان لکھنے یا پھر سوشل میڈیا سے لے کر ویڈیو کانفرنسنگ تک اب ہر چیز کا آنا ضروری ہے۔ آپ کے طریقہ ابلاغ یا کمیونیکیشن کی صلاحیت آپ کےبات کرنے یالکھنے کے عمل پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ذمہ دارانہ اظہار کا طریقہ آپ کی شخصیت کی بہتر نمائندگی کرتاہے۔ مؤثر ابلاغ کی مہارتیں زندگی کے کئی پہلوئو ں میں کامیابی کی بنیاد بنتی ہیں۔ بہت سی ملازمتوں کے لیے بہترین کمیونیکیشن کی مہارتیں ضروری ہوتی ہیں اور مؤثر ابلاغ کی صلاحیت رکھنے والے افراد عام طورپر اپنے دوست احباب کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے میں اچھی طرح کامیاب رہتے ہیں۔
تجزیاتی سوچ :تجزیاتی سوچ عملی طور پر انسان کو کسی بھی مسئلے سے نمٹنے کے قابل بناتی ہے۔ جب آپ تجزیاتی طور پر سوچتے ہیں تو آپ موازنہ، مخالفت، اندازہ، ترکیب اور فیصلوں کا اطلاق بغیر کسی نگران (سپروائزر) کے کرسکتے ہیں۔ اس صلاحیت کو پروان چڑھانے میں اساتذہ کو طلبا کی مدد کرنی چاہیے تاکہ وہ عملی فیصلے کرنے میں بھی پُراعتماد ہوں۔
قیادت :ایک اچھا لیڈر وہ ہوتا ہےجو دوسروں کو مشترکہ مقاصد کی طرف راغب کرے اور ان کے حصول کے لیے انھیں ترغیب دے۔ یہ صلاحیت تعاون کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوتی ہے، وہ خود اپنی اور ٹیم ممبران کی کارکردگی پر جوابدہ ہوتاہے۔ زندگی کے کسی بھی شعبے میں اپنی ٹیم کی بہتر انداز میں قیادت کرنے کے لیے آپ کو قائدانہ صلاحیتوں میں مسلسل نکھار لانا ہوگا۔
عوامی تقریر :لوگوں کے درمیان بولنے کی مہارت پر عبور حاصل کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ اچھی تقریر کرنے والے افراد تعداد میں کم ہیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ طلبا کو اپنے ہم جماعتوں کے سامنے بولنے کی مشق کروائیں، یہ ایک بہت ہی مناسب آغاز ہوتا ہے۔ اس سے طلبا کو اپنے خوف پر قابو پانے اور لوگوں سے بات کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔
موافقت :ٹیکنالوجی ہماری زندگی کے مختلف پہلوؤں کو تیز ی سےتبدیل کر رہی ہے۔ لہٰذا، دنیا کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو مسلسل تبدیل ہونے والی ٹیکنالوجی کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔ طلبا کی مؤثر انداز میں جلد سیکھنے کی صلاحیت انھیں بدلتے ہوئے ماحول کے لیے موزوں بنادے گی۔
تخلیقیت :ہر کوئی کسی نہ کسی حد تک تخلیقی ہوتاہے۔ تخلیقیت کسی فرد کو کارآمد اور منفرد حل پیش کرنے میں مدد کرتی ہے۔ آپ کی یہ صلاحیت ہر شخص کو متاثر کرتی ہے۔ تخلیقی سوچ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت سے ہم آہنگ ہوتی ہے، جس کے لئے ایک شخص کو تنقیدی پہلو سے سوچنے اور بہتر سوالات پوچھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ نیز یہ آپ کو اپنے یا دوسروں کے وژن کے مطابق چیلنجز کا سامنا اور انہیں پورا کرنے میں مدد دیتی ہے، پھر آپ کو کوئی آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتا۔
جذباتی ذہانت :یہ ایک معاشرتی قابلیت ہے جو کسی بھی فرد کو اپنے اور دوسروں کے جذبات پر نظر رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ آپ اپنے افعال اور سوچ کی رہنمائی کے لئے جذباتی ذہانت کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ آپ کو ایک متوازن فرد بناتی ہے اور آپ اپنے بنائے ہوئے تعلقات کو برقرار رکھنے کے اہل ہوتے ہیں۔ آپ اپنی اس صلاحیت سے دوسروں کی پریشانیوں کو حل کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔
تعاون :ایک بہتر کلاس روم کے ماحول میں طلبا کے درمیان تعاون کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ یہ چیز طلبا کو پیشہ ورانہ زندگی میں مدد دیتی ہے، بالخصوص جب انھیں اپنی غیرموجودگی میں یا ذاتی طورپر دوسروں کے تعاون کی ضرورت پڑجاتی ہے۔ ویسے بھی کسی شخص کی جذباتی اور ذہنی صحت کے لئے اس کا دوسرے لوگوں کے ساتھ تعاون اور رابطہ ضروری ہے۔ یہ صلاحیت بین الاقوامی سطح پر بھی ہمارے کام آتی ہے کیونکہ دنیا کو رہنے کے قابل بنانے کے لیے ہمارا ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلنا ضروری ہے۔
نتیجہ  :طلبا کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ خود کو دنیا کی موجودہ اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق تیار کریں۔ مندرجہ بالا مہارتوں پر عبور حاصل کرنے سے ہی وہ خود کو اس قابل بنا سکتا ہے۔

تازہ ترین