محبوبہ مفتی کا جنتر منتر پر دھرنا

کشمیرمیں دردوکرب،لوگوں کو بولنے کی اجازت نہیں:

تاریخ    7 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


یو این آئی
نئی دہلی/ پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے پیر کو جنتر منتر پر کشمیر میں نشانہ بناکر قتل اور وادی میں دفعہ 370کی بحالی کی مانگ کو لیکر احتجاجی دھرنا دیا۔انکے ساتھ کئی پارٹی کارکن بھی تھے۔ انہوں نے اپنے مطالبات کو لیکر پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن میں نعرے درج کئے گئے تھے۔محبوبہ مفتی کارکنوں کے ہمراہ کافی دیر تک دھرنے پر تھی جس کے دوران انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ کشمیر کے باشندوں کو ایسا محسو س ہورہا ہے جیسے وہ جیل میں ہیں۔ جیسے ہی باشندے گھر سے باہر نکلتے ہیں انہیں یا تو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے یا گولی مار دی جاتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں کشمیر کے بارے میں بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، اس لئے میں نے دہلی آنے اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف امور  اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ ہم گاندھی کے کشمیر کو گوڈسے کے کشمیر میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔انہوں نے کہاکہ دفعہ 370کو منسوخی کے باوجود اب بھی بڑے پیمانہ پر قتل ہورہے ہیں۔انہوں نے سنیچر کو مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ دفعہ 370کا امن سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لئے اسے بحال کیا جائے ۔ انہوںنے کہاکہ اگست 2019 سے جموں وکشمیر کے لوگوں پر جبر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی انکاؤنٹر ہوتا ہے اور کوئی جنگجو مارا جاتا ہے تو کوئی سوال نہیں کرتا لیکن جب کوئی عام شہری مارا جاتا ہے، تب ہی لوگ باہر آتے ہیں اور سوال پوچھنے لگتے ہیں۔ایک پلے کارڈ اٹھائے ہوئے جس پر لکھا تھا ’’کشمیر درد میں ہے‘‘، محبوبہ مفتی نے کہا، ’’آپ نے دیکھا ہے کہ ناگالینڈ میں کیا ہوا جہاں13  شہریوں کو گولی مار دی گئی۔ فوری طور پر ایف آئی آر درج کر لی گئی ، کشمیر میں ایسا کیوں نہیں ہوتا؟۔انہوںنے کہا کہ کشمیر کی سڑکیں خون سے بھری ہوئی ہیں،کشمیر کی جیلیں بھر گئیں تو انہیں اب ملک کی دیگر ریاستوں کی جیلوں میں بند کیا جا رہا ہے۔محبوبہ مفتی نے مطالبہ کیا کہ 370و35Aکو بحال کیا جائے اور معصوم لوگوں کا خون بہانا بند کیا جائے۔

تازہ ترین