اندھیرا قائم رہے !

محکمہ بجلی کا نیا سرمائی کٹوتی شیڈول جاری، امسال برقی رو کی ریکارڈ آنکھ مچولی رہے گی

تاریخ    7 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


اشفاق سعید

 میٹروالے علاقوں میں .5 4سے 6گھنٹے، بغیر میٹر علاقوں میں 6سے .5 7گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ

 
سرینگر // محکمہ بجلی نے موسم سرما کیلئے کٹوتی شیڈول کو وسیع کردیا ہے اور اس بات کا باضابطہ طور پر عندیہ دیا ہے کہ 2800میگاواٹ کے برعکس وہ صرف 17.50 میگاواٹ ہی بجلی دینے کی پوزیشن میں ہے لہٰذا بھر پور کٹوتی کے بغیر اور کوئی صورت نظر نہیں آتی ہے۔واضح رہے کہ حالیہ ایک ماہ کے دوران تقریباً ہر روز لیفٹیننٹ گورنر کے مشیروں، صوبائی کمشنروں اور انتظامیہ سیکریٹریوں کی سطح پر میٹنگوں کا لگاتار انعقاد کیاجارہا ہے کہ موسم سرما کیلئے بجلی کٹوتی کم سے کم کی جائے لیکن امسال کٹوتی کے جس شیڈول پر عملدرآمد کیا جارہا ہے وہ پچھلے کئی برسوں کے مقابلے میں سب سے بدترین ہے۔پچھلے سال میٹر والے علاقوں میں باری باری ساڑھے 4گھنٹے کی کٹوتی کے پروگرام پر عملدر آمد کیا گیا لیکن امسال اسے 6گھنٹے تک بڑھایا گیا ہے۔اسی طرح پچھکے سال بغیر میٹر علاقوں میں 6گھنٹے کی کٹوتی کی جاتی تھی لیکن اس سال اسے ساڑھے 7گھنٹے تک بڑھایا گیا ہے۔پچھلے مہینے کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹیڈ(KPDCL )نے میٹر والے علاقوں میں 1.5 گھنٹے اور غیر میٹر والے علاقوں میں 3 گھنٹے بجلی کی کٹوتی کے شیڈول کا اعلان کیا تھا لیکن اب کارپوریشن نے لوڈ شیڈنگ کے اوقات میں تقریباً دوگنا اضافہ کر دیا ہے۔ چیف انجینئر اعجاز احمد ڈار کے مطابق ’’ہم نے کچھ فیڈرز کے تحت آنے والے علاقوں میں بجلی کٹوتی شیڈول کا اعلان کیا ہے، جہاں ڈیمانڈ کئی گنا بڑھ گئی ہے،کٹوتی شیڈول میٹر والے علاقوں میں تقریباً 4.5 سے 6 گھنٹے اور غیر میٹر والے علاقوں میں 6 سے 7.5 گھنٹے کا ہوگا‘‘۔ چیف انجینئر نے مزید کہا’’گزشتہ سال کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ توانائی فراہم کرنے کے باوجود بجلی کا غلط استعمال جاری رہنے کی وجہ سے بجلی کٹوتی کرنے پر مجبور ہیں، ہماری غیر محدود طلب 2800 میگاواٹ سے زیادہ ہے جب کہ ہم 1750 میگاواٹ کے قریب بجلی فراہم کر سکتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ سبھی اضلاع کے سپر انٹنڈنٹ الگ الگ شیڈول جاری کر رہے ہیں ۔انکا کہنا تھاکہ بار بار لوگوں سے اپیل کی گئی کہ اگر بجلی کا زیادہ استعمال عقلمندی سے کریں گے تو زیادہ کٹوتی نہیںہوگی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کٹوتی کے اوقات کا انحصار سپلائی پرہے ۔محکمہ بجلی نے  سرینگر میںدریائے جہلم کے دائیں طرف کے علاقوں کیلئے بجلی شیڈول جاری کیا ہے،جس کے تحت ان علاقوں میں ساڑھے 4گھنٹے بجلی بند رہے گی ۔اس شیڈول کو الگ الگ گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور فیڈروں کے حساب سے کٹوتی شیڈول باری باری عمل میں لایا جائے گا ۔معلوم رہے کہ سرما آتے ہی محکمہ بجلی اپنے ہتھیار ڈال دیتا ہے اور رواں سال بھی ایسا ہوا اوربجلی کی گھنٹوں کٹوتی سے نہ صرف عام لوگ بلکہ تاجر بھی پریشانی میں مبتلا ہیں ۔گرمیوں کے موسم میں سرکار یہ دعویٰ کرتی ہے کہ لوگوں کو بلا خلل بجلی فراہم کی جائے گی لیکن جیسے ہی سردیاں شروع ہوتی ہیں تو محکمہ بجلی طویل کٹوتی کرنے پر مجبور کر کے لوگوں کو پریشانیوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ادھر وادی کے کچھ ایک علاقے ایسے ہیں  جہاںبجلی کا کہیں نام ونشان نہیں ہے اور وہاں کے لوگوں کو سرما کے ان ایام میں حالات کے رحم وکرم پر چھوڑا گیا ہے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بجلی حکام کی لاپروہی کا خمیازہ عام لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے اور محکمہ بجلی کے غلط استعمال کی ذمہ داری صارفین پر ڈال کر بجلی منقطع کی جاتی ہے ۔محکمہ بجلی کے ایک اعلیٰ افسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس بار بجلی کی صلاحیت میں قریب 300میگاواٹ کا اضافہ کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی بجلی کی اورلوڈنگ جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں ترسیلی صلاحیت میں اضافہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں پہلی بار 1750 میگاواٹ کا چوٹی کا لوڈ فراہم کیا گیاتھا ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر ڈویژن کے صارفین کے ساتھ  ہمارا لوڈ کا معاہدہ 860 میگاواٹ بجلی کے لیے ہے جبکہ ہم 1700میگاواٹ فراہم کر رہے ہیں اور سردیوں میں غیر محدود طلب 2800 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔
 

تازہ ترین