حقوق انسانی کا عالمی منشور | اسلام کے عطا کردہ بنیادی حقوق

جہاں نُما

تاریخ    7 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


مولانا محمد عبدالحفیظ اسلامی
انسانی حقوق کا متفقہ منشور (United Declaration of Human Rights) اقوام امتحدہ کی تصدیق شدہ دستاویز اورقرارداد ہے جو 10دسمبر1948ء کو پیرس کے مقام پر منظور کی گئی۔ اس قرار داد کے دنیا بھر میںتقریباً 375 زبانوں اور لہجوں میںتراجم شائع کئے جاچکے ہیں جس کی بنیاد پر اس دستاویز کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ تراجم کی حامل دستاویز کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ قرار داد دوسری عالی جنگ عظیم کے فوراً بعد منظر عام پر آیا جس کی رو سے دنیا بھر میں پہلی بار ان تمام انسانی حقوق کے بارے میں اتفاق رائے پیدا کیا گیا جو ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور بلا امتیاز ہر انسان کو فراہم کئے جانے چاہئے۔ اس قرار داد میں کل30 شقیں شامل کی گئی ہیں جو تمام بین الاقوامی معاہدوں ، علاقائی انسانی حقوق کے علاوہ  قومی دستوروں اورقوانین سے اخذ کی گئی ہیں۔ 
محترم قائین! راقم کی تحریر کے دو حصہ ہیں۔ پہلا ’’حقوق انسانی کا عالمی منشور‘‘ دوسرا ’’ اسلام،کے عطا کردہ بنیادی حقوق‘‘۔ بظاہر ان دونوں منشورہائے حقوق انسانی کو بہت اہمیت حاصل ہے اور انسانوں کیلئے ان میں بنیادی آزادیوں پر بہت زوردیا گیا ہے۔ لیکن اس مسئلہ پر دونوں کے زاویہ نظر بنیادی طور پر جدا جدا ہیں، اسلام کا منشور انسانی حقوق بلا کسی ذات پات رنگ ونسل، علاقہ وجغرافیہ، زماں ومکاں یکساں طورپر سارے بندگان خدا کیلئے ہوتا ہے جو یہ سب انسانوں کو خدا کے بندوں کی حیثیت سے عطا کرتا ہے۔ اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو دونوں نقطہ ہائے نظر میں فرق یہ ہے کہ اسلام میں اقتدار اعلیٰ قانون  Supereme Law کا درجہ رکھتے ہیں۔ روئے زمین پر انسان اللہ کا نائب ہے۔ اس طرح اسلامی ریاست میںعوام کلی اقتدار کے مالک نہیں بلکہ وہ اجتماعی طور پر اپنے نمائندوں کے ان اختیارات کے ذریعے جن کی حدود کا تعین خالق کائنات کی طرف سے کیا جاچکا ہے ، حکومتی نظم ونسق چلاتے ہیں۔ اہل ایمان قرآن وسنت کو اپنی ریاست کا سپریم لاء مانتے ہیں اس کے برعکس مغرب کی سیکولر جمہوری ریاستوں میں عوام کو سرچشمہ اقتدار سمجھا جاتا ہے اور ان کے نمائندوں کے وضع کردہ دساتیر کو ملک کا سپریم لا مانا جاتا ہے۔
اس سے قبل کہ ہم اس موضوع پر بحث کو آگے بڑھائیں، حقوق کے لغوی اور اصطلاحی معنی کی وضاحت ضروری ہے۔
حقوق کے لغوی و اصطلاحی معنی اور حقوق انسانی کا جامع تصور کے سلسلہ میں پروفیسر فرید الدین طارق صاحب نے یوںتحریر فرمائی: حقوق عربی میں جمع کا صیغہ ہے جس کا واحد حق ہے جو متعدد معنی کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً موافقت، ہم آہنگی، درست،و اجب، اور مطابقت اور ایسا امر جو ثابت ہوچکا ہو۔ دوسرے الفاظ میں ’’حق ‘‘ وہ ہوتا ہے جو کہ فطرت کے عین مطابق ہو، اورجس کا انکار ممکن نہ ہو، امام راغب الاصفہانی (المتوفی:502) نے بھی یہی معنی بیان کئے ہیں۔
حقوق کے اصطلاحی معنی: اصطلاح میںاس سے مراد وہ ہمہ پہلو واجبات اور ذمہ داریاں ہیں جن کی بجا آوری ہر انسان کیلئے ضروری ہے خواہ ان کا تعلق عقیدہ، نظریہ وایمان سے ہو یا دنیاوی معاملات سے ہو۔ ابن منظور افریقی (المتوفی 5711) لکھتے ہیں:
’’ایسا حکم جو حقیقت حال کے مطابق ہو اس کا اطلاق نظریات وتصورات، مذاہب وادیان پر ہوتا ہے، یہ باطل کی ضد بھی ہے، جس کے معنی درست اور واجب کے ہیں۔‘‘
شریعت میںحق وہی امر کہلائے گا، جس کا اسلامی قانون اقرار و اعتراف کرتا ہو۔ ان تعریفات کے تناظر میںآسان الفاظ میں یہ مفہوم اخذ کیا جاسکتا ہے کہ حقوق اچھی اور بہتر زندگی کی وہ لازمی شرائط ہیں جن کو افراد معاشرہ طلب کرتے ہیں، اور معاشرہ وریاست انہیں تسلیم کرلیتے ہیں اور اجتماعی مفاد کو پیش نظررکھتے ہوئے ہر شہری ان سے یکساں طور پر استفادہ کرسکتا ہے۔
حقوق انسانی کا جامع تصور  :   اسلام حقوق انسانی کے بارے میں ایک جامع تصور و نظریے کا حامل ہے۔ اسلام حقوق کے ساتھ فرائض کو بھی مضبوط کرتا ہے اوران دونوں کو لازم ملزوم قرار دیتا ہے۔ گویا ایک کا فرض دوسرے کا حق اور دوسرے کا فرض پہلے کاحق ہے۔ اگر معاشرے میں افراد کو صرف حقوق ہی حاصل ہوں اور ان پر فرائض عائد نہ ہوں تو وہاں امن وسکون قائم نہیں رہ سکے گا اور اگر صرف فرائض بالجبر عائد کئے جائیں اور حقوق کا نام تک نہ لیا جائے تو افراد معاشرہ کی حیثیت محض غلاموں یا مشینوں جیسی ہوجائے گا۔
معاشرے کی ترقی، یکجہتی اور سیاست کا انحصار فرائض اور حقوق کے مابین توازن اور تناسب پر ہے۔ افراد کی صلاحیتیں صرف حقوق حاصل ہونے سے آشکار ہوسکتی ہیں اور ان کی یہی صلاحیتیں ان کے فرائض کی بہترین طور پر بجاآوری اور معاشرہ کے عروج کے ضامن بنتی ہیں۔ معاشرہ اور ریاست افراد کے حقوق وفرائض کی بجاآوری اور ادائیگی کروانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ حقوق وفرائض کے بغیر افراد اپنی صلاحیتوں کو ظاہر نہیں کرسکتے اوراس طرح وہ اپنی شخصیت کی تکمیل نہیں کرسکتے جو خود ان کیلئے اور معاشرے کیلئے نقصاندہ ہے۔ حقوق وفرائض کے بغیر ایک اچھے اور مثالی معاشرے کے قیام کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا اور تہذیب و ثقافت کا ارتقاءبھی حقوق و فرائض کے بغیر ناممکن ہے۔مغربی انسانی حقوق کا تصور نامکمل ہے اور اس میں زندگی کے تما م پہلوئوں کی وضاحت نہیں ہے، لیکن اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے، جو زندگی کے تمام پہلو پر روشنی ڈالتا ہے اور اصول وضوابط فراہم کرتا ہے۔ اس کی عملی تصویر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے ملتی ہے، جس میں تکریم انسان اور انسان کے نفسیاتی رویے اور انسان کی قومی، تہذیبی، معاشی، معاشرتی ضرورتوں کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔ اسلام نے حقوق کو اتنا لازم قرار دیا کہ جو شخص اس دنیا وی زندگی میں کسی کا حق نہیں دیتا، اسے اخروی زندگی میں اس کا بدلہ چکانا پڑے گا۔ انسانوں کے اندر معاشی مساوات پیدا کرنے کیلئے زکوٰۃ وصدقات اور خیرات کو لازم قرار دیا تاکہ دولت چند لوگوں میں مرتکز نہ ہو کے رہ جائے۔
اس سلسلہ میں قرآن حکیم کی آیات سورہ بقرہ 274'271'261'195 علاوہ ازیں سورہ آ ل عمران 92 اورسورہ الذاریات19 دیکھے جاسکتے ہیں۔ (حوالہ انسانی حقوق کا جدید فلسفہ اسلامی تناظر میںصفحہ42تا43)
جناب صوفی محمد اسلم صاحب اپنے ایک مقالہ میں ، بنیادی انسانی حقوق کے سلسلے میں یوں رقم طراز ہیں: ’’کسی بھی معاشرے کی ترقی کا اندازہ لگانے کیلئے پاسداری، انسانی بنیادی حقوق بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ کسی بھی معاشرہ، ملک کو ترقی یافتہ اور مہذب نہیں کہا جاسکتا جہاں انسانی بنیادی حقوق کا خیال نہ رکھا جاتاہو۔ بنیادی انسانی حقوق وہ حقوق ہیں جو ہمارے پاس صرف اس لیے ہیں کہ ہم بطور انسان دنیا میں موجود ہیں۔ وہ کسی ریاست اورحکومت کی طرف سے نہیں دئیے گئے ہیں بلکہ یہ آفاقی ہیں جو ہم سب کیلئے موروثی ہیں، قومیت، جنس، نسل، رنگ، مذہب، زبان یاکسی اور حیثیت سے بالاتر ہیں۔ انسان کے پیدائش سے لے کر موت تک جو بنیادی حقوق ہیں، ہر شخص ان حقوق کا حقدار ہے، چاہیے وہ جس ملک، شہر اور قوم سے تعلق رکھتا ہو۔ ایک مغربی فلسفی کہتا ہے: حقوق معاشرتی زندگی کے نہایت ضروری لوازمات ہیں جن کے بغیر کوئی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لاسکتا۔ ایک اور مفکر کہتا ہے کہ ایک متوازن زندگی کا قیام اور انسان کی تکمیل کیلئے انسانی بنیادی حقوق ضروری لوازمات کا درجہ رکھتا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق کو کسی شخص تک پہنچنے میں رکاوٹ بننے کا کسی کو بھی حق حاصل نہیں۔جہاں باضابطہ انسانی حقوق کے نظریہ کی بات کی جائے تو اس کے متعلق اختلاف رائے پایا جاتے ہیں۔ جیسے کوئی کہتا ہے کہ ان حقوق کا باضابطہ آغاز یونان سے ہوا ہے۔ کوئی اقوام متحدہ کے منشور انسانی حقوق کے منظوری کے تاریخ کو اس نظریہ کا بنیاد سمجھتے ہیں اور کوئی اسلامی تعلیمات میں بھی انسانی حقوق کی ادائیگی سے متعلق مفصل احکامات کو بنیادی ابتدائی نظریہ سمجھتے ہیں اوربعض کہتے ہیں کہ انسان دنیا میں تشریف لایا اور یہاں معاشرہ تشکیل پایا، جہاں وہ اپنی ضروریات، حقوق اور ذمہ داریوں کے ساتھ زندگی گزارتے رہے۔ ارتقاء انسانی حقوق کو ثابت کرنے کیلئے تحریری منشور کی ضرورت نہیں بلکہ انسان کے روایات، رسم رواج اورثقافت بیان کرتے ہیں کہ انسان کی ابتدائی تاریخ سے ہی یہ بنیادی حقوق اسے حاصل ہیں۔ یہ بات بھی درست ہے کہ ماضی میں اکثر یہ حقوق کسی نہ کسی صورت میں پامال ہوتے رہے ہیں۔ جیسے مشہور فلسفی جین جیکس روسو کہتا ہے کہ انسان آزاد پیدا ہوا ہے مگر آج کل وہ ہر جگہ زنجیروںمیں جکڑا ہوا ہے۔ سیموئل موئن کہتا ہے کہ انسانی حقوق کا تصور شہریت کے جدید احساس کے ساتھ جڑا ہوا ہے، جو پچھلے چند سوسال تک سامنے نہیں آیا۔ بہرحال قبل از دور جدید میں اس سے متعلقہ مثالیں، موجود ہیں البتہ قدیم لوگوں کے پاس آفاقی انسانی حقوق کا جدید دور کی طرح کا تصور نہیں تھا (اقتباس ختم ہوا)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(مضمون جاری ہے،باقی آئندہ شمارے میںملاخطہ کیجئے)
(سینئر کالم نگارو آزاد صحافی۔ فو ن نمبر:9849099228)
 

تازہ ترین