ماسک۔۔۔

شرمندہ ہوکر مُنہ چھپانےکی جدید پردہ

تاریخ    7 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


ملک منظور
کیا زمانہ تھا وہ جب لوگ مفلس تھے لیکن مخلص تھے ۔ اگر چہ وسائل کم‌ اور کچے تھے پر لوگ من کے سچے تھے۔ماحول صاف ستھرا اور پاک تھا ۔نہ دل میں بغض تھا اور نہ ہی دماغ میں شیطانی طرز کا ادراک ۔لوگ خود ایک دوسرے کے خیرخواہ تھے اور قدرت ان پر مہربان ۔میں گھر میں اکثر اپنے والدین کے ساتھ بیٹھ کر ان کے زمانے کی باتیں سنتا رہتا ہوں ۔وہ سننے میں عجیب لگتی ہیں پر اچھی لگتی ہیں ۔ایک دن کووڈ کے خطرات کو مدنظر رکھ کر میں نے والد سے کہا :’’اباجان ماسک لگا کر باہر جایا کرو ‘‘کووڈ نے نہ جانے کتنی قیمتی جانیں تلف کی ہیں ؟
اباجان نے تلخ انداز میں کہا : ’’میں نے ایسا کوئی گناہ نہیں کیا ہے،نہ کسی کی عزت و عفت پر ہاتھ مارا ہے اور نہ ہی کوئی چوری کی ہے،نہ میرے منہ سے شراب کی بدبو آتی ہے اور نہ ہی میں نے کسی کا حق مارا ہےجو میں منہ چھپا کے چلوں ۔‘‘
میں نے حلیمانہ انداز میں سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا: ’’اباجان ایسی بات نہیں ہے ۔ یہ بیماری ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے ۔اس لئے احتیاط ضروری ہے‘‘ ۔
اباجان نے فخریہ انداز میں جواب دیا : ’’ہمارے زمانے میں ایسی بیماریاں نہیں تھیں، حالانکہ لوگوں کے پاس پہننے کو کپڑے اور کھانے کو وافر غذا بھی نہیں تھی ۔کسی کسی کے پاس پاجامہ ہوتا تھا،لیکن کسی کی کیا مجال جو آنکھ اُٹھا کر دیکھے ۔شرم وحیا کا زیور سب کے پاس تھا اور سچائی کا عام رواج ،لوگ غریب تھے لیکن امانت دار تھے ‘‘۔
میں نے سوال کرتے ہوئے پوچھا :’’بیماری کا اس سے کیا تعلق ہے؟ ابا جان‘‘۔
اباجان نے جواباً کہا: ’’تعلق ہے ۔ ہمارے زمانے میں ایڈز جیسی دردناک بیماری نہیں تھی کیونکہ بدکاری نہیں تھی ۔لیکن آج کل کے انسان ہر طرح کی بُرائی میں مبتلا ہیں ۔یہاں تک کہ سارے ماحول کو آلودہ بنایا ہے۔خود ہی اپنی زندگی بگاڑ رہے ہیں ۔تم کہہ رہے ہو بیماری کا اس سے کیا تعلق ہے ؟ آج کل کا انسان خدا بن بیٹھا ہے،لیکن قدرت کے ایک جرثومہ کا مقابلہ نہیں کر پا رہا ہے‘‘ ۔
’’ممی دیکھو ابو سمجھ ہی نہیں رہے ہیں‘‘ ۔میں نے ماں کی مدد لینا‌چاہا۔‌
ممی نے کہا : ’’ابو سچ ہی تو کہہ رہے ہیں،یہ بیماری قدرت کا قہر ہے ۔اگر انسان اپنی من مانیوں سے باز نہ آیا تو پوری کائنات مٹ جائے گی ۔منہ پر ماسک رکھنے سے کیا ہوگا، جب تک آنکھوں پر سے پٹی نہ اُٹھ جائے گی ۔دل سے حسد بغض ، بخل اور کینہ جیسی بیماریاں ختم نہ ہونگی‘‘ ۔
ابا جان نے میری بات کا‌مان رکھتے ہوئے کہا: ’’اچھا لاؤ ایک ماسک !اب آپ کے گناہوں پر شرمندہ ہوکر ہم منہ چھپائیں گے ‘‘۔
 رابطہ ۔کولگام، 9906598163

تازہ ترین