تازہ ترین

دفاع میں شراکت داری کیلئے ہند روس وزرائے خارجہ کی بات چیت

۔ 4دفاعی معاہدوں پر دستخط

تاریخ    7 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


 نئی دہلی//ہندستان اور روس نے پیر کو دفاعی شعبے میں تعاون اور شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے چار سمجھوتوں، معاہدوں اور پروٹوکول پر دستخط کیے ، جس میں فوج کے لیے 6 لاکھ اے کے ۔203 اسالٹ رائفلیں خریدنے کاسودا بھی شامل ہے ۔دفاعی ذرائع نے بتایا کہ ان سمجھوتوں، معاہدوں اور پروٹوکول پر یہاں سشما سوراج بھون میں فوج اور فوجی تکنیکی کمیشن سے متعلق ہندوستان-روس بین الحکومتی کمیشن کی 20ویں میٹنگ کے دوران تبادلہ خیال کیا گیا جس کی صدارت وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے کی۔اس دوران ان سمجھوتوں، معاہدوں اور پروٹوکول پر دستخط بھی کیے گئے ۔ دونوں ممالک کے وزیر سطحی ٹو پلس ٹو مذاکرات وزیر اعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان سالانہ چوٹی کانفرنس سے پہلے ہوئی۔دونوں فریقین نے ملاقات کے بعد کلاشنکوف سیریز کے چھوٹے ہتھیاروں کے معاہدے میں ترمیم کے پروٹوکول پر دستخط کیے ۔ اس معاہدے پر 18 فروری 2019 کو دستخط ہوئے تھے ۔ایک اور اہم فیصلے میں دونوں فریقوں نے انڈو رشین رائفلز پرائیویٹ لمیٹڈ سے چھ لاکھ ایک ہزار 427 اے کے 203 رائفلز کی خریداری کے معاہدے پر دستخط کیے جو کہ دونوں ممالک کا ایک خصوصی ادارہ ہے ۔ 7.63X39ملی میٹر کیلیبر کی یہ رائفلیں امیٹھی کے کوروا میں روسی تعاون سے بنائی جائیں گی۔ اے کے ۔203اسالٹ رائفل 300 میٹر کی دوری تک موثر طریقے سے مار کرتی ہے اور یہ ہلکی، مضبوط اور استعمال میں آسان ہے ۔ اس سے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں فوج کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔اجلاس میں 2021 سے 2031 تک فوجی تکنیکی تعاون سے متعلق پروگرام پر بھی دستخط کیے گئے ۔ ان تینوں پر دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے دستخط کیے ، جب کہ ہندوستان ۔روس بین الحکومتی کمیشن برائے ملٹری اور ملٹری ٹیکنیکل کمیشن کے پروٹوکول پر دونوں ممالک کے وزرائے دفاع نے دستخط کیے ۔ میٹنگ میں اپنے ابتدائی کلمات میں مسٹر سنگھ نے روس کو ہندوستان کا طویل مدتی خصوصی اور اسٹریٹجک پارٹنر بتایا اور کہا کہ دونوں کے درمیان تعلقات وقت کی آزمائش پر مبنی ہیں اور یہ کثیر جہتی، عالمی امن، خوشحالی، باہمی مفاہمت اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔  وزیر دفاع نے ہندوستان کی مضبوط حمایت کے لیے روس کی ستائش کی اور اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور روس کے درمیان تعاون سے پورے خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام آئے گا۔ دفاعی تعاون کو دوطرفہ شراکت داری کا سب سے اہم ستون قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان-روس بین الحکومتی کمیشن برائے ملٹری اور ملٹری ٹیکنیکل کمیشن دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ دو دہائیوں سے قائم ہے ۔
 

تازہ ترین