کورونا طوفان…| نوخیز نسل کے بچائو کا بندوبست کریں

تاریخ    7 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود ڈاکٹر من سکھ منداویا نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں 50فیصد سے زائد اہل آبادی کی مکمل کووڈ ٹیکہ کاری ہوچکی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ18سال سے اوپر والی آبادی کی نصف تعداد کو کورونا ویکسین کی دونوں خوراکیں دی جاچکی ہیں۔یقینی طورپر یہ ایک اہم سنگ میل ہے اور اس پر ہمیں خوشی کا اظہار کرنا چاہئے تاہم یہ قطعی اطمینان کا موقعہ نہیں ہے کیونکہ پہلے تو عمر اس کے زمرہ کے لوگوں کی باقی بچی پچاس فیصد آبادی کی ٹیکہ کاری مکمل نہیںہوچکی ہے وہیں 18سال سے کم عمر کے نوجوانوں اور بچوں کیلئے کورونا سے تحفظ کا کوئی بندو بست تاحال نہیں کیاگیا ہے جبکہ دوسری جانب صورتحال یہ ہے کہ اومیکرون نامی کورونا وائرس کی ایک اور قسم ملک میں دستک دے چکی ہے اور اس وائرس کے بارے میںیہ بتایا جارہا ہے کہ یہ پرانے اقسام سے زیادہ خطرناک ہے اور اس سے اس وائرس میں مبتلا ہونے کے امکانات تیس فیصد زیادہ ہیں جبکہ بچوں پر یہ زیادہ حملہ آور ہورہا ہے ۔
گزشتہ کچھ عرصہ سے ملکی اور مقامی سطح پر کورونا کے معاملات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو تشویش کا باعث بناہوا ہے ۔حکومت نے دوبارہ تیاریاں کرنا شروع کردی ہیں اور اب ہسپتالوں میں ایک بار پھر کورونا وارڈوں کا قیام عمل میں لاکر آکسیجن کا مناسب بندبست کیاجارہا ہے ۔حکومتی تیاریوں سے لگ رہا ہے کہ حالات اتنے خوشگوار نہیں ہیں اور ویسے بھی کل ہی مرکزی حکومت نے کم از کم چھ ریاستوں بشمول جموںوکشمیر کیلئے کورونا الرٹ جاری کردیا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ یہاں آنے والے دنوں میں صورتحال خراب ہوسکتی ہے اگر پیشگی اقدامات نہیں کئے گئے۔
 کورونا وائرس پر تاحال ہونے والا تحقیقی عمل ہمار ے لئے چشم کشا ہونا چاہئے کیونکہ جموںوکشمیر سمیت ملک میں جہاں18سال سے زائد عمر کے لوگوںکی نصف آبادی کی ٹیکہ کاری مکمل ہونا باقی ہے وہیں 18سال سے کم عمر کے لوگ ،جو ملک کی آبادی کا 45فیصد بنتے ہیں،بالکل ہی ابھی تک حالات اور اس وائرس کے رحم و کرم پر ہیں۔ظاہر ہے کہ آبادی کے اس زمرہ میں ہمارے بچے اور نوجوان آتے ہیں تو اللہ نہ کرے کہ اگر آبادی کا یہ حصہ کورونا کی لپیٹ میں آتا ہے تو ایک بھیانک صورتحال پیدا ہوسکتی ہے اور یوں کورونا وائرس ایک بار پھر ہماری کمیونٹی میں گہرائی تک سرایت کرسکتا ہے ۔مانا کہ فی الوقت کورونا معاملات میں اضافہ کا رجحان کچھ زیادہ نہیں ہے ہے تاہم یہ کوئی مستقل عمل نہیںہے اور آنے والے ایام میں ہمیں کورونا کی ایک اور لہر کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ویسے بھی کورونا کی تیسری لہر کیلئے تیاریا ں زور و شور سے جاری ہیں اور ملک کے چند انتہائی معتبر ترین اداروں نے بھی سائنسی تحقیق اور تخمینوںکی بنیاد پر تیسری لہر کی پیش گوئی کی ہے اور ان پیش گوئیوں اور تخمینوںکے مطابق ممکنہ طور آنے والی یہ تیسری لہر پہلے دو لہروں سے زیادہ خطرناک ہوگی اور اس سے پہلے دو لہروں کے مقابلے میں نہ صرف زیادہ لوگ متاثر ہوسکتے ہیںجبکہ اموات کی شرح بھی زیادہ رہ سکتی ہے ۔
خیر یہ سب ابھی پیش گوئیاں اور تخمینے ہیں جو سائنسی بنیادوںپر کی جارہی ہے ۔ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہمیں تیسری لہر کا سامنا نہ کرناپڑے لیکن عقلمندی اسی میں ہے کہ ہم تیسری لہر کیلئے تیار رہیں اور اس کیلئے سب سے بڑی تیاری یہی ہے کہ ہم سب کووڈویکسین کی خوراک لیں تاکہ تیسری لہر کے آتے آتے ہم نے اپنی حفاظت کا بندو بست کررکھا ہو۔ایسا نہ ہو کہ ہم اس وقت ویکسین سے دور بھاگیں اور پھر جب تیسری لہر آئے تو ہم بے سرو سامانی کی حالت میں ہوں اور ہم اس کا شکار ہوجائیں۔ اسی لئے ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اولین فرصت میں کورونا ویکسین کی دونوں خوراکیں لیں اور اپنے ساتھ اپنے سبھی اہل خانہ کو بھی یہ ٹیکے لگوائیں تاکہ پوری کمیونٹی میں صد فیصد کووڈ ٹیکہ کاری کا ہدف یقینی بنایا جاسکے ۔
یہاں سرکار پر بھی یہ ذمہ اری عائد ہوتی ہے کہ وہ جہاں 18سال سے اوپر کی عمر کے سبھی لوگوں کیلئے ویکسین کا بندو بست کرے وہیں اٹھارہ برس سے نیچے ہمار ی نوخیز پود کی حفاظت کا بھی بندو بست کیاجائے ۔ظاہر ہے کہ ہم اپنی اس وسیع آبادی کو تحفظ کے بغیر نہیں چھوڑ سکتے ہیں اور ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ یہ ویکسین آبادی کے اس حصہ تک بھی پہنچے کیونکہ اس میں بچوں اور کم سن لڑکوںکی کثرت ہے جو ہمارا کل ہیں اور اس سماج کا مستقبل اسی پود سے وابستہ ہے ۔انہیں ویکسین کے بغیر چھوڑ کر ہم اس آبادی کو خطرے سے دوچار کررہے ہیں اور پہلی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ جہاں ہم نوجوانوں اور بزرگوںکی ٹیکہ کاری یقینی بنارہے ہیںوہیں ہم کمسن لڑکوں اور ان بچوں کی ٹیکہ کاری بھی یقینی بنائیں تاکہ پوری آبادی کی ٹیکہ کاری کا حقیقی ہدف حاصل کیاجاسکے جس کے بعد ہمیں کورونا سے گھبرانے کی چنداں ضرورت نہیں ہوگی اور ہم اپنے معمولات حسب سابق جاری رکھ سکتے ہیں۔
اُس وقت تک ہمیں چاہئے کہ ہم احتیاط کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دیں اور اپنے معمولات کی ادائیگی کے دوران تمام احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا رہیں کیونکہ یہ نظر نہ آنے والا دشمن کبھی بھی ہم پر غالب آسکتا ہے اور ہمیں خبر تک نہ ہوگی ۔اسی لئے بہتر ہے کہ پوری آبادی کی صد فیصد ٹیکہ کاری تک کورونا مناسب برتائو کے ساتھ ہی زندگی گزاریں اور کورونا کے ساتھ ہی جئیں تاکہ ہم اور ہمارے اہل خانہ محفوظ رہ سکیں جو پھر پورے سماج اور قوم کی حفاظت پر منتج ہوسکتا ہے۔
 

تازہ ترین