جنوری میں آسکتی ہے کورونا کی تیسری لہر،

سخت لاک ڈائون کے بجائے احتیا ط برتنا ضروری :اگروال

تاریخ    6 دسمبر 2021 (09 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک 
نئی دہلی //ملک میں کورونا وائرس کے ’اومیکرون‘ ویرینٹ کے کیسیز کے بڑھنے کے بعد اب تیسری لہر کا بھی اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ آئی آئی ٹی کانپور کے پروفیسر منیندر اگروال نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں کوویڈ-19 کی تیسری لہر کی شروعات جنوری 2022 میں ہوسکتی ہے۔ انہوں نے ساوتھ افریقہ اور دوسرے ملکوں کے اعدادوشمار پر اسٹڈی کرنے کے بعد کہا ہے کہ اومیکرون ڈیلٹا ویرینٹ کے مقابلے دوگنا تیزی سے پھیلتا ہے، اس لئے پابندی لگا کر کیس کی تعداد کو کم کیا جاسکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) نے اومیکرون کو ’تشویشناک ویرینٹ‘ کی کیٹگری میں رکھا ہے۔پروفیسر اگروال نے ایک انٹرویو میں یہ بھی کہا ہے کہ فروری تک اس کے شدت پر ہونے کے امکانات ہیں اور اس دوران انفیکشن کے روانہ کیسیز دیڑھ لاکھ تک آسکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ساوتھ افریقہ میں امیکرون ویرینٹ کچھ مہینے پہلے ہی آچکا تھا، لیکن یہ دھیرے دھیرے پھیل رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ’’اس کے پیچھے کی وجہ یہ تھی کہ وہاں 80 فیصدی سے زیادہ لوگوں میں کوویڈ کے خلاف نیچرل امیونٹی تیار ہوچکی ہے۔
 
 

ملک میں نصف آبادی کی کووڈ ٹیکہ کاری مکمل

نئی دہلی// (یو این آئی) ملک میں کووڈ ویکسینیشن مہم کے 324 ویں دن تک 50 فیصد سے زیادہ آبادی کو کووڈ ویکسین کی دونوں خوراکیں دی جاچکی ہیں۔صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر منسکھ مانڈویہ نے اتوار کو ایک ٹویٹ میں یہ اطلاع دی۔ انہوں نے کہا  ’’ہم ہوں گے کامیاب۔ ہندوستان کو مبارک  باد۔ یہ ایک قابل فخر لمحہ ہے جب  50 فیصد اہل آبادی کی مکمل طور پر کووڈ ٹیکہ کاری ہوچکی ہے۔ ہم یکجہتی کے ساتھ  کووڈ۔ 19  کے خلاف جنگ جیتیں گے‘‘۔تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، کووڈ ویکسینیشن 128 کروڑ کے قریب پہنچ رہی ہے۔ اس میں سے تقریباً 48 کروڑ لوگوں کو کووڈ ویکسین کی دونوں خوراکیں دی جاچکی ہیں۔
 

تازہ ترین