تازہ ترین

میڈیکل انسٹی ٹیوٹ صورہ کا یوم تاسیس ؔ خطرہ ٹلا نہیں، تحفظِ صحت ترجیح: لیفٹیننٹ گورنر | امسال 7200کرورڑروپے بنیادی ڈھانچے پر خرچ

تاریخ    6 دسمبر 2021 (00 : 12 AM)   


پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سہنا نے کہا کہ کورونا کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے اور انکی انتظامیہ کی پہلی ترجیح لوگوں کا حفظان صحت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر میں  شعبہ صحت میں مزید بہتری لانے کا موقع ملا اور اب سبھی ضلع اسپتالوں میں لوگوں کو معقول طبی سہولیات دستیاب ہیں۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے اور اس سے لڑنے کا واحد راستہ لوگوں میں جانکاری بڑھانا ہے۔شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ کے 39ویں یوم  تاسیس پر آن لائن خطاب میں انہوں نے کہا ’’ہم سب کو پتہ ہے کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے، کورونا وائرس کا نیا ویرینٹ اومیکرون کی بات کی جارہی ہے اورکئی ممالک نے خوف کی وجہ سے سرحدیںبند کردی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس وائرس کا پتہ لگانے کیلئے آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کیا جارہا ہے اور جموں و کشمیر میں یہ سہولیات دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ٹیکہ کاری کے علاوہ ٹیسٹنگ ، ٹریکنگ اور علاج پر بھی توجہ مرکوز رکھنی چاہئے۔ گورنر نے کہا کہ لوگوں میں جانکاری بڑھانے سے ہی اس وائرس سے بھی نپٹا جاسکتا ہے اور سینئر ڈاکٹر اس میں انتظامیہ کی مدد کرسکتے ہیں۔منوج سنہا نے کہا ’’ شعبہ صحت سرکار کی ترجیحات میں شامل ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ شعبہ صحت پر بجٹ کا 5فیصد سے زیادہ رقم خرچ کی جاتی ہے اور موٹے طور پر کہا جائے تو یہ رقم 1456کروڑ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچہ کو مزید مضبوط بنانے کیلئے مختلف پروجیکٹ شروع کئے گئے ہیں  جن پر 7ہزار 200کروڑ روپے خرچ ہورہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ گذشتہ سال بھی جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر 8ہزار 500کروڑ روپے کو صرف کرکے 94بڑے پروجیکٹوں کو مکمل کیا گیا ۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ’’ شعبہ صحت میںجس تیزی اور بڑے پیمانے پر کام ہورہا ہے وہ دائمی ترقی کے مقصد کو پورا کرنے کی کوششوں میں بھی نظر آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال  2014کے بعدجموں و کشمیر کو مضبوط بنیادی ڈھانچہ کھڑا کرنے میں پی ایم ڈی پی اور وزیر اعظم کی مختلف اسکیموں کا بڑا عمل دخل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کیلئے ہی 7نئے میڈیکل کالج، 2ایمز، 2کینسر انسٹی ٹیوٹ اور دیگر سینٹروں، بون انسٹی ٹیوٹ اور دیگر ادارے کا قیام عمل میں لایاجارہا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ 7میڈیکل کالجوں میں 5 شروع ہوگئے ہیں جبکہ 2میڈیکل کالجوں پر ابھی کام جاری ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اونتی پورہ میں ایمز پر بھی کام شروع ہوگیا ہے اور مجھے اُمید ہے کہ آئندہ 2سال میں یہ بھی شروع ہوجائے گا۔ منوج سنہا کا کہنا تھا کہ سال 2020میں وزیر اعظم نے جموں و کشمیر میں آیوش مان بھارت صحت سکیم کا افتتاح کیاجس کے تحت بغیر کسی تفریق کے لوگوں کو 5لاکھ روپے کا بیما فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سکیم کے تحت ابتک 56لاکھ لوگوں کو گولڈن کارڈ فراہم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ1کروڑ 25لاکھ آبادی والے علاقے میں وزیر اعظم نے 10نئے نرسنگ کالج بھی دیئے ہیں۔ منوج سنہا نے کہا ’’ میڈیکل کالجوں میں 1881سیٹوں میں اضافہ کیا گیاہے۔انہوں نے کہا کہ ایم بی بی ایس کی 600سیٹوں کو بڑھا کر ہم نے 1100کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2014کے بعد جو کام ہوئے ہیں ان کے نتائج اب سامنے آنے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ بات آپ کو بتایا چاہتا ہوں کہ سال  2015-2016اور سال  2019-202کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں گے تو چیزیں صاف ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2015-16میں نوازائد بچوں کی موت کی شرح 23.1تھی جو سال 2019-202میں کم ہوکر 9.8فیصد رہی گئی ہے۔ جموں و کشمیر میں کورونا مخالف ٹیکہ کاری پر بات کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ 100فیصد کو پہلا جبکہ ابھی تک 80فیصد آبادی کو دوسرا ڈوز دیا گیا ہے۔