مزید خبریں

تاریخ    5 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک

کووِڈ پر قابو پانے کے اقدامات | لیفٹیننٹ گورنر کاسخت جانچ،روکتھام اورنگرانی پرزور

دہلی//لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جموں و کشمیر میں COVID-19 کی صورتحال کا جائزہ لیا اور ابھرتے ہوئے منظر نامے کے خلاف لاگو کیے جانے والے احتیاطی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔کوویڈ ٹاسک فورس اور ڈی سیز، ایس پیز کی میٹنگوں کی صدارت کرتے ہوئے، لیفٹیننٹ گورنر نے مشاہدہ کیا کہ چونکہ ڈبلیو ایچ او نے اومیکرون کو 'تشویش کا ایک متغیر' قرار دیا ہے، اس لیے صحت کے حکام اور لوگوں کو زیادہ فعال ہونا چاہیے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ زیادہ کیسز کی اطلاع دینے والے علاقوں میں سخت جانچ، روک تھام اور بہتر نگرانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے محکمہ صحت کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ RT-PCR ٹیسٹنگ اور ویکسی نیشن کی مکمل صلاحیت کے استعمال کو یقینی بنائیں۔ڈویژنل کمشنروں کو بیرونی ممالک سے آنے والے مسافروں کی جانچ اور قرنطینہ پر سختی سے عمل درآمد کی تلقین کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے ان سے کہا کہ وہ تمام بین الاقوامی آنے والوں کی نگرانی اور مسافروں کی مناسب جانچ کے لیے نوڈل افسران تعینات کریں۔ڈی سیز کو آگاہی مہم کو تیز کرنے اور کوویڈ پروٹوکول، ماسکنگ اور سماجی دوری پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی گئی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ پی آر آئی کے ممبران کی مدد سے پنچایت سطح پر مناسب بیداری کا اہتمام کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کوویڈ مناسب رویے کو بالکل ضروری اور اہم قرار دیا، خاص طور پر نئے تغیرات کی اطلاعات کے ساتھ۔سی اے بی کی سختی سے پیروی کو یقینی بنانے اور کووڈ پروٹوکول کی خلاف ورزی پر جرمانے عائد کرنے کے لیے سپرنٹنڈنٹس آف پولیس کو بھی ہدایات جاری کی گئیں۔ وویک بھاردواج، ایڈیشنل چیف سکریٹری، ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے کووڈ-19 کی صورتحال کے تجزیہ، ضلع وار خطرے کی سطح، جانچ، کانٹیکٹ ٹریسنگ اور پورے UT میں ویکسینیشن کے علاوہ ویکسینیشن اسٹاک پوزیشن اور RAT کے تناسب کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ 
 
 
 

کل جماعتی میٹنگ میں کئے گئے وعدوں کو پورا کیاجائے |  چناو سے قبل ریاستی درجہ کی بحالی ناگزیر:آزاد

یواین آئی
جموں// کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے مرکزی حکومت پر زور دیا ہے کہ آل پارٹی میٹنگ کے دوران کئے گئے وعدوں پر فوری طورپر عملدرآمد ہونا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ سٹیٹ ہڈ کی بحالی کے بعد ہی جموں وکشمیر میں چناو کرانے کا فیصلہ لیا جانا چاہئے اورا س میں اب زیادہ دیری نہیں ہونی چاہئے ۔ان باتوں کا اظہار موصوف نے رام بن میں عوامی جلسے سے خطاب کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کیا۔غلام نبی آزاد نے کہا کہ آل پارٹی میٹنگ سے قبل بطور راجیہ سبھا لیڈر وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات کی اور جموں وکشمیر کی صورتحال پر اُن سے تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ بطور راجیہ سبھا ممبر وزیر اعظم پر زور دیا کہ جموں وکشمیر میں سٹیٹ ہڈ کی بحالی کے بعد الیکشن ہونے چاہئے ۔ آزاد کے مطابق آل پارٹی میٹنگ کے دوران بھی سبھی سیاسی پارٹیوں نے سٹیٹ ہڈ کی بحالی اور چناو کا مسئلہ اُٹھایا اور اُس وقت وزیر اعظم نے سیاسی پارٹیوں کے لیڈران کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ بہت جلد ان وعدوں کو پورا کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کافی عرصہ ہونے کے باوجود بھی آل پارٹی میٹنگ کے دوران کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا ہے جو بدقسمتی ہے ۔غلام نبی آزاد کا مزید کہنا تھا کہ کل جماعتی میٹنگ کے دوران سبھی سیاسی پارٹیوں کے درمیان سٹیٹ ہڈ کی بحالی پر اتفاق رائے ہوا تھا۔انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جموں وکشمیر کو سٹیٹ ہڈ کا درجہ بحال کرنے کے بعد ہی چناو ہونے چاہئے ۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ حد بندی کمیشن کو بھی جلد ازجلد اپنی رپورٹ مرکز کو پیش کرنی چاہئے تاکہ چناو کیلئے راہ ہموار ہو سکے ۔آزاد نے کہا کہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو اس وقت گونا گوں مصائب و مشکلات کا سامنا ہے ، بے روزگاری نے سنگین رخ اختیار کیا ہوا ہے اور اس حوالے سے مرکزی حکومت کی جانب سے کوئی قدم نہیں اُٹھایا جارہا ہے ۔کانگریس کے سینئر لیڈر نے بتایا کہ جموں وکشمیر کے لوگوں کا دشمن غریبی اور بے روزگاری ہے جس کیلئے ہم سب کو جہاد لڑنے کی ضرورت ہے ۔عمر عبدا ﷲ کی جانب سے دئے گئے بیان پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں آزاد نے کہا کہ میں کسی بھی پارٹی کو اپنا حریف نہیں سمجھتا ہوں۔
 
 
 
 

’نیا کشمیر‘ کی تشہیر میں کوئی صداقت نہیں: محبوبہ 

آج آئین کی بات کرنے والوں کو ’’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘‘قرار دیا جاتا ہے

   نئی دہلی// پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے کل مرکز پر جموں و کشمیر کو "پرامن" کے طور پر پیش کرنے کا الزام لگایا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ سڑکوں پر خون بہایا جا رہا ہے اور لوگوں کو اظہار خیال کرنے پر دہشت گردمخالف قوانین کے ذریعے تھپڑ مارا جا رہا ہے۔ "نیا کشمیر" کے بارے میں یہاں آج تک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے، محبوبہمفتینے کہا کہ ان کے والدمرحوم  مفتی محمد سعید نے 2014 میں بی جے پی کے ساتھ صرف اس لیے معاہدہ کیا تھا کہ وہ ریاست میں امن کی نئی حکومت کا آغاز کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا، "میرے والد نے پہلے اٹل بہاری واجپائی جیسے سیاستدان کو دیکھا تھا اور انہیں امید تھی کہ بی جے پی کی نئی حکومت اسی نظریے پر کام کرے گی‘‘۔انہوں نے "نیا کشمیر" کی اصطلاح کے استعمال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ "جس نئے کشمیر کی تشہیر کی جا رہی ہے وہ حقیقت نہیں ہے۔ آج ایک 18 ماہ کی بچی اپنے والد کی لاش لینے کے لیے احتجاج پر بیٹھی ہے جس کا  سیکورٹی فورسز نے قتل کیا تھا‘‘۔انہوں نے پوچھا’’آج ایک کشمیری پنڈت کو دن دیہاڑے قتل کر دیا گیا، سڑک ایک بہاری آدمی کے خون سے رنگی ہوئی ہے اور ہم اسے نیا کشمیر کہتے ہیں؟ کیا ہم نے لفظ 'نیا کشمیر' سے یہی اندازہ لگایا تھا؟ ہر جگہ صورت حال کابہتر اندازہ لگایا جا رہا ہے۔،، پھر نیم فوجی دستوں کی تعداد میں اضافہ کیوں کیا گیا، تازہ بنکر بنائے گئے،۔انہوں نے مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا'نیا کشمیر' کو بھول جائیں اور آئیے 'نیا ہندوستان' کے بارے میں بات کریں… نئے ہندوستان میں، آئین کے بارے میں بات کرنے والے کو 'ٹکڑے ٹکڑے گینگ' کا لیبل لگا دیا جاتا ہے، اقلیتیں چاہے سڑک کے کنارے یا فلم اسٹار کیوں نہ ہوں، کسانوں (زرعی قوانین کی) منسوخی کا مطالبہ کرنے والے پر خالصتانی کا لیبل لگا کر UAPA کے تحت مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا’’یہ نیا ہندوستان ہوسکتا ہے لیکن یہ میرے (مہاتما) گاندھی کا نہیں ہے۔ لگتا ہے یہ (ناتھورام) گوڈسے کا ہندوستان ہے اور جو وہ بنا رہے ہیں وہ گوڈسے کا کشمیر ہے جہاں لوگوں کو بات کرنے کی اجازت نہیں ہے اور یہاں تک کہ، میں ہفتے میں کم از کم دو دن گھر میں نظربند رہتی ہوں‘‘۔ایک سوال کے جواب میں کہ دفعہ 370 کی منسوخی سے کیا فرق پڑا، انہوں نے کہا، "ہمارے ساتھ سب سے پہلے دھوکہ کیا گیا ہے، اگر یہ ضمانت تھی تو اسے (منسوخ) کیوں کیا گیا؟ بہت سی ریاستیں ایسی ہیں جو باہر کے لوگوں کو اجازت نہیں دیتیں۔ زمین خریدیں یا اپنے لوگوں کے لیے روزگار کو یقینی بنائیں، اگر اس سے کوئی مسئلہ نہیں تو پھر صرف کشمیر کو کیوں الگ کیا جائے؟۔انہوں نے خبردار کیا کہ کشمیر میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اسے باقی ملک میں بھی دہرایا جا سکتا ہے۔ "اگر آج کوئی یہ سوچتا ہے کہ وہ اس قسم کے قوانین سے متاثر نہیں ہوں گے، تو میں آپ کو یاد دلاتی ہوں کہ کشمیر ان کے لیے ایک تجربہ گاہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکز کو جموں و کشمیر میں سیاسی عمل کو جلد از جلد شروع کرنا چاہئے اور بات چیت کا عمل شروع کرنا چاہئے‘‘۔انہوں نے ر مزید کہا کہ وہ سیکورٹی فورسز کے خلاف نہیں ہیں، "حقیقت میں، یہ سیکورٹی فورسز کی محنت ہے کہ ہم نے اس قسم کا امن حاصل کیا ہے جہاں ہم انتخابات کر سکتے تھے۔ تاہم سیاست دانوں کو سیکورٹی فورسز کے کندھے کو معصوم لوگوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔"
 

کینسر کی تشخیص اور علاج کیلئے خصوصی خدمات | میکس اسپتال نئی دہلی نے کرن نگر میں OPDکھولا

سرینگر// بلال فرقانی//میکس سپر اسپشلٹی اسپتال نئی دہلی نے سرینگر کے کرن نگر علاقے میں کینسر کی تشخیص اور علاج کیلئے خصوصی ائو پی ڈی خدمات کا آغاز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سرینگر میں پریس کانفرنس کے دوران میکس کے ذمہ داروں نے کہا کہ یہ او پی ڈی خدمات مہینے میں ایک بار دستیاب ہوں گی جہاں مختلف قسم کے کینسر جیسے سر ،گردن ، چھاتی ، پھیپھڑوں اوراغذائی نالی کے علاوہ معدے کے کینسر اور روبوٹک سرجری کے علاج اور اس سے نجات کے بارے میں مشورے دیئے جائیں گے۔سینئر ڈائریکٹر اور سربراہ، سرجیکل آنکولوجی اینڈ روبوٹک سرجری،میکس سینٹر، نئی دہلی ڈاکٹر سریندر ڈباس نے پریس کانفرنس کے دوران کہا’’اس قسم کے کینسر کا جلد پتہ لگانے سے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جائے گا ۔ان کا کہنا تھا کہ علاج کے ذریعے سازگار نتائج برآمد ہوئے ہیں، اس لئے آگاہی بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے۔ ڈاکٹر سریندر ڈباس نے کہا کہ اس او پی ڈی کے کھلنے سے مقامی باشندوں کو بنیادی مشورے اور ماہرانہ رائے کے لیے طویل سفر نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ انہیں سری نگر میں ہی ماہر ڈاکٹر مل جائیں گے۔اس موقع پر بی ایل کے میکس اسپتال کے دیگر ڈاکٹروں نے بھی بڑھتے ہوئے کیسز اور اس کے جدید طبی طریقوں کی دستیابی سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کینسر کے علاج میں کم سے کم جراحی کے طریقہ کار پر بھی زور دیا جس سے کینسر کے علاج کے شعبے میں نئی کامیابیوں کی راہیں کھلی ہیں۔ڈاکٹر ڈباس نے مزید کہا’جدید ترین روبوٹک سرجری نے کینسر کے علاج کا ایک جدید طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔ڈاکٹر ڈباس کا کہنا تھا’روبوٹک سرجری سے پہلے لیپرواسکوپک سرجری کو کم سے کم سرجری کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، لیکن روبوٹکس کی مدد سے، سرجن اب جراحی اورری ٹریکشن آلات کے ساتھ ساتھ کیمروں کو بھی کنٹرول کرنے کے قابل ہو گئے ہیں، جس سے لیپرواسکوپی کے مقابلے میں سرجری پر ان کے کنٹرول کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔
 

جائیداد پرٹیکس عائد کرنے پر نیشنل کانفرنس برہم | بادامی باغ کنٹونمنٹ بورڈ کاحکم تاناشاہی

سرینگر//بادامی باغ کنٹونمنٹ بورڈ کے حدودمیں آنے والے علاقوں میں رہائش پزیدلوگوں سے بورڈکی طرف سے جائیداد ٹیکس کی ادائیگی سے متعلق وارنٹ جاری کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس نے کہا کہ اس عمل سے کنٹونمنٹ علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں میں بے چینی اور ذہنی اذیت پھیل گئی ہے۔ایک بیان میںنیشنل کانفرنس کے صوبائی نائب صدر کشمیر اور انچارج حلقہ سونہ وار احسان پردیسی نے ہفتے کو پریس کانفرنس کے دوران  وزارت دفاع کے تحت آنے والے علاقوں بٹوارہ، شیو پورہ،یتو محلہ،صدر مارکیٹ،اندرانگر اور سونہ وار میں قائم رہائشی اور تجارتی یونٹوں کی جائیدادوں کو قرق کرنے کی دھمکی پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جاری کردہ حکم نامے کی شدید مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدام سے مقامی لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گا، جبکہ 2014 کے سیلاب اور کووِڈ کی وجہ سے پیدا  معاشی بدحالی کی وجہ سے  پہلی  ہی  لوگ مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔احسان پردیسی نے کہا کہ میں اس حقیقت کا گواہ ہوں کہ کس طرح ان علاقوں کے لوگوں نے 2014 کے بڑے سیلاب کے بعد اپنے اثاثے فروخت کیے اور گھروں کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے اس رقم کو استعمال کیا ،کیونکہ یہ علاقے سیلاب کی بدترین صورتحال سے متاثرہوئے تھے۔ان کا کہنا تھا’’ میںلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا جی سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں ‘‘۔ احسان پردیسی نے کہا لیفٹننٹ گورنر نے پچھلے سال کہا تھا کہ جموں کشمیر انتظامیہ لوگوں پر کوئی پراپرٹی ٹیکس نہیں لگائے گی۔  ان کا کہنا تھاجب پورے جموں و کشمیر میں کوئی بھی ٹیکس ادا نہیں کر رہا ہے تو مخصوص علاقے کو کیوں نشانہ بنایا جارہا ہے؟۔پردیسی نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پہلے ہی وزیر دفاع کو اس امید کے ساتھ خط لکھا ہیں کہ یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ احسان پردیسی نے کہا کہ جب ان آزمائشی اوقات میں مالیاتی ادارے توسیع شدہ معاشی لاک ڈاؤن کی وجہ سے صارفین کے قرضوں کی تشکیل نو کے لیے ہر ممکن مدد کر رہے ہیں تو کوئی کیسے ان آزمائشی اوقات میں لوگوں پر بھاری بوجھ ڈالنے کا سوچا جا سکتا ہے۔
 
 
 

جموں و کشمیر میں لوگ افسرشاہی سے دکھی :کویندر گپتا

 یواین آئی
جموں// بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئرلیڈر اور سابق نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا کا ماننا ہے کہ جموں و کشمیر میں لوگ بیورو کریسی نظام سے ناراض ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر بیوروکریٹس اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لائیں گے تو بہت خرابی ہوسکتی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی نشستوں کی سر نو حد بندی کے فوراً بعد انتخابات ہوں گے اور لوگ اپنے نمائندے منتخب کریں گے ۔موصوف لیڈر نے ان باتوں کا اظہار ایک نیوز چینل کے ساتھ اپنے مختصر انٹرویو کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا، ’’بیورو کریسی میں لوگ بہت دکھی ہیں ان (بیوروکریٹس) کو اپنا طریقہ بدلنا ہوگا نہیں تو ایک ایسا لاوا پھٹنے والا ہے کہ جس سے بہت خرابی ہوگی‘‘۔انہوں نے کہا کہ بیوروکریٹس کسی کے سامنے جواب دہ ہی نہیں ہیں۔ گپتا نے کہا کہ جموں و کشمیر میں اسمبلی نشستوں کی سر نو حد بندی کے فوراً بعد انتخابات منعقد ہوں گے اور لوگ اپنے نمائندے منتخب کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں جو سرکاریں آئی تھیں انہوں نے بڑے بڑے پروجیکٹوں کے صرف اعلانات کئے تھے جنہیں بی جے پی حکومت عملی جامہ پہنا رہی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ غلام نبی آزاد نے اپنی حکومت کے دوران یہاں میڈیکل کالجوں کا صرف اعلان کیا تھا جن کو بی جے پی اب تعمیر کر رہی ہے ۔موصوف سابق نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے دوران جموں وکشمیر میں بڑے بڑے پروجیکٹس وجود میں آ رہے ہیں جن کی نگرانی کے لئے مرکزی وزرا خود دلی سے آتے ہیں۔
 
 
 

کوروناکاقہر

بچوں میں ’اومیکرون‘ پھیلنے کا زیادہ خطرہ ، ٹیکہ کاری لازمی: ڈاک 

سرینگر//ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے کہا ہے کہ جنوبی افریقہ میں دیکھا گیا ہے کہ کووِڈ- 19کی نئی قسم’ اومیکرون‘ سے بچے کافی حد تک متاثر ہوگئے ہیں اس لئے بچوں کی ٹیکہ کاری کی اشدضرورت ہے ۔کووِڈ- 19کے پچھلے اقسام کے مقابلے میں اومیکرون وائرس بہت تیزی سے پھیلتا ہے۔ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیرنے ہفتے کے روز بچوں کو کووڈ -  19 کے خلاف ویکسین دینے کا مطالبہ کیاہے۔ڈاک کے صدر اور انفلوئنزا  ماہر ڈاکٹر نثار الحسن نے کہا، ’’اومیکرون کے نئے اورمختلف قسم کے خطرے کے درمیان بچوں کے لیے کووِڈ ٹیکہ کاری انتہائی اہم ہے۔اب تک کووِڈ نے بچوں میں ہلکی علامات پیدا کی ہیں، لیکن جنوبی افریقہ جہاں  کوروناوائرس نئی ہیت میں نمودارہواہے اور جسے ’ اومیکرون نام دیاگیا ہے، اب غالب ہے، وہاں چھوٹے بچوں کے ہسپتالوں میں داخلے میں اضافہ ہوا ہے۔ڈاک صدر نے کہا کہ ملک میں 5 سال سے کم عمر کے بچوں میں شدید کووِڈ انفیکشن میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔محققین کا خیال ہے کہ بچوں میں ٹیکہ کاری کی کمی ہسپتال میں ان کے داخل ہونے میں اضافے کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ ماضی میں کووڈ وبائی مرض سے بچے زیادہ متاثر نہیں ہوئے تھے۔اب خاص طور پر چھوٹے بچوں میں کووِڈ کیسزمیں ہم تیزی سے اضافہ دیکھ رہے ہیں۔جبکہ زیادہ تر بزرگوں اور بڑوں کو ویکسین لگائی گئی ہے، بچوں کو ابھی تک ویکسینیشن مہم میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وبائی امراض کے دوران بچوں کو بہت زیادہ بوجھ اٹھانے کی اجازت دینا ناانصافی ہے لیکن انہیں اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہ دینا ناانصافی ہے۔ اس دوران ڈاک ترجمان ڈاکٹر ریاض احمد ڈگہ نے کہا کہ بچوں کو ویکسین لگوانے سے وہ کووِڈ لگنے سے بچیں گے اور ان کو شدید بیمار ہونے سے بچانے میں بھی مدد مل سکتی ہے ۔انہوںنے بتایاکہ بچوں کو کلاس رومز میں واپس لانے کے لیے کووِڈ- 19مخالف ویکسین کی ضرورت ہے اور یہ اسکولوں میں محفوظ تعلیمی ماحول کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہے۔اس دوران ڈاک کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر ارشد علی نے کہا کہ بچوں کی ٹیکہ کاری نہ صرف بچوں کی مدد کرے گی بلکہ یہ ہماری آبادی میں کووڈ-19 کو ختم کرنے کی بنیاد ہوگی۔ایسوسی ایشن نے مزید کہا ہے کہ کئی ممالک نے پہلے ہی بچوں کو ویکسین دینا شروع کر دی ہے۔بھارت میں بھی دو دیسی ویکسین ہیں، جو بچوں میں استعمال کے لیے منظور شدہ ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جبکہ ZyCoV-D کو 12-18 سال کی عمر کے بچوں میں ہنگامی طور پر استعمال کی اجازت مل گئی ہے، Covaxin کو اکتوبر میں 2 سے 18 سال کی عمر کے بچوں میں استعمال کرنے کی سفارش کی گئی ہے،اسلئے بچوں کیلئے ٹیکہ کاری شروع کرنے میںکوئی قباحت نہیں ہونی چاہئے۔ 
 
 
 
 

بجلی کا شارٹ سرکٹ  | 2دکانیں جل کر راکھ ہو گئی

جاوید اقبال 
مینڈھر //مینڈھر قصبہ میں آگ کی ایک وار دات کی وجہ سے دو دکانیں جل کر راکھ ہوگئی ۔مقامی ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ روز شام کے وقت بجلی کے شارٹ سرکٹ کی وجہ سے دو دکانیں مکمل جل کر راکھ ہوگئی ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ خاکستر ہونے والی دکانوں میں ایک جوتوں اور ایک ریڈی میڈ ساز و سامان کی دکان شامل ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ آگ اس قدر شدید تھی کہ دونوں دکانیں کچھ ہی مدت میں جل کر راکھ ہوگئی ۔فائر اینڈ ایمر جنسی سروس اور پولیس کی ایک ٹیم مکینوں کے ہمراہ موقعہ پر پہنچی تاہم گور نمنٹ گرلز ہائر سکینڈری سکول کے سامنے دونوں دکانیں جل گئی تاہم مزید نقصان کو بچا لیا گیا ۔مکینوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ نقصان کا تخمینہ لگا کر متاثر ین کو معاوضہ دیا جائے ۔
 
 
 
 

غلام حسن میرکاجموں وکشمیر میں صارف عدالتیں قائم کرنے پرزور | مرکزی انتظامی ٹربیونل کابنچ احاطہ عدالت میں ہوناچاہیے  

جموں//اپنی پارٹی سینئر نائب صدر غلام حسن میر نے حکومت سے گذارش کی ہے کہ جموں وکشمیر میں صارف عدالتیں قائم کی جائیں جوکہ جموںوکشمیر کی تنظیم نو قانون 2019کے بعد موجود ہی نہیں ہیں۔پارٹی دفترمیں لیگل سیل کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے میر نے کہاکہ صارفین کئی قسم کی مشکلات کا شکارہیں کیونکہ جموں وکشمیرکی تنظیم نوکے بعد اُن کے مسائل کو حل کرنے کا کوئی میکانزم موجود نہیں‘‘۔ اس میٹنگ میں پارٹی صوبائی صدر منجیت سنگھ، معاون ترجمان ایڈووکیٹ نرمل کوتوال، لیگل سیل جموں صوبہ صدر وکرم راٹھور، نائب صدر لیگل سیل ذولقرنین شیخ، جنرل سیکریٹری کلدیپ سدن اور سیکریٹری سوریکھا بھٹ نے شرکت کی۔ لیگل سیل اور وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے غلام حسن میر نے کہاکہ حکومت پچھلے دو سالوں سے صارفین کے مسائل کو حل کرنے کے لئے کچھ نہیں کر رہی اور کنزیومر کورٹس ختم کر دیئے گئے ہیں جوکہ پانچ اگست2019سے پہلے موجود تھے۔ لہٰذا صارفین کے فائدے کے لئے دوبارہ سے اِن صارف عدالتوں کو قائم کیاجانا چاہئے۔دریں اثناء انہوں نے جموں اور سرینگر میں سینٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل (CAT)بنچ قائم کرنے کی تعریف کی تاہم مطالبہ کیاکہ کیٹ بنچ کو وکلاء، فریقین مقدمہ کی سہولت کے لئے عدالت احاطہ میں ہی رکھاجا ئے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت جس طرح سرینگر اور جموں میںہائی کورٹ یا ضلع عدالتوں سے کہیں دور CATبنچ قائم کئے گئے ہیں، سے وکلا ء کو کئی قسم کی مشکلات کا سامنا ہے۔ میٹنگ کے دوران وکلاء برادری کو درپیش مشکلات ومسائل پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ اس میٹنگ میں امت شرما، وکرم ٹھاکر،ہریش شرما،، راجندر سنگھ، نکھل نرگوترہ، منمیت سنگھ، رجت شرما، رینوکا بھارتی، کلجیت کور، سیما شرما، صوفیہ چوہدری، دیپک مہاجن، سانزی گپتا، گوروب شرما، علیشا ٹھاکر، سپریہ گندوترہ، آکاش سموترہ، انیل تھاپا، آکاش کمار، اجے شرما، سیمانتکا، روشالی شرما، اور سونیت کور وغیرہ بھی موجود تھیں۔
 
 

محکمہ تعمیرات عامہ کے 3 راشی انجینئرمعطل

سرینگر// حکومت نے ہفتہ کو ادھم پور میں محکمہ تعمیرات عامہ کے تین انجینئروں کو سی بی آئی کی جانب سے ایف آئی آر میں نام آنے کے بعد معطل کر دیا ۔ گورنمنٹ آرڈر نمبر 361-PW(R&B)، میں کہا گیا ہے کہ سپرنٹنڈنگ انجینئر، محکمہ تعمیرات عامہ سرکل ادھمپور انجینئر ہلال احمد شیخ، ٹیکنیکل آفیسر پی کے کول اور جونیئر انجینئر  سنجے کول کو سیول سروسز (درجہ بندی، کنٹرول اور اپیل) ضوابط 1956 کے قاعدہ 31  کی شق(1) کے تحت فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
 

لیفٹیننٹ گورنرکا ریڈیو پروگرام عوام میں مقبول | اننت ناگ کے نوجوان کی تجاویز کا منوج سنہا نے ذکرکیا

جموں//جموں و کشمیر کے لفٹینٹ گورنر منوج سنہا کے ماہانہ ریڈیو ٹاک شو کو لوگوں اور خاص طور پر جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی طرف سے خوب پذیرائی مل رہی ہے۔پروگرام  اس طرح سامعین میں مقبول ہو رہا ہے کیونکہ ان کی تجاویز اور آراء سامعین کیلئے ایک بڑا پلیٹ فارم تلاش کرتے ہیں ۔ بہت سے لوگوں نے خاص طور پر جموں و کشمیر کے نوجوانوں نے پروگرام کے ذریعے اپنی تجاویز پیش کی ہیں اور آخر کار ان کاذکر ایل جی سنہا کے ماہانہ ریڈیو ٹاک ’’ عوام کی آواز ‘‘ میں دیکھنے کو ملا ۔ کشمیر کے جنوبی ضلع اننت ناگ سے تعلق رکھنے والے فیصل یوسف گلکار ان سینکڑوں نوجوانوں میں شامل ہیں جن کی تجاویز کو ایل جی سنہا نے خود تسلیم کیا ۔ گلکار کا خیال ہے کہ اس طرح کے پلیٹ فارم جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو اعتماد دیتے ہیں اور خطے کی بہتری اور ترقی کیلئے کام کرنے کیلئے ہمارے حوصلے کو بڑھاتے ہیں ۔ 21 نومبر کو لفٹینٹ گورنر سنہا نے اس مہینے کے ’’ عوام کی آواز ‘‘ ریڈیو پروگرام کے ایپی سوڈ میں عام لوگوں سے موصول ہونے والی قیمتی بصیرت اور تجاویز کا اظہار کیا تھا ۔ پروگرام کے دوران لفٹینٹ گورنر نے لوگوں سے رابطہ قائم کیا اور اس ماہ کی قسط کو ان تمام شہریوں کیلئے وقف کیا جو معاشرے کی بہتری کیلئے کام کر رہے ہیں اور دوسروں کیلئے رول ماڈل بن کر ابھرے ہیں ۔ خود روز گار کا ماحول پیدا کرنے ، نوجوان اور ہونہار کاروباری افراد کو گیسٹ لیکچرز کیلئے اسکولوں میں مدعو کرنے کے بارے میں گلکار کی جانب سے موصول ہونے والی تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے کہا تھا کہ طلبا کے ساتھ اس طرح کے تعاملات سے کاروباری سرگرمیوں کے جذبے کو تقویت ملے گی ۔ اپنی بصیرت کا ذکر کرنے کیلئے گلکار نے ایل جی سنہا کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے جموں و کشمیر میں انٹر پرنیور شپ کو فروغ دینے کیلئے ان کی تجاویز کو تسلیم کیا ۔
 
 

گورنر انتظامیہ امپاڈ کے ذریعے 4000افسران کی تربیت کرے گی

  سرینگر // جموں وکشمیر حکام انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ پبلک ایڈمنسٹریشن اینڈ رورل ڈیولپمنٹ) IMPARD  (کے ذریعے آئی ٹی آئی ایکٹ سے متعلق 4ہزار سے زائد افسران کی تربیت کرے گی ۔ڈائریکٹر جنرل امپارڈ سوربھ بھگت نے سنیچر کو IMPARD مین کیمپس میں  معلومات کے حق کے تحت سی پی آئی اوزپر ایک روزہ آن لائن ٹریننگ کورس کی افتتاحی تقریب کی صدارت کی جس میں مختلف محکمہ جات کے  فرسٹ اپیلیٹ اتھارٹیز (FAAs)، پبلک انفارمیشن آفیسرز (PIOs) اور اسسٹنٹ پبلک انفارمیشن آفیسرز (APIOs)  نے حصہ لیا ۔ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ ایسے پروگراموں کا انعقاد کرتا رہے گا جو جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں نظم و نسق اور انتظامی مشینری کو بہتر بنانے کے اوزار کے طور پر کام کر ے گا۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ جنرل ایڈمنسٹریشن محکمہ جموں نے 4000 افسران کی فہرست تیار کی ہے جن میں FAAs، PIOs، اور APIOs شامل ہیں، جنہیں RTI ایکٹ 2005 کے تحت تربیت حاصل کرنے کے لیے J&K IMPARD میں تعینات کیا جائے گا۔۔سوربھ بھگت نے اس موقعہ پر کہا کہ شفافیت گڈ گورننس کی بنیاد ہے اور حکام کے پاس شہریوں کو معلومات فراہم کرنا گڈ گورننس پریکٹس کا سب سے اہم حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام لوگوں تک صحیح جانکاری پہنچانے کیلئے آر ٹی آئی ایک شاندار پلیٹ فارم ہے ۔ڈائریکٹر جنرل نے مزید کہا کہ پبلک اتھارٹیز کو آر ٹی آئی درخواست کی مناسب نگرانی کرنی چاہیے۔ انہیں غیر ضروری طور پر معلومات کی تردید کے بہانے تلاش نہیں کرنے چاہئیں۔ انہیں آر ٹی آئی کو بوجھ نہیں سمجھنا چاہئے۔ اس کے بجائے انہیں اس بات کی تعریف کرنی چاہئے کہ آر ٹی آئی ایک بہترین ذریعہ ہے جو ملک کے شہریوں کو بااختیار بناتا ہے اور انہیں انتظامیہ کی ترقی اور امکانات سے آگاہ کرتاہے۔
 

کووِڈ- 19یتیموں کی فروختگی | ملزمان کیخلاف سخت کارروائی کی جائی چاہیے :حکیم

بیچے گئے بچوں کو واپس لایا جائے:اپنی پارٹی

سرینگر//پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے سربراہ حکیم یاسین نے ایک نام نہاد غیر تسلیم شدہ غیرسرکاری تنظیم کی طرف سے کووِڈ- 19 یتیموں کو بیچنے کے انکشاف پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ملزمان کو فوری طور کیفرکردار تک پہنچانے کا پر زور مطالبہ کیا ہے جبکہ اپنی پارٹی نے فروخت کئے گئے بچوں کوواپس لانے کی مانگ کی ہے ۔ پیپلزڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم یاسین نے جموں وکشمیر میں تمام غیر رجسٹرڈ NGOs کو بند کرنے اور دیگر تنظیموں کے کام کاج پر  پر دونوں سول سوسائٹی اور انتظامیہ کی طرف سے گہری نظر گزر رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے تاکہ یتیموں و بیوئواں کی حالت زار کا استحصال نہ ہو پائے ۔ایک بیان میں حکیم یاسین نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا دی جانی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ غیر تسلیم شدہ  نام نہاد غیر سرکاری رضاکارانہ تنظیموں نے کووڈ وبایی بیماری سے یتیم ہویے بچوں کو بیچنے کی گھنائونی حرکت کرکے کشمیریوں کے ناموس اور عزت نفس پر کالا تلک لگایا ہے جس کے لئے ان کو کبھی بھی بخشا نہیں جا سکتا  ۔حکیم یاسین نے حکومت پر زور دیا کہ وہ بچوں کی بہبودی سے متعلق مختلف سرکاری سکیموں کی موثر عمل آوری کے لئے تمام وسائل کو  بروئے کار لائیں اور بچوں کی فلاح وبہبود سے وابستہ رضاکارانہ تنظیموں کے کام کاج پر بھی کڑی نگاہ رکھیں تاکہ یتیموں اور ناداروں کی حالت زار کا استحصال نہ ہو سکے ۔انہوں نے کہا کہ جہاں یتیموں ،بیواوں اور مفلس لوگوں کیلئے بے غرض قابل تحسین خدمات انجام دینے والی تنظیموں کی بھرپور مدد کی جانی چاہیے ،وہیں بد دیانت رضاکارانہ تنظیموں کی نشان دہی کر کے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائی چاہیے۔ادھراپنی پارٹی نے ضلع ترقیاتی کمشنر پلوامہ سے گذارش کی ہے کہ کووِڈ - 19سے فوت ہوئے لوگوں کے بچوں کو فروخت کرنے والے غیرسرکاری تنظیم کے ممبران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔  ایک بیان میں پارٹی کے یوتھ سیکریٹری سلمان بٹ نے کہاکہ یہ انتہائی افسوس ناک اور شرمناک ہے کہ ایک غیر سرکاری فلاحی تنظیم کووِڈ19یتیموں کو فروخت کرتے پکڑی گئی ہے۔ اس سے لوگوں میں گہر ی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جوکہ اب قصور واروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک مثال قائم کی جانی چاہئے تاکہ آئندہ ایسی شرمناک حرکت کرنے کی کوئی بھی نہ سوچے ۔سلمان نے مطالبہ کیا کہ فوری طور اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ حقیقت کا پتہ چل سکے۔ انہوں نے کہا، ’’ایسے بچے بیچنے والے شیطانوں کے ریکٹ کا پردہ فاش کرتے ہوئے انتظامیہ کے لئے یہ ناگزیر بن گیا ہے کہ وہ بے گھر اور باہر فروخت ہونے والے ہر ایک بچے کا پتہ لگائے ۔علاوہ ازیں حکومت اور عوام کو مستقبل میں مزید چوکس رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔‘‘
 
 
 
 
 
 
 
 
 

سکھ ناگ بڈگام میں عوامی دربار

ضلع کے تمام ہسپتالوں کے آڈٹ کیلئے کمیٹی تشکیل: ڈپٹی کمشنر

بڈگام//عوامی رابطہ مہم کو جاری رکھتے ہوئے ضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام شہباز احمد مرزا نے بلاک سکھ ناگ کے گائوں رکھ وچو میں ایک عوامی دربار کا انعقاد کیا۔دن بھر جاری رہنے والے دربار میں مقامی لوگوں کے علاوہ ملحقہ دیہات کے متعدد افراد اور وفود نے بھی شرکت کی۔پروگرام کے دوران ڈپٹی کمشنرنے مقامی لوگوں کی طرف سے انفرادی طور پر اور ڈیپوٹیشن کے ذریعے پیش کیے گئے مسائل اور مطالبات کو نوٹ کیا۔مطالبات زیادہ تر معمول کے تقاضوں پر مبنی تھے جن میں پانی کی فراہمی میں بہتری، پنچایت حلقہ رکھ وچو کا تحصیل بیروہ کے ساتھ انضمام، رکھ وچو سے توسہ میدان تک سڑک کی تعمیر، زبگل سے آریزال تک سڑکوں کو چوڑا اور میکڈم بچھانے کے علاوہ دیگر مسائل شامل تھے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ علاقے کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔انہوںنے سامعین کو یقین دلایا کہ حقیقی شکایات کو جلد از جلد دور کرنے کے لیے ایک تیز رفتار طریقے سے ازالے کا عمل شروع کیا جائے گا۔صفائی پر زور دیتے ہوئے ڈی سی نے پی آر آئی اور آر ڈی ڈی کے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ علاقے کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے باقاعدگی سے صفائی مہم شروع کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پالی تھین بیگ کے استعمال کے ساتھ فضلہ کو سائنسی طریقے سے ٹھکانے لگایا جائے۔انہوں نے سکھ ناگ بلاک میں تمام متعلقہ لائن محکموں کی طرف سے عوامی فلاح و بہبود کے لیے دستیاب اسکیموں اور فوائد کے بارے میں بڑے پیمانے پر بیداری مہم چلانے پر بھی زور دیا۔ اس سلسلے میں ضلع میں باغبانی کا محکمہ اگلے 3دنوں کے اندر علاقے میں ایک بیداری کیمپ کا انعقاد کرے گا۔کچھ اسپتالوں اور پی ایچ سیز میں فرائض میں غفلت اور طبی عملے کی عدم دستیابی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی سی نے ضلع کے تمام طبی اداروں کے افرادی قوت کا دورہ اور آڈٹ کرنے کے لیے اے ڈی ڈی سی اور تمام ایس ڈی ایمز پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت دی۔انہوں نے اے آر ٹی او بڈگام کو علاقے میں کچھ سومو ٹرانسپورٹروں کی طرف سے زائد کرایہ وصول کرنے کے معاملے پر بھی غور کرنے کی ہدایت کی۔شہبازمرزا نے خود روزگار کے اقدامات کی تلاش پر زور دیا اور بے روزگار نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ضلع میں لائن ڈپارٹمنٹس کی طرف سے فراہم کیے جانے والے فوائد سے استفادہ کریں۔ اس سلسلے میں ڈی سی نے بی ڈی او سکھ ناگ کو ہدایت دی کہ وہ نوجوانوں کو ان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے ہاتھ میں رکھیں۔انہوں نے لوگوں کو یقین دلایا کہ علاقے میں فلٹریشن پلانٹ کو 4دنوں کے اندر فعال کر دیا جائے گا۔
 
 
 

ویری ناگ فیسٹیول ٹورازم پارک میں منعقد 

 سیاحتی ڈھانچے کو بڑھانے کیلئے کوششیں جاری : ڈی سی سنگلا

اننت ناگ//محکمہ سیاحت نے ضلع انتظامیہ اننت ناگ کے تعاون سے ٹورازم پارک ویریناگ میں ایک روزہ فیسٹیول کا انعقاد کیا۔میلے کا افتتاح ڈپٹی کمشنر اننت ناگ ڈاکٹر پیوش سنگلا، ڈائریکٹر سیاحت جی این ایتو نے مشترکہ طور پر کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ویری ناگ ایک اہم سیاحتی مقام ہے اور اس منزل کو جدید ترین سیاحتی انفراسٹرکچر کے ساتھ بڑھانے کے لیے مسلسل کوششیں کی جارہی ہیں۔ڈاکٹر سنگلا نے کہا کہ اس طرح کے فیسٹیول سیاحوں کی تعداد کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور امید ظاہر کی کہ اس طرح کے مزید میلے ضلع کے دیگر سیاحتی مقامات پر منعقد کیے جائیں گے۔ ڈائریکٹر سیاحت کشمیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ویری ناگ دیگر اہم سیاحتی مقامات کے برابر قدرتی خوبصورتی پیش کرتا ہے۔ انہوں نے سیاحوں سے اپیل کی کہ وہ ویری ناگ کا دورہ کریں اور اس جگہ کے سکون اور مہمان نوازی کا تجربہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ویری ناگ کو وادی کے سیاحتی سرکٹ سے جوڑنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔دن بھر فیسٹیول کے دوران پروگراموں کا انعقاد کیا گیا جیسے سائیکلنگ ایونٹ جس میں ویریناگ کے اسکولی بچوں نے  شرکت کی۔ ریس کا انعقاد ویری ناگ سے ڈورو تک کیا گیا۔ مقامی بچوں کی شرکت کے ساتھ مصوری مقابلہ اور ٹگ آف وار ایونٹ کی ایک اور خاص بات تھی۔اس موقع پر، زراعت، باغبانی، ماہی پروری، آئی سی ڈی ایس، دستکاری وغیرہ سمیت لائن محکموں کی جانب سے مختلف اسٹالز لگائے گئے تھے تاکہ وہ اپنے دستکاری کی نمائش کریں ۔ڈائریکٹر ٹورازم نے حصہ لینے والے فنکاروں اور طلبا کو مبارکباد دی۔ انہوں نے فنکاروں اور بچوں کی اداکاری کو سراہا۔
 
 
 

کولگام میںکووڈ متاثرین کے لواحقین کیلئے 7لاکھ کی امداد منظور

کولگام//ضلع کے 14کووڈ 19متاثرین کے لواحقین کو راحت فراہم کرنے کے لئے ضلع انتظامیہ نے7لاکھ روپے کی امداد منظورکی جس میں 7لاکھ روپئے حکام کی طرف سے دئے گئے ۔متاثرین میں یہ امدادا شفاف تصدیقی عمل کے ذریعے تقسیم کی جائے گی۔ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ سے کہا گیا کہ وہ اس کیلئے یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹ حاصل کرے اور متعلقہ کھاتوں کا آڈٹ کرے۔ضلع ترقیاتی کمشنر کولگام ڈاکٹر بلال محی الدین بٹ نے بتایا کہ کولگام میں کووڈ19سے مرنے والے تمام 86افراد کے لواحقین کو 50000روپے بطور ایکس گریشیا امداد دی جائے گی۔ 
 
 
 

یتیم بچوں کی خریدو فروخت

یتیم ٹرسٹ نے کارروائی کی مانگ کی

سرینگر//جموں کشمیر یتیم ٹرسٹ نے چند یتیم بچوں کو غیر قانونی طور بیرونِ ریاست فروخت کرنے کے معاملہ کو ناقابل معافی جرم قرار دیا۔ایک بیان میں ٹرسٹ کے سرپرست ظہور احمد ٹاک نے کہا کہ ایسی کا رروائیاںنہ صرف قابلِ مذمت اور ملامت ہیں بلکہ ناقابل معافی جرم بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے صاف اور پاکیزہ سماجی کام کرنے والے ادارے بھی بدنامی کے زمرے میں لائے جاسکتے ہیں۔ٹاک کے مطابق جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں سے پُر زور مطالبہ کرتا ہے کہ ایسے سیاہ کارنامے انجام دینے والوں کے خلاف کارروائی کر کے عبرت ناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسی مکروہ حرکات کا مرتکب نہ ہو۔
 
 
 

 ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا پارٹی لیڈر کے انتقال پر اظہارِ تعزیت

 
سرینگر //نیشنل کانفرنس صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی کے بلاک صدرمکہامہ بیروہ ثناء اللہ ڈار کے انتقال پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوگواران کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کی جنت نشینی کیلئے دعا کی۔ انہوں نے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا اور مرحوم کی پارٹی کے تئیں خدمات کو ناقابل فرامو ش قرار دیا۔ پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ، جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، علی محمد ڈار، تنویر صادق، محمد ابراہیم میر، ایڈوکیٹ شوکت احمد میر ، عبدالاحدر ڈار، ڈاکٹر محمد شفیع، سیف الدین بٹ، منظور احمد وانی، غلام نبی بٹ اور دیگر لیڈران نے بھی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی لیڈر عبدالمجید متو نے اُن کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔
 
 
 

شہر خاص میں2مکانات سمیت کئی ڈھانچے منہدم

سرینگر//جے اینڈ کے لیکس کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی نے سعدہ کدل، مرزا باغ نگین، باغوان پورہ لالبازار، فرینڈس کالونی، حبک بٹہ پورہ اور برین کے علاقوں میں انہدامی مہم شروع کی۔اس مہم کے دوران 2 مکانات اور 2دکانوں سمیت کئی ڈھانچے مسمار کئے۔LCMA کے دائرہ اختیار میں اور جھیل میں رہنے والے تمام لوگوں کو ایک بار پھر ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی تعمیرا ت یا تجاوزات سے گریز کریںکیونکہ انفورسمنٹ ونگ غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کرنے کا عمل جاری رکھے گا۔
 
 
 

نیشنل کانفرنس اور اے این سی کا مرحوم شیخ محمد عبداللہ کو سالگرہ پر خراج عقیدت 

سرینگر //نیشنل کانفرنس نے پارٹی کے بانی مرحوم شیخ محمد عبداللہ کی116 ویں سالگرہ پرنے خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی قیادت میں ہی قوم کو شخصی راج سے نجات ملی۔پارٹی کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر اور دیگر رہنمائوں نے کہا کہ مرحوم نے عوام میں عزت نفس اور قومی غیرت اُجاگر کرنے کیلئے اہم ترین کردار ادا کیا۔پارٹی لیڈران نے کہا کہ شیخ محمد عبداللہ نے سماج کے پچھڑے طبقوں اور مفلس ترین لوگوں کیلئے نمایاں کام انجام دئے۔ گوجر بکروال طبقوں کی فلاح وبہبود اور تعمیر وترقی کیلئے خصوصی منصوبے تشکیل دیئے گئے۔ پارٹی لیڈران نے کہا کہ موصوف ہر دلعزیز اور بیباک رہنما تھے، جنہیں اپنے وطن سے بھرپور محبت تھی ۔ وہ ظالم کے بجائے ظلم کے پورے نظام کے خلاف برسرپیکار تھے اور ان کی جدوجہد کا دائرہ تنگ وتاریک نہیں تھا۔ انہوں نے موروثی حکمرانی کے خلاف صف آراء ہوکر نہ صرف وراثتی راج کو اکھاڑ پھینکا بلکہ عوام کو شخصی راج کی صعوبتوں سے نجات دلادی ۔عوامی نیشنل کانفرنس صدر اور شیخ محمد عبداللہ کی بڑی بیٹی بیگم خالدہ شاہ نے اپنے والد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ موصوف کی جدوجہد ایک کھلی کتاب ہے، انہیں ہمیشہ ایک رہنما، استاد، دوست اور فلسفی کے طور پر یاد کیا جائے گا۔ اے این سی صدر نے کہا کہ کسی لیڈر کی طرف سے اپنے لوگوں کے لیے اس طرح کی شراکت کی کوئی مثال نہیں ہے۔خالدہ شاہ نے کہا ’’ یہ ہمارا کام ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ دفعہ 370اور 35اے کے خاتمے کیلئے جدوجہد میں مصروف ہوجائیںاور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کیلئے شیخ محمد عبداللہ کے نامکمل کام کو پورا کیا جائے ۔
 

تازہ ترین