اومیکرون کا خدشہ،ملک میں تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد4 | مرکز کا جموں کشمیر سمیت 6 ریاستوں کو الرٹ جاری

تاریخ    5 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


یو این آئی
نئی دہلی//ملک میں کورونا وائرس کے اومیکرون ویریئنٹ (Omicron Variant) کے معاملے اب سامنے آنے لگے ہیں۔ کرناٹک کے بعد ہفتہ کے روز گجرات کے جام نگر میں بھی اس کے ایک معاملے کی تصدیق ہوئی ہے۔مذکورہ شخص زمباوے سے واپس آیا ہے اور وہ اومیکرون ویرینٹ کا شکار ہوا ہے۔ ادھر ممبئی میں بھی ایک کیس کی نشاندہی ہوئی ہے۔ مہارشٹرا کے محکمہ صحت کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کلیان دومبولی کا ایک شہری نئی دہلی سے ممبئی پہنچ گیا جو جنوبی افریقہ سے واپس آیا تھا۔نئی دہلی ائر پورٹ پر اسکا ٹیسٹ کیا گیا جس کی رپورٹ مثبت آئی ہے۔ابھی تک دنیا کے 58ممالک میں اومیکرون ویرینٹ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ادھر ملک میں اومیکرون ویریئنٹ کے خطرے کو دیکھتے ہوئے مرکزی محکمہ صحت کے سکریٹری نے ہفتہ کو 6 ریاستوں کو خطوط لکھ کر وہاں کی کورونا وائرس انفیکشن کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ساتھ ہی کچھ گائڈ لائنس بھی جاری کی گئی ہیں اور کہا ہے کہ اگر گائڈ لائن پر عمل نہیں کیا گیا تو مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔محکمہ صحت کے سکریٹری نے جن 6 ریاستوں کو خطوط لکھے، ان میں کیرالا، جموں وکشمیر، تمل ناڈو، کرناٹک، اوڈیشہ اور میزورم شامل ہیں۔خط میں سکریٹری  وزارت صحت نے جموں وکشمیر کے چار اضلاع میں کورونا وائرس کے نئے معاملوں کو لے کر تشویش ظاہر کی ہے۔ اس کے علاوہ تمل ناڈو کے تین اضلاع میں بھی کورونا انفیکشن کے کیس بڑھے ہیں۔ ساتھ ہی کرناٹک کے چار اضلاع میں کورونا انفیکشن کے معاملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان ریاستوں میں بڑھتے کورونا وائرس انفیکشن کے معاملے، کورونا انفیکشن کے بڑھتے سرگرم معاملات اور اموات کی بڑھتی شرح پر وزارت صحت نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مرکزی حکومت نے ان ریاستوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ٹیسٹ، ٹریک، ٹریٹ، ٹیکہ کاری کو یقینی بنائیں۔ ساتھ ہی کووڈ کے مناسب طرز عمل  پر نگرانی رکھ سکیں۔ کیرالا میں بڑھتی اموات اور کیسوں کی شرح پر وزارت صحت نے تشویش ظاہر کی ہے۔اوڈیشہ کے 6 اضلاع میں ہفتہ واری معاملے بڑھے ہیں۔ میزورم کے چار اضلاع میں ہفتہ واری معاملے میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 11 میں سے 8 اضلاع میں ہفتہ واری پازیٹیویٹی ریٹ 10 فیصد سے زیادہ ہے۔ اسے لے کر بھی وزارت صحت نے تشویش ظاہر کی ہے۔
 
 
 
 

کووڈ19- :2 دن بعد تعداد پھر 200سے زیادہ  |  کوئی فوتیدگی نہیں، سفر کرنے والے 64مسافر شامل

پرویز احمد 
سرینگر//جموں و کشمیر میں دو دنوں کے بعد روزانہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 200کا ہندسہ پار کر گئی ہے۔ سنیچر کو کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے 50ہزار755 ٹیسٹ کئے گئے جن میں 64مسافروں سمیت مزید 202افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اس سے قبل یکم دستمبر کو کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 234تھی۔ جموں و کشمیر میں متاثرین کی مجموعی تعداد 3لاکھ 37ہزار 616تک پہنچ گئی ہے۔ اس دوران  پچھلے24گھنٹوں میں کورونا وائرس سے کسی کی موت نہیں ہوئی ہے۔ متوفین کی مجموعی تعداد 4479بنی ہوئی ہے۔ جموں و کشمیر میں گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 202افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں جموں میں 88جبکہ کشمیر میں 114افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں ۔ کشمیر میں وائرس سے متاثر ہونے والے 114افراد میں 3بیرون ریاستوں سے سفر کرکے وادی پہنچے جبکہ دیگر 111افراد مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ کشمیر میں مثبت قرار دئے گئے 114افراد میں سب سے زیادہ سرینگر شہر میں 49، بارہمولہ میں18، بڈگام میں 12، پلوامہ میں 6، کپوارہ میں 6،اننت ناگ میں 7، بانڈی پورہ میں 11، گاندربل میں 9 جبکہ کولگام اور شوپیان میں کسی کی رپورٹ مثبت نہیں آئی ہے۔ وادی میں متاثرین کی مجموعی تعداد 2لاکھ 12ہزار 301تک پہنچ گئی ہے۔ اس دوران سنیچر کو کورونا وائرس سے کسی کی موت نہیں ہوئی ہے۔ کشمیر میں متاثرین کی مجموعی تعداد 2294تک پہنچ گئی ہے۔ جموں صوبے کے ادھمپور، کشتواڑ، پونچھ اور رام بن میں کسی کی رپورٹ مثبت نہیں آئی ہے جبکہ دیگر 6اضلاع میں 88افراد کی رپورٹوں کو مثبت قرار دیا گیا ہے۔ جموں صوبے میں مثبت قرار دئے گئے 88افراد میں 61افراد بیرون ریاستوں سے سفر کرکے جموں پہنچے جبکہ دیگر 27افراد مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ جموں صوبے کے 88متاثرین میں جموں میں 15، راجوری میں 4، ڈوڈہ میں 6، کٹھوعہ میں 1، سانبہ میں 1 اور ریاسی میں 61افراد متاثر ہوئے ہیں۔ جموں صوبے میں متاثرین کی مجموعی تعداد 1لاکھ25ہزار 345تک پہنچ گئی ہے۔ جموں صوبے میں مسلسل چوتھے دن بھی کورونا وائرس سے کسی کی موت نہیں ہوئی ہے۔ جموں صوبے میں متوفین کی مجموعی تعداد 2185بنی ہوئی ہے
 
 
 

۔33دنوں میں |  سرگرم معاملات میں90فیصد اضافہ

پرویز احمد 
سرینگر // جموں و کشمیر میں پچھلے ایک ماہ کے دوران سرگرم معاملات کی تعداد میں 90فیصد اضافہ ہوا ہے اور تعداد 1700کا ہندسہ پار کرکے 1731تک پہنچ گئی ہے۔وادی میں 31اکتوبر کو سرگرم معاملات کی تعداد 801تھی جو 34دنوں کے دوران 475 کے اضافہ کے ساتھ1276تک پہنچ گئی ۔ جموں صوبے میں تعداد 101تھی جو 300گنا اضافہ کے ساتھ 455تک پہنچ گئی ۔ وادی میں 31اکتوبر کو سرگرم معاملات کی تعداد صرف 801تھی جو ایک ماہ میں 62فیصد اضافے کیساتھ 1276تک پہنچ گئی ہے۔ان میں سرینگر میں 137، بارہمولہ میں 189، بٖڈگام میں 12، پلوامہ میں 16، کپوارہ میں 40، اننت ناگ میں 2، بانڈی پورہ میں 57، گاندربل میں 39، کولگام میں 10 جبکہ شوپیان میں 2سرگرم معاملات کا اضافہ ہوا ۔31اکتوبر کو جموں صوبے میں سرگرم معاملات کی تعداد صرف 101تھی جو 3دسمبر کو 403تک پہنچ گئی ہے۔ ضلع جموں میں 109، ادھمپور ضلع میں 7، راجوری میں 12، ڈوڈہ میں 5، کٹھوعہ میں 5، سانبہ میں 2، کشتواڑ میں 7 پونچھ میں 1، رام بن میں کوئی نہیں جبکہ ریاسی ضلع میں سرگرم معاملات کی تعداد میں 168افراد سرگرم معاملا ت کا اضافہ ہوا ہے۔  
 

تازہ ترین