تازہ ترین

ہند،روس 21ویں چوٹی کانفرنس کل | مشترکہ دلچسپی کے سیاسی اور دفاعی امور پر تبادلہ خیال ہوگا

تاریخ    5 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


یو این آئی
نئی دہلی//وزیر اعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن پیر کو یہاں کے ہند-روس 21 ویں سالانہ چوٹی کانفرنس حصہ لیں گے اور اسی روز دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع کی پہلی ٹو پلس ٹومیٹنگ بھی منعقد کی جائے گی۔وزارت خارجہ کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف اور وزیر دفاع سرگئی شوئیگو اتوار کی تاخیر شب نئی دہلی پہنچیں گے ۔ مسٹر لاؤروف پیر کو صبح 10.30 بجے سشما سوراج بھون میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کریں گے ۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ مسٹر سرگئی شوئیگو سے ملاقات کریں گے ۔ روسی صدر مسٹر پوتن 6 دسمبر کو دارالحکومت پہنچیں گے ۔ ٹو پلس ٹو میٹنگ کے بعد وہ شام 5.30 بجے حیدرآباد ہاؤس میں وزیر اعظم مودی کے ساتھ ہند-روس سالانہ چوٹی کانفرنس میں شرکت کریں گے ۔ پیر کا دن ہندوستان اور روس کے درمیان خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے لئے خاص ہوگا جب روسی صدر، وزیر خارجہ اور وزیر دفاع نئی دہلی میں ہوں گے ۔ ذرائع کے مطابق ٹو پلس ٹو ملاقات میں مشترکہ دلچسپی کے سیاسی اور دفاعی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
 
 
 

۔5لاکھ رائفلیں بنانے کے منصوبے کو منظوری

نئی دہلی// دفاعی شعبے میں خود انحصاری کو فروغ دینے کی سمت میں ایک بڑا اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے حکومت نے کوروا، امیٹھی، اترپردیش میں واقع روس کی مدد سے پانچ لاکھ اے کے -203 اسالٹ رائفلیں بنانے کے منصوبے کو منظوری دے دی ہے ۔یہ اعلان روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان پیر کو یہاں ہونے والی چوٹی کانفرنس سے دو دن پہلے ہوا ہے ۔حکومت کے اس اقدام کو اتر پردیش میں اگلے سال کے اوائل میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس پروجیکٹ کے شروع ہونے سے ریاست میں روزگار کے مواقع بڑھیں گے ۔فوج گزشتہ تین دہائیوں سے انساس رائفلز کا استعمال کر رہی ہے لیکن اب اسے جلد ہی 7.62 X 39 ملی میٹر کیلیبر کی اے کے -203 رائفل ملنے والی ہے ۔مرکزی کابینہ کی سلامتی امور کی کمیٹی نے بدھ کو ہی اس منصوبہ کو منظوری دے دی تھی۔ اس سے قبل گزشتہ ماہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی صدارت میں ہوئی ڈیفنس ایکوزیشن کونسل کی میٹنگ میں ان رائفلوں کو خریدنے اور ملک میں تیار کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ اس کے لیے روس ٹیکنالوجی منتقل کرے گا۔سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ یہ دفاعی شعبے میں عالمی خریداری کے بجائے میک ان انڈیا پر زور دینے کی عکاسی کرتا ہے ۔ اس کے ساتھ روس کے ساتھ دفاعی شعبے میں ہندوستان کی شراکت داری میں اضافہ کے آثار بھی ہیں۔اس منصوبے سے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کی اکائیوں اور دفاعی صنعتوں کے لیے کاروباری مواقع پیدا ہوں گے جس سے روزگار میں بھی اضافہ ہوگا۔
 

تازہ ترین