تازہ ترین

عالمی یوم معذورین| جموں کشمیر میں جسمانی طور ناخیز افراد کی تعلیم تک رسائی نا ممکن

۔4لاکھ افراد کیلئے صرف1000روپے کی ماہانہ امداد بھیک دینے کے مترادف

تاریخ    4 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// جموں کشمیر میں جسمانی طور پر نا خیز افراد کی تعداد4لاکھ کے قریب ہے،جس میں50فیصد سے کم تعلیم یافتہ ہیں۔ جسمانی طور پر معذور لوگوں کے عالمی دن پر  انکے لئے کہیں سے کوئی روشنی کا چراغ نظر نہیں آرہا ہے۔محکمہ سوشل ویلفیئر کی جانب سے ہر ماہ 1000روپے دینے پر ہی اکتفا کیا جارہا ہے۔ ایک ہزار روپے دینے کی سرکاری مراعات جسمانی طور ناخیز افراد کو بھیک دینا لگ رہی ہے، جو موجودہ دور میں نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ اس معمولی رقم سے انکی کوئی ضروریات پوری نہیں کی جاسکتی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میں 2لاکھ4ہزار834مرد معذور افراد ہیں جن میں سے ایک لاکھ3ہزار730خواندہ ہیں، جن کی شرح50فیصد بنتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خطے میں ایک لاکھ56ہزار319خواتین بھی جسمانی طور پر نا خیز ہیں،جن میں قریب47ہزار239 خواتین تعلیم یافتہ ہیں،اور انکی شرح قریب30فیصد ہے۔ جموں کشمیر میں جسمانی طور ناخیز8ہزار207 مرد گریجویٹ اور3ہزار584خواتین گریجویٹ ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خطے میں27ہزار939بچے بھی جسمانی طور پر نا ٰخیز ہیں۔2011کی مردم شماری میں جسمانی طور پر نا خیز افراد کی تعداد بھی عمل میں لائی گئی تھی۔2001کی مردم شماری کے مطابق جموں کشمیر میں 3لاکھ 2ہزار ، 670افراد جسمانی طور ناخیز تھے۔ یہ تعداد 2011کی مردم شماری میں بڑھ کر 3لاکھ 61ہزار،153تک پہنچ گئی ہے۔ ماہرتعلیم و روزگار ڈاکٹر شبیر احمد راتھر کا کہنا ہے کہ تعلیم، معذور افراد کو بااختیار بنانے کا اہم ذریعہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اول سے لے کر یونیورسٹی سطح تک تعلیمی ادارے ان لوگوں کے لیے ناقابل رسائی ہیں۔ان کہنا ہے’’ سرکاری ہدایات کے باوجود’’ رسائی کی طرف پہلا قدم، یعنی ریمپ، جموں و کشمیر کے تعلیمی اداروں کے داخلی مقامات پر دستیاب نہیں ہیں‘‘۔ ڈاکٹر شبیر کا کہنا تھا کہ بنیادی ڈھانچے اور سیکھنے کے مواد کے لحاظ سے نابینا افراد کی رسائی جموں و کشمیر کے اسکولوںتک نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ’ پی ڈی ایف‘ فارمیٹ کی کتابیں، لیپ ٹاپ اور سمارٹ فون کے ذریعے رسائی کے لیے کتابیں جموں و کشمیر میں بصارت سے محروم بچوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں بصری معذوری کے معاملات میں بریل انسٹرکٹرز اور خصوصی اساتذہ کی کمی ہے۔ جبکہ گوئی اور سماعت کی معذوری کا سامنا کرنے والے بچوں کو زیادہ تر ایسا ہی چھوڑ دیا جاتا ہے کیونکہ جموں و کشمیر میں کوئی تربیت یافتہ اساتذہ دستیاب نہیں ہیں۔ ڈاکٹر شبیر کا کہنا تھا’’تعلیم اور اعلی تعلیم کے محکموں کے پاس مٹھی بھر اساتذہ دستیاب ہیں جبکہ ریسورس ٹیچرز کی تنخواہ بہت کم ہے جس کے نتیجے میں ریسورس ٹیچرز کی ایک اچھی تعداد نے نوکری چھوڑ دی، اور دوسرے محکموں میں کام کرنا شروع کر دیا ہے۔‘‘