ماحولیاتی آلودگی کا تدارُک و سدِباب

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

تاریخ    3 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


مولانا نعمان نعیم
کل کائنات ایک مکمل وحدت ہے، اس میں کارفرما نظام باہم ایک دوسرے سے مربوط اور بندھا ہوا ہے۔اللہ عزوجل نے کائنات کی ہر چیز کی تخلیق میں اس خصوصیت کا بھرپور خیال رکھا ہے کہ وہ چیز انسانی حیات اور انسان کے ساتھ زمین پر رہنے والی زندہ مخلوق کی حیات کے لئے مفید ہو،چناں چہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی تخلیق صحیح متعین مقدارمیں مناسب انداز پر مکمل موزونیت کے ساتھ کی ہے ۔ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے :’’اور ہم نے پر چیز کو اندازے سے پیدا کیا ہے‘‘۔ (سورۃ القمر: ۴۹)نیز اللہ عز وجل کا ارشاد ہے:’’اور ہم نے زمین کو پھیلایا اور اس میں بھاری بھاری پہاڑ ڈال دیے ، اور اس میں ہر قسم کی (ضرورت کی ) نباتی چیز ایک متعین مقدار سے اُگائی‘‘۔(سورۃالحجر: ۱۹)اسلامی تعلیمات اس حقیقت کی مظہر ہیں کہ دینِ فطرت نے ماحولیات کے تحفظ کے حوالے سے خاص تاکید فرمائی ،اسلام نے ایسا نظام اور ایسی ہمہ گیر تعلیمات عطافرمائیں،جن سے طہارت وپاکیزگی اورصحت وصفائی کا شعور اُجاگر ہوا۔
اس کائنات کے وجود اور بقا میں ماحول اور اس کے تحفظ کی بڑی اہمیت ہے،اسی اہمیت کے پیش نظر قدرت نے ہمیں سر سبز وشاداب وادیاں،خوب صورت پہاڑ، گھنے جنگل،دل کش جھرنے، اُبلتے چشمے، بہتی ندیاں اور وسیع سمندر عطا فرمایا ، ان ساری چیزوں کو انسان کے لیے ایسا مسخر کیا کہ وہ جس طرح چاہے، اسے استعمال کرے اور اس کائنات ارضی میں راحت وآرام کے ساتھ زندگی گزارے، ان چیزوں کو قدرتی توازن کا سبب قرار دیا گیا ، لیکن ہم نے اپنی ایجادات سے قدرتی ماحول کو بدلنا شروع کیا، پیڑ کٹنے لگے ، پہاڑ توڑے جانے لگے، سمندر کو پاٹنا شروع کیا اور غلاظت بھری نالیاں ندی کے پاک وصاف پانی میں گرنے لگیں، کار خانوں نے دھوئیں کے غولے فضا میں اڑائے اور اس طرح دیکھتے دیکھتے سارا نقشہ بدلتا چلا گیا ،اس تبدیلی سے فضائی آلودگی پیدا ہوئی اور قدرت کا بخشا ہوا پاکیزہ ماحول اور توازن ختم ہوکر رہ گیا، جس کی وجہ سے آج دنیا پریشان ہے ۔
اسلامی تعلیمات پر غوروفکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کے ماحول کی اہمیت کے پیش نظر اس نے روز اول سے ہی ایسی تعلیم دی ہے، جس سے ماحولیاتی آلودگی سے پاک وصاف معاشرہ تشکیل پاتا ہے ۔ اسلام نے ہر اس چیز سے منع کیا ہے جو ماحول کو آلودہ کرتا ہے اور جس کے منفی نتائج انسان یا کسی مخلوق پر پڑتے ہیں۔ ان چیزوں کی تاکیدی تعلیم دی ہے جو ماحول اور معاشرے کو پاکیزہ اور غیر آلودہ رکھنے کے لئے ضروری ہیں۔
صفائی اور نظافت ، حفظان صحت کے اہم اسباب میں سے ہیں، نیز آلودگی کے خاتمے کے لئے بھی صفائی لاز م ہے۔ اسلام نے اس کی اہمیت کو اتنا بڑھایا کہ اسے مسلمانوں کا شعار اور ان کی پہچان بنادیا اور اس کا ترغیبی وتاکیدی حکم دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :’’بے شک ،اللہ پاک ہے اور پاکیزگی کو پسند کرتا ہے ، صاف ہے اور صفائی کو پسند کرتا ہے ، کریم ہے کرم کو پسند کرتا ہے ، اور سخی ہے سخاوت کو پسند کرتا ہے ، اس لئے تم لوگ اپنے گھروں کو صاف ستھرا رکھا کرو ، اوران یہود کی مشابہت اختیار مت کرو جو اپنے گھروں میں کوڑا کرکٹ جمع کرتے ہیں‘‘۔(مسند ابویعلیٰ )نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادہے :’’جہاں تک تم سے ہوسکے صفائی کرو ، کیونکہ اسلام کی بنیاد صفائی پر ہے اور جنت میں صرف پاک و صاف رہنے والے ہی داخل ہوں گے ‘‘۔(کنز العمال)
اس طرح اسلام نے پاکیزگی اور صفائی کو مومن کی پہچان بناکر ماحولیات کے تحفظ اورگندگی کے ذریعے پیدا ہونے والی ہرقسم کی آلودگی کے خاتمے کی بنیاد رکھ دی، کیونکہ صفائی کسی ماحول کے غیر آلودہ ہونے کے لئے لازم وضروری ہے۔راستوں اور عوامی مقامات کوغلاظتوں سے گنداکرنا بھی آلودگی کے اہم اسباب میں سے ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:تین لعنت کی چیزوں: یعنی پانی لینے کی جگہ پر، سایہ میں (جہاں لوگ بیٹھتے ہوں ) اور راستے میں قضائے حاجت کرنے سے بچو‘‘۔(سنن ابن ماجہ)نیز اگرکسی اور نے یہ غلطی کردی ہے تواس کے خاتمے کے لئے راستوں سے گندی اور تکلیف دہ چیزوں کو صاف کر دینے کو ایمان کا شعبہ بتاکر مسلمانوں کو اس کے صاف کردینے پر آمادہ کیا، تاکہ راستے صاف ہوں ، زمینی اور فضائی آلودگی پیدا نہ ہو۔ 
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :’’جس نے مسلمانوں کی راہ سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹا یا تو اس کے لئے ایک نیکی لکھی جائے گی ، اور جس کی ایک نیکی قبول ہوگئی تو وہ جنت میں داخل ہوگا ‘‘۔(معجم طبرانی کبیر)ایک روایت میں تو اس کا ثواب دس گنا تک بیان کیا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :’’جس نے کسی مریض کی عیادت کی یا اپنے اہل وعیال پر خرچ کیا یا کسی راستےسے تکلیف دہ چیز کو ہٹایا تو اس کی نیکی دس گنا ہے‘‘۔(مصنف ابن ابی شیبہ)
راستے کی صفائی ہی کے حکم میں عوامی مقامات کی صفائی بھی داخل ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان تعلیمات نے ماحول کو گندگی سے بچانے کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اس کی حقیقی فضیلت سناکر لوگوں کواس پر آمادہ کیا، تا کہ ماحول کو پاک وصاف رکھنے کی فکر پیدا ہو اور پھر اس کی وجہ سے ماحول آلودگی سے مکمل پاک ہو۔
راستوں کے ساتھ ساتھ گھریلو ماحول کو صاف رکھنا بھی ماحول کے بہتر ہونے کے لئے ضروری ہے اور راستوں کے بجائے گھر میں غلاظت رکھنا بھی سائنسی تحقیق کے مطابق بہت برا اور نقصان دہ عمل ہے ، سائنسی تحقیق کے وجود سے پہلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :’’گھر میں کسی طشت میں پیشاب نہ رکھا جائے ، کیونکہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں پیشاب ہو ، اور تم ہرگز اپنے غسل خانہ میں پیشاب مت کرو‘‘۔ (معجم اوسط طبرانی)
آبی آلودگی اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل پر روک لگانے اور اس کے سدباب کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی کو گندگی سے آلودہ کرنے سے منع فرمایا۔آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :’’ٹھہرے ہوئے پانی میں کوئی ہرگز پیشاب نہ کرے کہ پھر وہ اسی میں غسل کرے گا‘‘۔(صحیح بخاری)
اسی طرح پانی کو بلاوجہ ضائع کرنے سے بھی آبی آلودگی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں ، اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے اپنی تعلیمات میں صرف بقدر ضرورت پانی کے استعمال کی تاکید کی ، حتیٰ کہ وضو اور غسل کم سے کم پانی میں کرنے کی قولی وعملی تعلیم دی۔ حضرت عبد اللہ بن عمروؓ فرماتے ہیں:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت سعدؓکے پاس سے گزرے اور وہ وضو کررہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کیسا اسراف ہے؟ 
حضرت سعد ؓنے کہا کہ کیا وضو میں بھی اسراف ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں (اس میں بھی اسراف ہے ) اگرچہ کہ تم بہتی ہوئی نہر سے وضو کرو‘‘۔(ابن ماجہ) اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آبی وسائل کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنے محتاط تھے ، آج یہ بات ناقابل تصور سی لگتی ہے۔ آپ ﷺ نے امت کو پانی کے کم سے کم خرچ کرنے کی ایسی عملی تعلیم دی کہ آج آبی آلودگی کو موضوع بناکر بحث ومباحثہ کرنے والے اپنی عملی زندگی میں پانی کے اتنے کم خرچ کو سوچ بھی نہیں سکتے ۔
آلودگی بلاضرورت فصلوں اور باغات کو کاٹنے اور خون خرابہ کرنے سے بھی پیدا ہوتی ہے ، اسلا م نے ایسے عمل کو فساد کہہ کر انسانوں کو اس سے بچنے کی تعلیم دی ،اللہ عزوجل کا ارشاد ہے :’’اور جب پیٹھ پھیرتا ہے تو اس دوڑ دھوپ میں پھرتا رہتا ہے کہ اس (شہر) میں فساد کرے ، اور( کسی کے )کھیت یا مویشی کو ہلاک کرے اور اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتا‘‘۔ (سورۃالبقرہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوات وسرایا میں صحابہ کرامؓ کو روانہ کرتے وقت اس بات کی خصوصی وصیت فرماتے کہ وہ دوران جنگ فصلوں اور باغوں کو تباہ نہ کریں اور بچوں ، عورتوں اور بوڑھوں کو بھی قتل نہ کریں۔ (سنن کبریٰ بیہقی ) صحابۂ کرامؓ جنگوں میں ان باتوں کا خصوصی خیال رکھتے اور امیر لشکر کو اس کی ہدایت دیتے تھے ، حضرت ابوبکر صدیقؓ جب کسی لشکر کو روانہ کرتے تو یہ وصیت فرماتے کہ کسی پھل دار درخت کو نہ کاٹو اور کسی آباد مکان اور جگہ کو ویران نہ کرو ۔ (جامع ترمذی)
اس کے برخلاف آج امن کے دعوےداروں کی جنگوں کا حال یہ ہے کہ ان کی جنگوں میں بڑے پیمانے پر بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کوبڑے ہی دردناک انداز میں موت کی نیند سلایا جاتا ہے ،کئی علاقے ویران ہوجاتے ہیں ، فصلیں تباہ ہوتی ہیں ، ایسے زہریلے کیمیاوی مادوں کو جنگوں میں استعمال کرتے ہیں کہ اس سے پورا ماحول زہریلا ہوجاتا ہے جس کے اثرات سے عام حیوانات کے ساتھ ساتھ شکم مادر میں پلنے والے بے قصور جنین بھی متأثر ہوجاتے ہیں۔
آلودگی کے خاتمے کے لئے باغات اور درختوں کا ہونا ضروری ہے ، اسی لئے بہت سے ممالک اس کے لئے اسکیمیں وضع کرتے ہیں ، اس کی خاطر بڑی رقم خرچ کرتے ہیں، تاکہ آلودگی کا خاتمہ ہو، رسول اللہﷺ نے آج سے چودہ سو سےقبل لوگوں کو اس کی تعلیم دی ، اور اس پر عمل کرنے والوں کو بہتر اجر کی بشارت سنائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :’’جو مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے یا کھیتی باڑی کرتا ہے ،پھر اس درخت یا کھیت سے کوئی پرندہ یا کوئی انسان یا کوئی جانور کچھ کھاتا ہے ،تو اس کے لئے صدقہ ہے ‘‘۔(صحیح بخاری)
فضائی آلودگی کوختم کرنے میں درختوں اور جنگلات کا اہم کردار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک طرف شجرکاری کی ترغیب دی ، ان کے کاٹنے اور ضایع کرنے کی بھی ممانعت فرمائی ہے۔ ایک حدیث میں غیر آباد زمینوں کو آباد کرنے کی فضیلت کو ان الفاظ میں رسول اللہ ﷺ نے بیان کرکے لوگوں کو اس پر آمادہ کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :’’جس نے کسی مردہ زمین کو آباد، قابل کاشت بنایا تو اس کے لئے اس میں اجر ہے ، اور چرند وپرند یا انسانوں میں سے رزق کے طالب نےاس میں سے جتنا کھایا، اس کے لئے اتنے صدقہ کا ثواب ہے ‘‘۔ (مسند احمد)
مختلف اقسام کے چرند وپرند وغیرہ مخلوق کے وجود میں بھی ماحولیات کا تحفظ مضمر ہے ، بلاضرورت چرند وپرندوغیرہ کو مارنے سے ماحولیات کا توازن بگڑ جاتا ہے ، جیسا کہ زہریلی دواؤں کی وجہ سے مچھلیوں کو مارنے سے پانی آلودہ ہوجاتا ہے ،اسی لئے بلاضرورت جانوروں اور پرنددوں کو مارنے سے اسلام نے منع کیا ہے ، جن سے کسی مضرت کا اندیشہ لاحق نہیں ہے ۔
یہ تمام تعلیمات اس حقیقت کا مظہر ہیں کہ اسلام نے ماحولیات کے تحفظ کے حوالے سے خاص تاکید فرمائی ،جب کہ ماحولیاتی آلودگی کے تدارک و سدباب کے لیے ایسا نظام اور ایسی ہمہ گیر تعلیمات عطا فرمائیں،جن سے طہارت وپاکیزگی اورصحت وصفائی کا شعور اجاگر ہوا۔حقیقت یہ ہے کہ مثالی انسانی معاشرے کا قیام اورہرقسم کی آلودگی سے پاک معاشرہ اسی وقت قائم ہوسکتا ہے جب اسلام کی ان سنہری تعلیمات پر عمل کیا جائے اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک و سدباب کے لیے اسلام کی ان تعلیمات کو حرزجان بنایا جائے۔

تازہ ترین