اراضی، تعلیم، ترقی و روزگار محفوظ بنانے کیلئے دفعہ 370 کی بحالی لازمی

مذہب کے نام پر ووٹ مانگنے والوں کو ناکام بنانا ضروری:عمر عبداللہ

تاریخ    2 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


اشتیاق ملک
بھدرواہ //حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی پر کھوکھلے وعدے کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ اراضی ،تعلیم و روزگار کے تحفظ کیلئے دفعہ 370 کی بحالی ناگزیر ہے اور نیشنل کانفرنس خصوصی پوزیشن کی بحالی کیلئے جدوجہد جاری رکھے گی۔خطہ چناب کے دورے کے چھٹے روز ڈاک بنگلہ بھدرواہ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے بی جے پی کو ہدف تنقید بنایااور کہا کہ دفعہ 370 ہٹانے سے پہلے انہوں نے جموں و کشمیر سے علیحدگی پسند سوچ مٹانے، امن و روزگار کے وسائل فراہم کرنے، کشمیری پنڈتوں کی واپسی و بڑے بڑے کارخانے کھولنے کے کھوکھلے دعوے کئے تھے، جوا ڈھائی سال کے بعد بھی پورے نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا کوئی بھی علاقہ محفوظ نہیں ہے اور بی جے پی کے دور حکومت میں کشمیری پنڈتوں و معصوم شہریوں کو چن چن کر گولیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بگڑتے ہوئے سیکورٹی نظام کے لئے بی جے پی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کسی کا نام لئے بغیر کہا کہ کچھ جماعتیں دفعہ 370 کی واپسی کے حوالے سے طرح طرح کی بیان بازی کررہی ہیں لیکن نیشنل کانفرنس دلی میں بھی یہی بات دہراتی ہے اور جموں و کشمیر میں بھی اسی مدعے پر قائم ہے۔انہوں نے کہا کہ جن زمینوں پر غریب لوگ دہائیوں سے آباد ہیں آج انہیں بے دخل کیا جارہا ہے ۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ اراضی، تعلیم، ترقی و روزگار محفوظ بنانے کیلئے دفعہ 370 کی بحالی لازمی ہے اور نیشنل کانفرنس جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی دور حکومت میں جموں و کشمیر میں کوئی بھی نیا پروجیکٹ شروع نہیں کیا گیا اور نہ ہی پسماندہ علاقوں کی طرف توجہ دی گئی۔انہوںنے کہا کہ خطہ چناب و باالخصوص بھدرواہ بھلیسہ کی ترقی کے حوالے سے نیشنل کانفرنس اقتدار میں آتے ہی سیاحتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لئے مؤثر اقدامات کرے گی اورصوبائی درجہ کی مانگ پر بھی غور کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے دور اقتدار میں رہ کر اس خطہ کو نظر انداز کیا۔ بجلی کی آنکھ مچولی پر انہوں نے حکام کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ’’ میں جس ہوٹل میں ٹھہرا تھا،وہاں بجلی کا کوئی بھی شیڈول نہیں تھا اور میں نے اندازہ کرلیا کہ عوام کس قدر پریشان ہوگی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے زیر اثر نظام کے خاتمے کے بعد نیشنل کانفرنس حکومت اس خطہ کی تعمیر، ترقی و خوشحالی میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔انہوں نے لوگوں سے فرقہ پرست طاقتوں کے عزائم کو ناکام بنانے کی اپیل کرتے ہوئے شیخ محمد عبداللہ کے نعرہ'شیر کشمیر کا کیا ارشاد، ہندو مسلم سکھ اتحاد' کو دہراتے ہوئے کہا کہ کچھ جماعتیں انگریزوں کی 'تقسیم کرواور راج کرو' کی پالیسی اپنا کر مذہب کے نام پر ووٹ تقسیم کرنے کی کوشش کررہی ہیں اور انہیں منہ توڑ جواب دینے کی ضرورت ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ پچھلے تین دہائیوں سے متواتر بھدرواہ حلقہ کو اتحادی جماعتوں کے حوالے کرکے ہم نے خود نیشنل کانفرنس کو کمزور کیا۔انہوں نے کہا کہ 1987 میں کانگریس، 1996 میں بی ایس پی اور پھر متواتر کانگریس کے ساتھ الائنس میں اس حلقہ سے نیشنل کانفرنس کے ورکر بکھر گئے اور جن امیدواروں کو آج تک این سی نے میدان میں اتارا وہ بھی صرف ہوائی دورے کرتے رہے جس کے سبب پارٹی دن بدن کمزور ہوتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے انتخابات میں انہی امیدواروں کو میدان میں اتارا جائے گا جو اپنے حلقہ کے ورکروں و عوام کے درمیان ہر وقت دستیاب رہیں گے۔انہوں نے پارٹی ورکروں کو مشورہ دیا کہ وہ دوسرے گھر کو کمزور کرنے کے بجائے اپنے مکان کی بنیاد کو مضبوط بنائیں۔
 

تازہ ترین