تازہ ترین

قصبہ یار شادی مرگ پلوامہ میں خونریز معرکہ | 2 ملی ٹینٹ کمانڈر جاں بحق

مہلوکین میںآئی ای ڈی ماہرشامل ، اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط: آئی جی پی

تاریخ    2 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


شاہد ٹاک
شوپیان// شادی مرگ پلوامہ کے ایک مضافاتی گائوں میں سیکورٹی فورسز کیساتھ شدید تصادم آرائی میں بارودی سرنگ بنانے کا ماہر ملی ٹینٹ کمانڈر اپنے غیر ملکی ساتھی سمیت جاں بحق ہوا۔آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے جھڑپ میں اعلیٰ آئی ای ڈی ماہر اور غیر مقامی جنگجوئوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مارے گئے جنگجو ئوں سے اسلحہ و گولہ بارود ضبط کیا گیا ۔ 
انکونٹر کیسے ہوا؟
اعصاب شکن آپریشن یاسر پرے کے آبائی گاؤں قصبہ یار شادی مرگ میں منگل کی رات 11 بجے شروع ہوا جب فوج کو پولیس کی جانب سے علاقے میں ملی ٹینٹوں کی موجودگی کے بارے میں اطلاع موصول ہوئی۔عہدیداروں نے بتایا کہ 44 آر آر کے کمانڈنگ آفیسر کرنل اے کے سنگھ نے آپریشن کی قیادت کی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہو۔انہوں نے کہا کہ دو ملی ٹینٹوں کی موجودگی کی تصدیق صبح 3 بجے ہوئی کیونکہ وہ ایک عمارت کی چھت اور اوپر کی منزل کے درمیان چھپے ہوئے تھے۔ یاسر احمدپرے ولد غلام احمد پرے، جس پر نقد انعام تھا، جون، 2019 میں 2  آر آر پرآئی ای ڈی دھماکے کے پیچھے تھا، جب وہ آری ہل پلوامہ روڈ پر چل رہے تھے۔ اس واقعے میں دو فوجی ہلاک اور 17 زخمی ہو گئے تھے۔کرنل سنگھ نے 2019 میں اس واقعے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا، "آپ (عسکریت پسند) سورج کے نیچے کہیں بھی چھپ سکتے ہیں، ہم آپ کو ڈھونڈیں گے کیونکہ ہم کبھی نہیں بھولیں گے، کبھی معاف نہیں کریں گے۔"حکام نے بتایا کہ بدھ کے روز، پورے آپریشن کی نگرانی کرتے ہوئے، کرنل سنگھ نے یاسرپرے کے والد کو ہتھیار ڈالنے کے لیے طلب کیا لیکن غیر ملکی عسکریت پسند کی طرف سے شدید فائرنگ کی وجہ سے ایسا نہیں ہو سکا، جس کی شناخت فرقان کے نام سے ہوئی۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ درد پورہ محلہ قصبہ یار میں رات کے پونے 4بجے فائرنگ کا سلسہ شروع ہوا جس کے بعد وقفے وقفے سے دھماکے بھی سنے گئے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ دونوں عسکریت پسند ایک مکان کے کچن میں تھے اور وہ کچن سے باہر آکر مکان کے صحن میں جاں بحق ہوئے۔تصادم آرائی صبح 9بجے تک جاری رہی جس کے دوران ایک کچن اور دو رہائشی مکانوں کو جزوی نقصان پہنچا۔پولیس کے مطابق یاسرپرے نے جنوبی کشمیر میں جیش کے مختلف گروپوں کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا تھا اور وہ 2018 کے آخر میں ان میں شامل ہونے کے بعد تیزی سے درجہ بندی کی سیڑھی پر چڑھ گیا تھا۔حکام نے مزید کہا کہ بدھ کی صبح 8.45 بجے آپریشن ختم ہونے کے بعد دو اے کے سیریز کی رائفلیں، دو یو بی جی ایل کے ساتھ 12 دستی بم، کئی اے کے میگزین اور راؤنڈ برآمد کیے گئے۔سری نگر میں مقیم فوج کے ترجمان کے مطابق، جموں و کشمیر پولیس نے فرقان عرف علی بھائی کو ایک بے رحم زمرے کا 'A+' پاکستانی ملی ٹینٹ بتایا جو جون 2020 سے جیش محمد کے ساتھ سرگرم تھا۔اسے کشمیر بھیجا گیا تاکہ نوجوانوں کو بنیاد پرست بنایا جائے اور انہیں بے گناہ مقامی لوگوں اور ممتاز تاجروں پر مظالم ڈھانے کے لیے ہتھیار اٹھانے پر اکسایا جائے۔یاسر پرے کا تعلق مختلف پاکستانی ملی ٹینٹوں کے ساتھ جانا جاتا تھا اور اس نے انہیں کشمیر لانے کے لیے گائیڈ کے طور پر کام کیا تھا۔ترجمان نے مزید کہا کہ پرے پاکستانی ملی ٹینٹ ابو سیف اللہ عرف لمبو کا معروف ساتھی تھا، جس نے فروری 2019 میں لیتہ پورہ پلوامہ میں سی آر پی ایف پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی جس میں سی آر پی ایف کے 40 اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق یاسر احمد پرے پرچھو پلوامہ میں پولیس ناکہ پر حملے میں بھی ملوث تھا جس میں 10بٹالین آئی آر پی کا ہیڈ کانسٹیبل انوپ سنگھ ہلاک اور دیگر پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ وہ ڈی ڈی سی، بی ڈی سی، پنچوں، سرپنچوں، دیگر سیاسی کارکنوں اور پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے علاوہ، لوگوں کو جمہوری سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روکنے میں بھی ملوث تھا۔ دوسرا مارا گیا  ملی ٹینٹ ابو فرقان 2018 سے وادی کشمیر میں سرگرم تھا جس کا شمار ٹاپ 60  ملی ٹینٹوں کی فہرست میں ہوتا تھا ۔وہ بڈگام کے پکھر پورہ اور پلوامہ علاقے میں کام کرتا تھا۔ وہ آئی ای ڈیز بنانے کی صلاحیت فراہم کرنے کا ذمہ دار تھا۔ مزید برآں، وہ یاسر پرے کے ساتھ آین گنڈ کے اہم سازشی تھے جس میں 50کلو گرام بارود سے لدی سنٹرو گاڑی برآمد کی گئی تھی اور پولیس اور سیکورٹی فورسز نے اسے ناکارہ بنا دیا تھا۔ وہ کنگن پلوامہ کے ایک شہری آزاد احمد ڈار کے قتل میں بھی ملوث تھے۔
 
 

راجوری کدل سرینگر میں گولی چلی

ٹریفک پولیس اہلکار زخمی

بلال فرقانی
 
سرینگر// پائین شہر کے راجوری کدل علاقے میں مشتبہ ملی ٹینٹوں نے محکمہ ٹریفک کے ایک اہلکار کو گولیاں مار کر زخمی کردیا۔اسکی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔یہ واقعہ شام سوا 6بجے راجوری چوک میں پیش آیا۔محکمہ ٹریفک میں تعینات سلیکشن گریڈ کانسٹیبل محمد عبداللہ لون ولد غلام محمد ساکن شاہ محلہ وسن گاندربل بلٹ نمبر 307/ TR معمول کے مطابق ڈیوٹی دے رہا تھا جس کے دوران وہ عسکریت پسندوں کی فائرنگ سے زخمی ہوگیا۔ اسے فوری طور پر صدر ہسپتال سرینگر منتقل کیا گیا۔ جہاں اس کا علاج معالجہ جاری ہے۔ہسپتال حکام نے بتایا کہ زخمی اہلکار کا آپریشن کیا جا رہا ہے جس کے بائیں بازو میں گولی لگی ہے۔واقعہ کے بعد علاقے میں افرا تفری پھیل گئی اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کی گئی۔
 
 

شہر کے انکائونٹروں پر بحث کی جائے

حسین مسعودی کا پارلیمنٹ میں مطالبہ

نیوز ڈیسک
 
سرینگر// نیشنل کانفرنس  رکن پارلیمان جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے لوک سبھا میں وقفہ سفر کے دوران پارلیمنٹ کی توجہ جموںوکشمیر کے حالات کی طرف مرکوز کرائی اور موجودہ حالات پر بحث کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے حیدر پورہ ، رام باغ اور لاوے پورہ انکائونٹروں پر توجہ دلائو نوٹس کے ذریعے بحث کا مطالبہ دہرایا۔ مسعودی نے  جموں وکشمیر کے قریب ایک لاکھ ڈیلی ویجروں، کنٹریکچول اور عارضی ملازمین کی مستقلی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عارضی ملازمین دہائیوں سے مستقلی کا انتظار کررہے ہیں ۔ انہوں نے پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ ان عارضی ملازمین کیساتھ انصاف کرکے فوری طور پر ان کی مستقلی عمل میں لائی جائے۔ حسنین مسعودی نے آشا ورکروں کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس میں ٹیسٹنگ سے لیکر ٹیکہ کاری تک آشا ورکروں نے جان کی بازی لگا دی اور حکومت کا فرض بنتا ہے کہ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔
 
 
 

دفعہ 370 منسوخی کے بعد ملی ٹینسی کے واقعات میں کمی: مرکز

۔841روز میں تشدد کے 496واقعات،79شہری اور 45فوجی ہلاک

مانٹیرنگ ڈیسک
 
نئی دہلی// مرکزی سرکار نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میںدفعہ 370 کی منسوخی کے بعد 841 دنوں کی مدت کے دوران تشدد کے واقعات کی تعداد منسوخی سے قبل اسی عرصے میں رپورٹ کیے گئے 843 واقعات سے گھٹ کر 496 ہوگئی ہے۔ بدھ کو راجیہ سبھا میں امور داخلہ کے وزیر مملکت نتیانند رائے نے کہا کہ 16 اپریل 2017 سے 4 اگست 2019 کے دوران جموں و کشمیر میںملی ٹینسی کے 843 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 86 عام شہری اور 78 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 سے 22 نومبر 2021 (منسوخ کرنے کے بعد 841 دن) کے دوران جموں و کشمیر سے  496 واقعات رپورٹ ہوئے  جن میں 79 شہری اور 45 فوجی اہلکار مارے گئے ۔رائے نے کہا’’مجموعی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جموں اور کشمیر میں شہریوں اور فوج پر حملوں میں کمی آئی ہے‘‘۔ رائے نے کہا کہ دسمبر 2020 سے نومبر 2021 (26 نومبر تک) کے پچھلے 12 مہینوں کے دوران 14 ملی ٹینٹوں کو پکڑا گیا  اور 165 مارے گئے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال اکتوبر-21 2020 کے دوران 32 سیکورٹی فورسز اور جموں و کشمیر پولیس کے 19 اہلکار "شہید" ہوئے ۔وزیر نے کہا کہ اکتوبر 2020 سے اکتوبر 2021 کے درمیان کل 251 تشدد کے واقعات ہوئے ۔رائے نے کہا کہ جموں و کشمیر میں 2018 سے دراندازی اور دہشت گردانہ حملوں کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔2018 میں، جموں و کشمیر سے ' دراندازی' کے 143 واقعات رپورٹ ہوئے جو 2019 میں کم ہو کر 141، 2020 میں 51 اور 28 (30 اکتوبر 2021 تک مزید کم ہوئے۔2018 میں، جموں و کشمیر میں 417 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے جو 2019 میں کم ہو کر 255، 2020 میں 244 اور (21 نومبر 2021 تک 200درج ہوئے۔
 

تازہ ترین