تازہ ترین

ناجائز قبضہ ہٹانے کے نام پر محکمہ مال کی تانا شاہی ناقابل برداشت :ہاشمی

زمین واپس لینے کے عمل کو عدالتی توہین قرار دیا

تاریخ    1 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


اشتیاق ملک
ڈوڈہ //روشنی ایکٹ کے تحت اندراج کی گئی اراضی کو محکمہ مال کی جانب سے غیر قانونی قرار دینے و ان زمینوں سے ناجائز قبضہ ہٹانے کی مہم کو عدالت کی توہین قرار دیتے ہوئے بلاک کونسل چیئرپرسنوں نے اسے تانا شاہی سے تعبیر کیا. ڈوڈہ کے نامور وکیل و بی ڈی سی چیئرمین گندنہ عاصم ہاشمی نے بی ڈی سی چیئرپرسن مرمت مشتاق احمد کی موجودگی میں منعقد پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ایک طرف عدالت میں یہ معاملہ زیر سماعت ہے اور دوسری طرف انتظامیہ تانا شاہی کرکے غریب لوگوں سے اس زمین کو واپس لے کر فخر محسوس کرتی ہے. انہوں نے کہا کہ انتظامیہ و باالخصوص محکمہ مال کی طرف سے کی جارہی من مانی سے سینکڑوں غریب و مفلس کنبے بے گھر ہورہے ہیں. ایڈووکیٹ عاصم ہاشمی نے کہا کہ سپریم کورٹ میں یوٹی انتظامیہ نے تحریری طور پر کسی بھی شخص کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنے کا بیان کیا ہے لیکن یہاں پر عدالت کی پاسداری نہ کرتے ہوئے لوگوں کو ان کی زمینوں سے دھکیل رہے ہیں. بی ڈی سی چیئرپرسن نے عدالتی سے کوئی فیصلہ آنے سے پہلے روشنی ایکٹ کے تحت اندراج کئے گئے ریکارڈ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنے و زمینیں واپس لینے کے عمل کو فی الفور بند کرنے کا مطالبہ کیا. انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں بھی یہ معاملہ زیرِ سماعت ہے اور یوٹی انتظامیہ خود اس کے حق میں ہے لیکن ڈوڈہ انتظامیہ میں عدالت کی توہین کی جارہی ہے. انہوں نے کہا کہ اگر ان کو اتنا ہی شوق ہے تو جموں میں کیوں نہیں کارروائی کرتے ہیں اور یہاں غریب عوام کو ہراساں کر رہے ہیں. بی ڈی سی چئیرمین بجلی کی ماہانہ فیس میں اضافہ کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر لوگ غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں اور ان کے گھروں میں دو سے زیادہ بلب نہیں جل رہے ہیں لیکن اس کے باوجود چار سو روپے کرایا وصول کیا جاتا ہے جو کہ ناانصافی ہے. انہوں نے کہا کہ کئی صارفین کو دو بار بل بھیج رہے ہیں. پنچائتی سطح پر ٹنڈر سسٹم کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طریقے سے لاکھوں روپے کی فنڈس کو وقت مقررہ پر زمینی سطح پر خرچ نہیں کیا جاسکتا ہے. انہوں نے پنچائتی سطح پر پانچ لاکھ تک کے کام بناء￿  ٹنڈر کے ہی شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے. انہوں نے کہا کہ یہ مطالبات ہم نے کونسل میں بھی رکھے ہیں اور امید ہے کہ ان پر عمل درآمد کیا جائے گا.