تازہ ترین

۔2014 کی غلطیوں کا خمیازہ عوام بھگت رہا ہے: عمرعبداللہ

پی ڈی پی نے بھاجپا کیساتھ سرکار نہ بنائی ہوتی تو 370ختم نہ ہوا ہوتا

تاریخ    1 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


عاصف بٹ
کشتواڑ//نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ 2014میں پی ڈی پی نے بی جے پی کیساتھ حکومت بنا کر جموں کشمیر کے حالات کو مزید بگاڑا اور پی ڈی پی کی غلطی کا خمیازہ عوام بھگت رہی ہے۔خطہ چناب میں اندروال میںایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کو موجودہ دور میں جن سازشوں کا سامنا ہے، ان سازشوں کا مقابلہ کرنے کیلئے نیشنل کانفرنس کا اور زیادہ مضبوط ہونا لازمی ہے کیونکہ یہی ایک جماعت ہے جو جموں وکشمیر کے عوام کے حقوق کیلئے لڑ رہی ہے، باقی سبھی نے ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں۔  عمر عبداللہ نے کہا کہ 5اگست 2019کو ہم پر جوٹھونسا گیا یہ اسی صورت ممکن ہو پایا جب نیشنل کانفرنس کمزور ہوئی تھی، ہم سیٹیں ہار گئے تھے۔ اگر 2014کے الیکشن میں نیشنل کانفرنس کی حکومت آئی ہوتی تو دفعہ370نہیں ہٹتااور نہ ہی 35اے کا خاتمہ ہوتا۔  انہوں نے کہا کہ میں جانتا تھا کہ یہ ممکن ہوگا، تبھی 2014کے انتخابات کے بعد مرحوم مفتی محمد سعید کو  بتایا کہ جس راستے پر چلنے جارہے ہیں اس پرکافی خطرہ ہے اورانکے سامنے دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور حکومت بنانے کیلئے غیر مشروط حمایت دینے کا اعلان بھی کیا،کیونکہ معلوم تھا کہ ایک غلط فیصلہ کتنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ عمر نے کہا ’’ہم نے پی ڈی پی کو حمایت دینے کے وقت اس بات کا بھی وعدہ کیا تھا کہ ہمیں نہ اقتدار کی ضرورت ہے، نہ ہمارا کوئی وزیر ہوگا، نہ ہی ہمیں راجیہ سبھا ممبر یا ایم ایل سی کی سیٹ چاہئے، ہم باہر سے غیر مشروط حمایت دینگے، آپ حکومت چلایئے لیکن ان لوگوں کو مت لایئے جن کے ارادے اس ریاست کیلئے صحیح نہیں ہیں، اس وقت ان کی کوئی مجبوری رہی ہوگی اور انہوں نے دوسرا فیصلہ لیا‘‘۔ عمر عبداللہ نے کہا ’’ لمحوں نے خطا کی ،صدیوں نے سزا پائی کے مترادف، اب اس فیصلے کی سزا ہم کب تک بھگتے رہیں گے ، معلوم نہیں؟‘‘۔انہوں نے کہااگر 2014کے انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے نشستیں نہیں ہاری ہوتیں تو آ پ کی زمینیں آپ سے کوئی واپس نہیں لیتا،آپ کے بچوں کے روزگار کے آرڈر غائب نہیں ہوتے،باہر کے ٹھیکیدار یہاں ٹھیکداری کرنے نہیں آتے ، باہر کے امیدوار یہاں کی نوکریاں ہڑپ نہیں کر پاتے بلکہ یہ سب کچھ مقامی لوگوں کیلئے مخصوص ہوتا۔ نہ ہی کوئی ملی ٹینسی ہوتی اور لوگ چین و امن سے زندگی بسر کرتے ۔انہوں نے کہا کہ 5اگست2019کے فیصلوں کے وقت جو کچھ کہا گیاتھا وہ سب جھوٹ اور فریب ثابت ہوا۔ 28ماہ گزر جانے کے بعد بھی ایک بات صحیح ثابت نہیں ہوئی بلکہ ان فیصلوں کے الٹے نتائج سامنے آگئے ہیں۔