مزید خبریں

تاریخ    28 نومبر 2021 (00 : 01 AM)   


یو این آئی

سوپور میں محکمہ بجلی کے عارضی ملازمین کا مطالبات کے حق میں احتجاج

سوپور//سوپور میں محکمہ بجلی کے سینکڑوں عارضی اور مستقل ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج جاری رکھا۔پی ڈی ڈی سرکل سوپور کے سینکڑوں مستقل اورعارضی روزانہ اجرتوں پر کام کرنے والے ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے احتجاج کیا۔احتجاجیوں نے کہا کہ صرف عارضی اور مستقل روزانہ اجرتوں پر کام کرنے والے ملازمین ہی بجلی کے کھمبوں پر چڑھتے ہیںاوربجلی کی سپلائی کویقینی بناتے ہیںاورا سدوران ان کی جانیں بھی چلی جاتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دن رات کام کرنے کے باوجود بھی ان کے مطالبات پرنامعلوم وجوہات کی بناپر توجہ نہیں دی جاتی۔انہوں نے کہا کہ محکمے کے اعلیٰ حکام جا ن بوجھ کر ان کے مسائل کونظر انداز کرتے ہیںاوران کی نوکریوں کو باقاعدہ بنانے اوران کی اجرتوں کی واگزاری کو طول دیا جاتا ہے جبکہ انہوں نے پانچ سال سے زیادہ کا عرصہ کام کرتے ہواپورا کیا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو انہیں مستقل کرنے کے احکامات جلدازجلد جاری کرنے چاہیے اور ان کی اجرتوں کو بھی واگزار کیا جانا چاہیے۔انہوں نے مانگ کی ڈیوٹی کے دوران جاں بحق ہوئے ملازمین کے لواحقین کو نوکری فراہم کی جائے۔
 

سوپور میں محکمہ باغبانی کا جانکاری و تربیتی کیمپ منعقد 

سوپور/غلام محمد/ڈاک بنگلہ سوپور میں محکمہ باغبانی کی جانب سے تربیتی و جانکاری کیمپ منعقد کیاگیا جس میںباغ مالکان کو نئی اسکیموں کے بارے میں جانکاری فراہم کی گئی ۔ اس موقعہ پر ڈائریکٹر جنرل ہارٹیکلچر نے باغ مالکان پر زور دیا کہ وہ نئی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی بھر پور سعی کریں۔ ڈائریکٹر جنرل ہارٹیکلچر نے باغ مالکان کو بتایا کہ محکمہ کی جانب سے اس شعبے کو بڑھاوا دینے کی خاطر کئی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں جس سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ محکمہ چاہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان اسکیموں سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوںنے کہاکہ موجودہ سرکار ہارٹیکلچر شعبے کی طرف خصوصی توجہ مبذول کر رہی جس کا ثمرہ یہ نکلا ہے کہ آج کشمیر میں ہارٹیکلچر شعبے سے جڑے لوگ خوش نظر آرہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ باغ مالکان کو چاہئے کہ وہ نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے اپنے باغات کی دیکھ ریکھ کریں۔ آخر پر ڈائریکٹر جنرل ہاٹی کلچر نے باغ مالکان میں درکار مشینری اور دوسرا سامان تقسیم کیا۔
 

ایس پی کالج میں غیر تدریسی عملہ کے ایسو سی ایشن انتخابات 

سرینگر// ایس پی کالج نان ٹیچنگ ایمپلائز ایسوسی ایشن نے سید عمران کو ایسوسی ایشن کا نیا صدر منتخب کیا ہے۔کاالج کے سیکشن آفیسر طارق احمدبٹ کی نگرانی میں انتخابات کرائے گئے۔نئے صدر نے تمام غیر تدریسی ملازمین کی جانب سے کالج پرنسپل کو اپنے مکمل تعاون کی پیشکش کی اور مختلف زیر التوا مسائل کو حل کرنے میں کالج کے پرنسپل پروفیسر (ڈاکٹر) خورشید احمد خان کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔انتخابات میں ظہور احمدبٹ کنوینر کالج نان ٹیچنگ ایمپلائز ایسوسی ایشن ،محمد یونس بابا،  ایاز رسول اور محمد شفیع گچو اسسٹنس گروپ برائے ظہور احمد بٹ کے علاوہ شوکت احمد بٹ نائب صدر،ریاض احمد خان پبلسٹی سیکرٹری، فاروق احمد وانی سکریٹری،الیاس احمد ڈار ایڈیشنل سیکرٹری، سید ضمیر احمد خزانچی، نگہت جیلانی ایڈیشنل خزانچی،شوکت احمد بٹ اور آسیہ رسول خزانچی/ ایڈیشنل خزانچی کے معاون، شاہنواز احمد خان انچارج پروٹوکول جبکہ بشیر احمد خان، فرزانہ خان، محمد امین لبرو، غلام قادر شیخ، جاوید احمد شیخ، سلیمہ اوررفیق احمد ڈار پروٹوکول ممبران بنائے گئے۔
 
 

شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی ،ہفتہ وار نشست کااہتمام 

سید اعجاز 
سرینگر// کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ اردو نے ہفتہ وارانہ نشست کا اہتمام کیا جس کی صدارت صدرِ شعبہ پروفیسر اعجاز احمد شیخ نے کی۔صدر شعبہ کے ہمراہ ڈاکٹر کوثر رسول اور دیگر اساتذہ بھی موجود تھے۔نشست کا آغاز تلاوت قرآن سے ہوا پھر نعت بھی پڑھی گئی۔ پروفیسر اعجاز احمد شیخ نے خطبہ صدارت دیتے ہوئے طلاب کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں کئی مفید مشوروں سے نوازا۔ طلباء کے علاوہ ڈاکٹر اویس احمد بٹ نے ’سمینار کا تہوار‘ کے عنوان سے انشائیہ پڑھا جس میں انہوں نے جامعات میں ہونے والی مختلف تقریبات کی صورتحال کو مزاحیہ انداز میںبیان کیا ۔ڈاکٹر محمد ذاکر نے مجتبیٰ حسین کا انشائیہ ’دھیمکوں کی ملکہ‘ کے عنوان سے پڑھا۔آخر میں ڈاکٹر کوثر رسول نے جامع اور مفصل تبصرہ پیش کیا جس میں طلباء کی اصلاح کے حوالے سے بڑی مستند اور معنی خیز باتیں شامل تھیں۔ بزمِ ادب کی نظامت کے فرائض یاور احمد نے انجام دیئے ۔اساتذہ نے طلباء کی حوصلہ افزائی کیلئے انہیں رسائل بطورِ تحائف پیش کئے۔ بلال احمد قریشی، اطہر شبیر، محمد مدثر، یاور مشتاق ، منظور احمد، شاہد احمد اور مبارک لون نے اپنی تخلیقی کاوشوں کا مظاہرہ کیا۔
 
 
 

یومِ پرچم کی تقریبات 

 سکاؤٹس اینڈ گائیڈز اخلاقی اقدار کوفروغ دیں:منوج سنہا  

جموں//یومِ پرچم کی جاری تقریبات کے سلسلے میں جموں و کشمیر بھارت سکاؤٹس اینڈ گائیڈز کے وفد نے  راج بھون میں لفٹینٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کی ۔ لفٹینٹ گورنر نے جموں و کشمیر کے بھارت سکاؤٹس اینڈ گائیڈز سے کہا کہ وہ آزادی کا امرت مہوتسو کے ایک حصے کے طور پر آتم نربھر بھارت کیلئے سرگرمیوں کے ایک سیٹ کی میزبانی کریں ۔ انہوں نے سکاؤٹس اینڈ گائیڈز سے کہا کہ وہ یو ٹی بھر میں پروگرام منعقد کر کے اور منشیات کی لعنت سے لڑنے میں حکومت کی مدد کر کے منشیات کی لت سے نجات کے حوالے سے بڑے پیمانے پر بیداری پیدا کریں ۔ لفٹینٹ گورنر جو جموں و کشمیر کے بھارت سکاؤٹس اینڈ گائیڈز کے سرپرست بھی ہیں ، نے کیڈٹس ، اہلکاروں اور اسکاؤٹس اینڈ گائیڈز تحریک سے وابستہ ہر فرد کی معاشرے کی تعمیر ،بے لوث خدمات ، نوجوانوں میں اخلاقی اقدار کو فروغ دینے اور وراثت کو آگے بڑھانے کیلئے سراہا ۔ لفٹینٹ گورنر نے بھارت سکاؤٹس اینڈ گائیڈز تحریک کو یو ٹی انتظامیہ کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلایا ۔ کمشنر اسکاؤٹس اینڈ گائیڈز ، ڈبلیو جی سی ڈی آر ایم ایم جوشی نے تنظیم کے طویل عرصے سے زیر التوا مسائل کو حل کرنے کیلئے لفٹینٹ گورنر کا شکریہ ادا کیا جس میں جموں و کشمیر بھارت اسکاؤٹس اینڈ گائیڈز کی سالانہ گرانٹ ان ایڈ کو دوگنا کرنا ، جو کہ اب 20 لاکھ روپے ہے ۔ انہوں نے لفٹینٹ گورنر کو تنظیم کی طرف سے کی جانے والی کامیابیوں اور مختلف سرگرمیوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا ۔ اس موقع پر لفٹینٹ گورنر کو بھارت اسکاؤٹس اینڈ گائیڈز کا بیچ لگایا گیا ۔ یومِ پرچم جسے بھارت اسکاؤٹس اینڈ گائیڈز کے یومِ تاسیس کے طور پر بھی منایا جاتا ہے ، تحریک کو تقویت دینے کیلئے 7 نومبر کو پورے ملک میں منایا جاتا ہے یہ دن آزادی کے بعد اسکاؤٹس اینڈ گائیڈز ایسوسی ایشن کے انضمام کی علامت بھی ہے ۔ اس موقع پر اسٹیٹ کمشنر ( جی ) محترمہ ماتری جین ، ریاستی آرگنائیزنگ کمشنر ( جی ) محترمہ اوشا چونی کے علاوہ دیگر عہدیداران اور بھارت اسکاؤٹس اینڈ گائیڈز کے کیڈٹس موجود تھے ۔ 
 
 

’’لیفٹینٹ گورنر کی ملاقات ‘‘

شکایات کے فوری ازالہ کی ہدایت  

جموں//لفٹینٹ گورنر منوج سنہا نے ایل جی ملاقات کے ماہانہ ایڈیشن کے دوران جموں کشمیر بھر سے منتخب درخواست دہندگان کے ساتھ بات چیت کی اور عوامی مسائل اور شکایات کا جائیزہ لیا ۔ ’شکایات کے ازالے ‘ کو گُڈ گورننس کے سب سے بڑے پہلوؤں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے ڈپٹی کمشنروں اور اہلکاروں کو ہدایت دی کہ عوامی شکایات موصول ہوتے ہی ان کا فوری ازالہ کریں ۔ لفٹینٹ گورنر نے اضلاع اور سیکرٹریٹ میں تمام متعلقہ عہدیداروں کو واضح ہدایات جاری کیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عوامی بہبود کی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور لوگوں کی درخواستوں اور شکایات کا مناسب وقت کے اندر اندر جواب دیا جائے ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا ’’ ہر ضلعی دفتر کے پاس کارکردگی کا نظم و نسق کا نظام ہونا چاہئیے تا کہ کارکردگی کا آڈٹ ، جائیزہ اور کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے اور خدمات کی کارکردگی اور تاثیر کا اندازہ لگایا جا سکے ‘‘۔ آج کے پروگرام میں متعدد درخواست دہندگان کو فوری ریلیف ملا کیونکہ ان کے مسائل موقع پر ہی حل ہو گئے ۔ درخواست دہندگان میں سے ایک جوہرا ، جو چھان پورہ گاؤں کلگام کی رہائشی ہے ، جلد ہی پردھان منتری آواس یوجنا گرامین ( پی ایم اے وائی ۔ جی ) کے تحت اپنا مکان حاصل کرے گی جو کئی سالوں سے تاخیر کا شکار تھی ۔ لفٹینٹ گورنر کی مداخلت سے اب اضافی فہرست میں شامل ہونے کے بعد ان کے کیس پر کاروائی کی جائے گی ۔ اسی طرح سرینگر سے تعلق رکھنے والے ایک درخواست گذار محمد سید شاہ نے حکام کی توجہ اپنے علاقے کو درپیش پانی کی قلت کے مسئلہ کی طرف مبذول کرائی جس پر لفٹینٹ گورنر نے جل شکتی کے متعلقہ عہدیداروں کو 10 دنوں کے اندر اس معاملے کو حل کرنے کی ہدایت دی ۔ ڈوڈہ سے تعلق رکھنے والے معراج ملک نے بھلیسہ سے بٹیاس علاقے تک جے کے ایس آر ٹی سی بس سروس کی عدم دستیابی کے بارے میں شکایت درج کرائی ہے ، لفٹینٹ گورنر نے ٹرانسپورٹ سیکرٹری کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملے کو ترجیحی بنیاد پر دیکھیں اور مسافروں کیلئے فوری طور پر سروس شروع کریں ۔ اودھمپور کے ریلوے اسٹیشن کے قریب پانی کے چشمے کے تحفظ سے متعلق اودھمپور کے اشوک کمار کی شکایت پر لفٹینٹ گورنر نے ڈپٹی کمشنر اودھمپور کو اس سلسلے میں فوری کاروائی کرنے کی ہدایت دی ۔ سڑکوں اور پلوں کی مرمت ، شہری سہولیات ، پانی کی فراہمی ، بجلی کی فراہمی اور آبپاشی کی سہولیات سے متعلق پروگرام کے دوران اٹھائے گئے دیگر مسائل اور شکایات کے جواب میں لفٹینٹ گورنر نے ازالے کیلئے سخت ٹائم لائین مقرر کیں ۔ 
 
 
 

چیف سیکریٹری نے ڈسٹرکٹ کیپیکس کی پیش رفت کا جائیزہ لیا 

 فلاحی اسکیموں کے موثر نفاذ کیلئے10نکاتی مہم شروع کرنے کی ہدایت

جموں//چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے جموں و کشمیر میں ڈسٹرکٹ کیپیکس کی ترقی کا جائیزہ لینے کیلئے ایک میٹنگ کی صدارت کی ۔ فائنانس ، ہیلتھ ، آر ڈی ڈی ، ہاوسنگ ، یو ڈی ڈی ، پی ڈبلیو ڈی ، وائی ایس ایس ، اسکول ایجوکیشن ، ایس ڈبلیو ڈی اور تمام ڈی ڈی سی کے انتظامی سیکریٹریوں نے میٹنگ میں شرکت کی ۔ یو ٹی میں حال ہی میں شروع کی گئی 10 نکاتی مہم کی تفصیلات دیتے ہوئے ڈی ڈی سیز نے بتایا کہ تمام 10 مہمات کو حقیقی معنوں میں لاگو کیا جا رہا ہے ۔ چیف سیکرٹری نے ڈی ڈی سیز کو مشورہ دیا کہ وہ اس اسکیم کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کیلئے مہمیں چلائیں تا کہ 10 لاکھ لوگوں کی زمینی ریکارڈ تک رسائی کا ہدف حاصل کیا جا سکے ۔ یہ بتاتے ہوئے کہ تقریباً 2 لاکھ لوگ اپنے اراضی کے ریکارڈ کو دیکھنے کیلئے پہلے ہی پورٹل تک رسائی حاصل کر چکے ہیں ۔ ڈاکٹر مہتا نے ڈی ڈی سی کو مشورہ دیا کہ اگر لوگ اپنے زمینی ریکارڈ میں تضاد کی شکایت درج کرائیں تو زمینی ریکارڈ کو درست کرنے کا نظام قائم کریں۔ ڈی ڈی سیز نے بتایا کہ مہم کو بلاک دوس کی تقریبات کے ساتھ وسیع تر کوریج کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا ۔اس کے علاوہ یوتھ کلبوں اور آنگن واڑی اور آشا ورکروں ، بی ایل اوز اور پٹواریوں کو بھی شامل کیا جائے گا تا کہ مہم کے جوہر کو پھیلاکر وسیع تر عوام تک پہنچ سکے ۔ چیف سیکرٹری نے ڈی ڈی سیز کو مشورہ دیا کہ وہ لوگوں کو مہم کے مقصد کے بارے میں آگاہ کریں ۔انہوں نے کہا کہ اس اسکیم میں مقامی لوگوں کو بااختیار بنانے کی بڑی صلاحیت ہے ۔ بیروز گار سے خود روزگار مہم کے نفاذ کی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈی ڈی سی نے بتایا کہ سرحدی دیہات میں فی پنچائت 5 نوجوان اور فی پنچائت 10 نوجوانوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ چیف سیکرٹری نے ڈی ڈی سی کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی کوششوں کو دوگنا کریں تا کہ یو ٹی میں بے روز گاری کی شرح کو 5 فیصد تک کم کیا جا سکے ۔ انہوں نے ڈی ڈی سی کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ ہر گھر کا دورہ کرنے کیلئے اپنی مشینری تیار کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی ویکسی نیشن کے بغیر نہ رہے ۔ ڈاکٹر مہتا نے محکمہ صحت سے کہا کہ وہ ضروری پروٹوکول تیار کریں جس میں ایک فارمیٹ تیار کرنا اور اسے ڈی ڈی سیز تک پہنچانا ہے تا کہ مہم کے نفاذ کی مناسب نگرانی کی جا سکے ۔ ڈاکٹر مہتا نے ڈی ڈی سیز کو مشورہ دیا کہ وہ لوگوں کو یو ٹی میں انتخابی عمل میں لائی گئی ادارہ جاتی تبدیلیوں کے بارے میں آگاہ کریں جو اس بات کو یقینی بنائے گی کہ مستقبل کی تمام بھرتیاں اب میرٹ پر اور انتہائی شفاف طریقے سے کی جائیں گی ۔ کیپیکس بجٹ کا جائیزہ لیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری فائنانس نے بتایا کہ یو ٹی اجزاء کے تحت تمام اضلاع کے ذریعہ کئے گئے اخراجات کم ہیں ۔ اخراجات کی کم سطح پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے ڈی ڈی سیز سے کہا کہ وہ کاموں کی تکمیل کو تیز کریں اور جہاں مناسب ہو معاہدوں کی شرائط کے مطابق سنگ میل پر مبنی ادائیگیاں کریں تا کہ کاموں کی رفتار تیز ہو ۔ 
 
 
 

جموں کشمیرمیں حدبندی کے بعد اسمبلی انتخابات

وادی کے لوگ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار:رویندررینہ

اشرف چراغ 
کپوارہ//جموں کشمیرمیں اسمبلی حلقوں کی سرنو حدبندی کے بعد ہی اسمبلی انتخابات کاانعقاد ہوگا۔اس بات کااظہار بھارتیہ جنتاپارٹی کے جموں کشمیر کے صدر رویندررینہ نے کپوارہ ضلع کے سہ روزہ دورے کے آخری دن میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا۔انہو ں نے کہا کہ جمو ں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات منعقد کرانے میں بی جے پی حائل نہیں ہے بلکہ حد بندی کمیشن اپنی رپورٹ پیش کرے گا جس کے بعد جمو ں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات منعقد ہوںگے ۔رویندر رینہ نے اس بات کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا کہ جمو ں و کشمیر میں آئندہ حکومت بی جے پی کی ہوگی ۔انہو ں نے کہا کہ کپوارہ دورے کے آخری روز ان کے ساتھ کئی سیاسی جماعتو ں کے نمائندو ں کے علاوہ پہاڑی ویلفیئر فورم کے لوگ ملاقی ہوئے لہذا سیاست پر کوئی بھی بات نہیں ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ کپوارہ میں جتنے بھی عوامی نمائندے منتخب ہوئے ہیں،سب نے کپوارہ کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھر پور کردار نبھایا ۔انہوں نے کہا کہ کپوارہ ضلع انتظامیہ لوگو ں کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ضلع انتظامیہ نے آج تک حد متارکہ کے نزدیک گائو ں میں جاکر عوامی دربار منعقد کئے اور لوگو ں کے بنیادی مسائل حل کرنے کی کوشش کی ۔انہو ں نے کہا کہ شمالی ضلع کپوارہ کے لوگو ں کے ساتھ ساتھ پوری وادی کے لوگو ں میں حب الوطنی کا جذبہ ہے اور یہا ں کے لوگ ملک سے بے پناہ محبت کرتے ہیں ۔رویندر رینہ کا مذید کہنا تھا کہ ہمارا مشن یہ ہے کہ لوگو ں کے مشکلات حل ہو ۔انہو ں نے کہا کہ یہا ں کے لوگو ں نے گزشتہ30سالو ں کے دوران کافی تکالیف سہے ہیں اور اب حالات پر امن ہیں تاہم کچھ گنے چنے لوگ یہا ں حالات بگاڑنے کے خواہاں ہیں لیکن اب ایسا نہیں ہوگا کیونکہ لوگ تشدد سے نفرت کرتے ہیں ۔رویندر رینہ نے کہا کہ کپوارہ ضلع کے دورے کے دوران انہوں نے کرناہ کا بھی دور کیا جہا ں انہو ں نے لوگو ں کے مسائل جاننے کی کوشش کی ۔
 
 
 
 
 

رعناواری اسپتال میں RT-PCRٹیسٹ سہولیات شروع

 روزانہ 100 ٹیسٹ کئے جائیں گے: نوڈل آفیسر

پرویز احمد 
سرینگر //پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ، چندی گڑھ نے جواہر لال نہرو میموریل اسپتال رعناواری میں کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے قائم کی گئی لیبارٹری میں تشخیصی ٹیسٹ شروع کرنے کو منظوری دی ہے۔ جواہر لال نہرو میموریل اسپتال لیبارٹری میں ابتدائی طور پر روزانہ 100ٹیسٹ کئے جائیں گے۔ پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے شعبہ وائرولوجی کی جانب سے نوڈل آفیسر ڈاکٹر عقیلا فاطمہ کے نام مکتوب میں لکھا گیا ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی موموجودگی، آر ٹی پی سی آر کیلئے دستیاب سہولیات، عملہ کی دستیابی اور صحیح نتائج فراہم کرنے کی صلاحیت اور پی جی آئی چندی گڑھ کی سفارشات کی بنیاد پر آئی سی ایم آر نے اسپتال میں ٹیسٹنگ سہولیات شروع کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔نوڈل آفیسر جواہر لال نہرو میموریل اسپتال رعناواری ڈاکٹر بلقیس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ 3ماہ قبل ضلع گاندربل ، پلوامہ اور رعناواری اسپتالوں کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے درخواست طلب کی گئی تھی اور صرف 3ماہ کے اندر بنیادی ڈھانچے اورافرادی قوت کو تربیت فراہم کی گئی‘‘۔ڈاکٹر بلقیس نے بتایا کہ میڈیکل سپلائی کارپوریشن کی جانب سے مشینری فراہم کی گئی ہے۔ ڈاکٹر بلقیس نے بتایا کہ اسپتال میں ابتدائی طور پر روزانہ 100آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت ہوگی لیکن اس میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔  
 
 

کووِڈ - 19کی نئی قسم بہت زیادہ مہلک

ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کاقبل ہی احتیاطی اقدامات پرزور

سرینگر//کووِڈ- 19کی نئی قسم جوتیزی کے ساتھ اپنی ہیت بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے ،کے آشکار ہونے پر ڈاکٹر س ایسوسی ایشن کشمیر نے سخت تشویش کااظہار کرتے ہوئے وادی میں کووِڈ- 19مثبت نمونوں کی جینوم جانچنے پر زوردیا ہے تاکہ پتہ چلے کہ کہیں نئے قسم کاکوروناوائرس یہاں پہنچ تونہیں گیا ہے۔ایک بیان میں ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدرڈاکٹر نثارالحسن نے کہاکہ ہمیں جینوم کی جانچنے کے عمل میں تیزی لانی ہے تاکہ پہلے ہی نئے قسم کوشناخت کیا جاسکے اورسماج کو کووِڈ- 19کی کسی نئی لہر سے محفوظ رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ پہلے ہی نئے قسم کے وائرس کوپکڑنااس کے توڑ کیلئے مناسب اور موثر حکمت عملی ترتیب دینے کی کلید ہے۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ جینوم کی جانچ سے لیبارٹری میں پتہ چل جاتا ہے کہ یہ وائرس کس طرح اپنی ہیت تبدیل کرتا ہے۔کووِڈ کی نئی قسم جنوبی افریقہ میں منظر عام پر آئی ہے اوراسے بوتوسوانا،بیلجیم،ہانگ کانگ اور اسرائیل میں بھی پایاگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس قسم کے وائرس میں جنیوم 32ہیتیں بدلتا ہیں۔Omicron(اومی کرون) کے نام سے موسوم اس وائرس پر عالمی صحت تنظیم نے فکرمندی کااظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نئے قسم کا وائرس بہت زیادہ متعدی ہے اوراس کا شکار بہت زیادہ بیمار ہوتا ہے اورتشخیص اور علاج یا ٹیکہ کا اس پر کم ہی اثر ہوتا ہے۔ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈاکٹرریاض احمد ڈگہ نے کہا کہ آج کی دنیامیں کسی بھی جگہ کسی بیماری کے پھوٹ پڑنے کا مطلب ہر جگہ خطرہ ہونا ہے کیوں کہ آج کی دنیا ایک دوسرے سے کافی زیادہ جڑی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیرکے سیاحتی مقام ہونے کی وجہ سے یہاں نئے قسم کا وائرس کبھی بھی دستک دے سکتا ہے اور ہمیں اس کیلئے تیاررہنا ہے۔
 
 

کشمیریونیورسٹی میںNSSافسروں کیلئے تربیتی پروگرام ختم

سرینگر//کشمیریونیورسٹی میں سنیچر کوہائراسکینڈری اسکولوں کے این ایس ایس افسروں کاایک ہفتے کا تربیتی پروگرام اختتام پزیدہوا۔اس موقعہ پر یونیورسٹی کے رجسٹرارڈاکٹرنثاراحمدمیرمہمان خصوصی تھے۔کشمیر اورجموںصوبوں ہائراسکینڈری اسکولوںکے36اساتذہ نے اس تربیت میں حصہ لیا۔شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر میر نے نوجوانوں کو اقدار پر مبنی تعلیم دینے پرزوردیا تاکہ وہ سماجی خدمات کی اہمیت کوچھوٹی عمر میںسمجھ سکیں۔انہوں نے اساتذہ سے تاکیدکی کہ وہ اپنے طلاب میں سماجی ذمہ داریوں کودل نشین کریںاورزمینی سطح پرمختلف سماجی اور ماحولیاتی مشکلات سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کیلئے ان کی خدمات کواستعمال کیا جاسکے۔ میرنے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ جموں ضلع کے اساتذہ نے اس پروگرام میں حصہ لیاجس میں آفات سماوی کامقابلہ،موسمیاتی تبدیلی،نفسیاتی صحت اور ابتدائی طبی امدادجیسے موضوعات کااحاطہ کیاگیا۔ اس موقعہ پر ڈپٹی سپرانٹنڈنٹ پولیس عارف احمدشاہ مہمان خصوصی تھے۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ کچھ اذہان کو پختہ بنانے میں اساتذہ کا رول انتہائی اہم ہے۔
 
 
 

جموں کشمیر کے جنگلات

50فیصدرقبہ کو آگ کے خطرات لاحق

 سرینگر//موسم سرما کے ایام میں جنگلات میں آگ لگنے کے بڑھتے واقعات کے بیچ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جموں کشمیر میں 50فیصد جنگلات رقبہ آگ لگنے کیلئے انتہائی موزن ہیں ۔ ادھر لیفٹنٹ گورنر نے محکمہ جنگلات کو سائنسی طریقہ کار سے جنگلات کو بچانے کیلئے منصوبہ بندی کرنے کی ہدایت دی ہے۔سی این آئی کے مطابق جنگلی علاقوں میں ان دنوں آگ لگنے کے واقعات میں کافی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے جس دوران گزشتہ کئی دنوں سے کپواڑہ اور پونچھ علاقوں میں جنگلات آگ کی نذر ہو گئے اور وہاں کافی نقصان ہو گیا ہے ۔ اسی دوران ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جموں کشمیر میں 50فیصدی جنگلی علاقہ ایسا ہے جو آگ لگنے کیلئے نہایت موزون ہے ۔ تحقیق کے مطابق جموں و کشمیر میں 6646 کمپارٹمنٹس میں جنگلات کے کل رقبے کا 50فیصد ی سے زیادہ حصہ اعلیٰ اور درمیانے درجے کے خطرے سے دوچار علاقوں میں آتا ہے ،جہاں تک جنگلات میں آگ لگنے کا تعلق ہے اور جب تک تفصیلی ایکشن پلان فوری طور پر تیار نہیں کیا جاتا تو نقصان نہیں ہو سکتا۔ ’’ فارسٹ فائر ،رسک زون اینڈ ولنریبلٹی اسسمنٹ ‘‘کے عنوان سے محکمہ ماحولیات، ماحولیات اور ریموٹ سینسنگ کے زیر اہتمام ایک مطالعہ کے مطابق جموں و کشمیر کے جنگلاتی ڈویژنوں کے 6646 حصوں میں 27869.87 مربع کلومیٹر کے کل رقبے میں سے4282.21 مربع کلومیٹر انتہائی خطرے والے زون میں آتا ہیں اور نقصان کو کم کرنے کے لیے فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح9490.15 مربع کلومیٹر درمیانے خطرے کے زون میں، 4636.47 مربع کلومیٹر جنگل کی آگ کے کم خطرے والے زون میں آتا ہے اور 9457.04 مربع کلومیٹر غیر متوقع خطرے والے زون میں آتا ہے۔جہاں تک صوبہ جموں کا تعلق ہے، جنگلات کا 2392.58 مربع کلومیٹر انتہائی موزن علاقہ میں آتا ہے جب کہ 5528.58 مربع کلومیٹر درمیانے کمزور زون میں آتا ہے جب کہ کشمیر صوبے میں 1893.63 مربع کلومیٹر انتہائی موزون علاقے میں آتا ہے ۔ مطالعہ کے مطابق جموں و کشمیر میں پچھلے سالوں میں جنگلات میں آگ لگنے کے کل 4353 واقعات میں سے 2374 آتشزدگی کے واقعات زیادہ خطرے والے علاقوں میں، 1592 آتشزدگی کے واقعات درمیانے خطرے والے زون میں اور 166 واقعات کم خطرے والے زون میں پیش آئے ہیں۔ مطالعہ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ جنگلات میں انسانی دبائو زیادہ ہونے کے نتیجے میں آگ لگنے کے وجوہات میں زیادہ اضافہ ہو تا جا رہا ہے جو نباتات اور حیوانات کے لیے سنگین خطرہ ہے اور اس علاقے کی ماحولیات پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ 
 
 
 

درجہ چہارم اسامیوں کی بھرتی 

منتخب امیدواروں کو نوکری نہ دینا بلاجواز:قیوم وانی

سرینگر//سول سوسائٹی فورم نے جموں کشمیر کے امیدواروں کے ساتھ اہلیت کے معیار پرنوکریوں میں امتیاز برتنے پرتشویش کااظہار کیا ہے۔ایک بیان میں سول سوسائٹی فورم کے چیئرمین عبدالقیوم وانی نے کہا کہ8575درجہ چہارم اسامیوں کی بھرتی کیلئے انٹرویوں کا پورا عمل مکمل ہونے کے بعد حکومت نے ان منتخب امیدواروں کونوکری نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جن کا کوئی رشتہ دار جنگجویت سے وابستہ رہا ہو۔سول سوسائٹی فورم نے حکومت کے اس رویہ پرحیرانگی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس میں منتخب امیدواروں کو کسی دوسرے کے گناہ کی سزادی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی امیدوار کے والدین یا کوئی اور رشتہ دار اس تشددزدہ خطہ میں جنگجویت کے ساتھ وابستہ رہا ہے تو اس میں اُس کا کیا گناہ ہے اور اِس کو کیوں دوسرے کے گناہ کی سزادے کر روزگار سے محروم کیاجارہا ہے۔ فورم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے فیصلے کوواپس لیں۔
 
 

سینٹرل یونیورسٹی تعلیمی محاذ پربہترین کارکردگی کی وعدہ بند

 ارشاد احمد 
گاندربل//سینٹرل یونیورسٹی کشمیر کے شعبہ سیاحت کے مطالعہ نے گرین کیمپس میں ٹورازم اینڈ ہاسپیٹلیٹی مینجمنٹ کے نئے طلبا کے لیے دو روزہ انڈکشن کم اورینٹیشن پروگرام کا انعقاد کیا۔طلبا کو یونیورسٹی اور شعبہ کے کام کاج سے آگاہ کرنے کے لئے باقاعدگی سے اس طرح کے پروگرام منعقد کرنے پرشعبہ سیاحت کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر فاروق احمد شاہ نے کہا کہ یہ شعبہ یونیورسٹی کے فلیگ شپ شعبہ میں سے ایک ہے اور طلبا نے کامیابی کے ساتھ اپنی کارکردگی کا ثبوت دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیرکے طلاب سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبوں میں مہارت حاصل کریں۔ پروفیسر فاروق شاہ نے کہا کہ یونیورسٹی کے تمام دفاتر، اثاثے، فیکلٹی، عملہ اور وسائل طلبا کے لئے دستیاب ہیں اور رہیں گے، انہوں نے مزید کہا کہ سنٹرل یونیورسٹی کشمیر طلبا پر مرکوز یونیورسٹی ہے اور ہمارے لیے وقت بہت اہم ہے۔لہذا یونیورسٹی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ مشکلات اور دیگر رکاوٹوں کے باوجود تعلیم کے معیار پر سمجھوتہ کیے بغیر ایک بھی دن ضائع نہ ہو اور ڈگریاں وقت پر دی جائیں۔پروفیسر شاہ نے مزید کہا کہ آپ طلبا ہماری یونیورسٹی کے سفیر ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ اپنے پروگرام میں اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ شامل ہوں گے اور اس یونیورسٹی کا سر فخر سے بلند کریں گے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رجسٹرارپروفیسر ایم افضل زرگر نے نئے داخلہ لینے والے طلبا سے کہا کہ وہ سنٹرل یونیورسٹی کشمیر میں رہتے ہوئے خود کو لیڈر کے طور پر تیار کریں۔ہم یہ مانتے ہیں کہ ابھی ہمارے پاس بہترین تعمیراتی ڈھانچے موجود نہیں ہیں ساتھ ہی دیگر سہولیات نہ ہوں، لیکن ہم آپ سے تعلیمی اور امتحانی محاذ پر بہترین دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔
 
 

بھاجپا کے سرکردہ رکن ارون چھبرپارٹی سے مستعفی

جموں//بھارتیہ جنتاپارٹی کے جموں کشمیر یونٹ کے پبلسٹی سیکریٹری ارون کے چھبر نے پارٹی کی بنیادی رکنیت سے انہیں نظر انداز کرنے اوران کے ساتھ ہتک آمیزسلوک کرنے پراستعفیٰ دیاہے۔ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی کے ساتھ گزشتہ چالیس برس سے وابستہ رہے ہیں اورپوری تندہی سے کام کرتے آئے ہیں۔میں بھاجپا کے ساتھ1980جب یہ پارٹی معرض وجودمیں آئی،سے منسلک ہوں۔انہوں نے کہا کہ جب تک ہم اقتدار میں نہیں تھے ہم اپنی سطح پرلوگوں کی مشکلات اور مسائل کوحل کرتے تھے لیکن گزشتہ کئی برس سے جب سے ہم (جموں کمشیر) میں برسراقتدار آئے ہیں ،عوام سے ہمارارابطہ ہی ٹوٹا۔
 
 
 

دوافسراں کے تبادلوں کا حکم

سرینگر//بلال فرقانی// سرکار نے دوجموں کشمیر انتظامی سروس افسراں کے تبادلے عمل میں لائے ہیںجبکہ اضافی چارج بھی تفویض کیا گیا۔ سرکار کی جانب سے ہفتہ کو جاری حکم نامہ کے مطابق ٹوارزم ڈیولپمنٹ اتھارٹی دودھ پتھری کی چیف ایگزیکٹو افسر ڈاکٹر نرگس ثریا کو تا حکم ثانی اپنی ذمہ داریوں کے علاوہ ٹوارزم ڈیولپمنٹ اتھارٹی توسہ میدان کی چیف ایگزکیٹو افسر کا اضافی چارج دیا گیا۔ کمشنر سیکریٹری عمومی انتظامی محکمہ منوج کمار دیودی کی جانب سے جاری ایک اور علیحدہ سرکاری حکم نامہ کے مطابق محکمہ اعلیٰ تعلیم کے ڈپٹی سیکریٹری وکاس دھر باغاتی،جنہیں سب ڈویژنل مجسٹریٹ تھنہ منڈی کے طور پر تبدیل کیا گیا تھا،کو27نومبر سے فارغ کیا گیا،جبکہ انہیں نئی تقرری کے مقام پر فوری طور پر رپورٹ  کرنے کی ہدایت دی۔
 
 
 

کولگام سڑک حادثہ میںنوجوان ہلاک

 سری نگر//یواین آئی// جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے یاری پورہ علاقے میں ہفتے کی شام کو ایک سڑک حادثے میں 38 سالہ نوجوان کی موت واقع ہوئی جبکہ دو دیگر زخمی ہوئے ہیں۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ کولگام کے یاری پورہ گائوں میں ہفتے کی شام کو دو موٹر سائیکلوں کے درمیان زور دار ٹکر ہونے کے باعث ایک نوجوان کی موقع پر ہی موت واقع ہوئی جبکہ حادثے میں مزید دو نوجوان شدید طورپر زخمی ہوئے جنہیں علاج ومعالجہ کی خاطر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا۔متوفی کی شناخت 38 سالہ اعجاز احمد راتھر کے بطور ہوئی ہے جبکہ زخمیوں کی پہچان شیراز احمد بٹ ولد عبدالرشید اور قاسم منتو ولد خضر منتو ساکنان ہٹی پورہ کے بطور کی گئی ہے ۔پولیس نے معاملے کی نسبت کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کی ہے ۔
 
 
 

رانچی میں3کشمیریوں کی مارپیٹ،3گرفتار

  سر ینگر / /پولیس نے رانچی میں تین کشمیریوں کی مارپیٹ کرنے پرتین افراد کو حراست میں لیا ہے۔ کے این ایس کے مطابق پولیس نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس معاملے میں اب تک تین لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔رانچی پولیس کا کہنا ہے کہ آج رانچی کے ڈورانڈا علاقے میں ایک سڑک پر کھڑے رکشے کو ہٹانے پر جھگڑے کے بعد تین کشمیریوں کو لوگوں کے ایک گروپ نے مارا پیٹا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کشمیر وادی سے تعلق رکھنے والے مزدور،کار باری افراد کے علاہ طلباء کوبار بار بیرون ریاستوں میں مارا پیٹا جاتا ہے حتیٰ کہ اس حوالے سے اگر چہ آج تک کئی اقدامات کئے گئے ، تاہم یہ سلسلے رکنے کا نام نہیں لے رہا ہیں جس کی وجہ سے بیرون ریاستوں میں مقیم کشمیری خوفزدہ ہو ئے ہیں ۔ 

319پولیس اہلکار ترقیاب

سرینگ//محکمہ جاتی ترقیاتی کمیٹی کی یہاں صوبائی پولیس سربراہ وجے کمار کی صدارت میں میٹنگ منعقد ہوئی جسمیں کانسٹیبلوں،سارجنٹ کانسٹیبلوں،ہیڈکانسٹیبلوں کی کارکردگی کاجائزہ لیاگیا۔محکمہ جاتی ترقیاتی کمیٹی کی سفارشات پر319 اہلکاروں جن میں57کانسٹیبلوں کوسارجنٹ کانسٹیبل بنایاگیا،93سارجنٹ کانسٹیبل ہیڈکانسٹیبل اور166ہیڈکانسٹیبل ،اسسٹنٹ سب انسپکٹر بنائے گئے۔اس کے علاوہ3افسروں اورمزید10افسروں کوبھی خصوصی محکمہ جاتی ترقیاتی کمیٹی کی سفارش پرترقی دی گئی۔صوبائی پولیس سربراہ نے ترقی پانے والے سبھی اہلکاروں کو مبارکباد پیش کی ہے۔
 
 

SRTCکی بجلی سے چلنے والی بسیں پھر سڑکوں پررواں دواں

 سرینگر//قریب ایک ہفتے تک بند رہنے کے بعد اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بجلی سے چلنے والی گاڑیاں ایک بار پھر سڑکوں پر دوڑتی نظر آئیں۔ محکمہ ٹریفک نے ان گاڑیوں کو یہ کہہ کر چلنے سے روک دیا تھا کہ ان کی وجہ سے شہر میں ٹریفک جام ہوتا ہے ۔ چھ روز تک سڑکوں سے غائب رہنے کے بعد جموں و کشمیر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بیٹری سے چلنے والی گاڑیاںشہر سرینگر کی سڑکوں پر دوبارہ نظر آئیں۔ان گاڑیوں پر رواں ماہ کی 19 تاریخ کو شہر میں چلنے پر ٹریفک محکمے کی جانب سے پابندی عائد کی گئی تھی،جس کے بعد سے یہ گاڑیاں لال چوک میں قائم جے کے ایس ار ٹی سی کے یارڈ میں کھڑی تھیں۔گزشتہ روز صبح سے یہ گاڑیاں دوبارہ شہر کی سڑکوں پر دوڑتی نظر آئیں۔ جے کے ایس ار ٹی سی ورکرز یونین کے صدر وجاہت حسین درانی کا کہنا ہے کہ گزشتہ شام انتظامیہ کی جانب سے ان گاڑیوں پر عائد پابندی ہٹائی گئی۔ جس کے لیے جموں وکشمیر انتظامیہ و دیگر اعلیٰ افسران کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ہم آپ کو بتادیں کہ گزشتہ روزذرائع ابلاغ اس حوالے سے تفصیلی خبریں شائع ہوئی تھیں جس میں جے کے ایس ار ٹی سی کے ملازمین نے ان گاڑیوں کے بند ہونے کی وجہ سے عوام کو ہو رہی مشکلات کا تفصیلی ذکر کیا تھا۔گاڑیوں کے بند ہونے کے بعد جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے حکم نامے میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے ان گاڑیوں پر پابندی عائد کرنے اور عوام کو ہو رہی مشکلات پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔انہوں نے ان گاڑیوں اور دیگر سرکاری اداروں کی گاڑیوں کی شہر میں آمدورفت پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ دور کرنے پر زور دیا ہے۔ان الیکٹرک بسوں پر پابندی سے نہ صرف کارپوریشن کی آمدنی میں نقصان ہوا ہے،بلکہ عوام کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔واضع رہے کہ سنہ 2019 میں مرکزی حکومت کی فیم اسکیم کے تحت جے کے ایس ار ٹی سی کو چالیس بجلی پر چلنے والی گاڑیاں فراہم کی گئی تھیں۔ جن میں سے 20 جموں کو جبکہ دیگر 20 سرینگر کو دی گئی۔ ان گاڑیوں کو شہر میں عوامی ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانے کے غرض سے لایا گیا تھا۔ تاہم رواں مہینے کی 19 تاریخ کو ان گاڑیوں کو شہر میں چلنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔
 
 
 

تازہ ترین