پاکستان کے مقابلے بھارت کے ڈرون انسانیت کی خدمت انجام دے رہے ہیں: جتندرسنگھ

تاریخ    28 نومبر 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
جموں//پاکستان کی طرف سے ڈرونوں کو بھارتی حدود میں اسلحہ اُتارنے اور جنگجویت کو فروغ دینے میں استعمال کرنے کے برعکس،بھارت ڈرونوں طیاروں کوانسانیت کی خدمت کیلئے استعمال میں لارہا ہے۔اس بات کااظہار وزیراعظم کے دفترمیں وزیرمملکت ڈاکٹر جتندرسنگھ نے سنیچرکوجموں کشمیرکے سرحدی علاقوں میں ڈرون طیاروں کے ذریعے کووِڈ- 19ویکسین پہنچانے کی کارروائیوں کی شروعات کے موقعہ پر کیا۔ملک میں ہی درمیانی درجے کے تیار کئے گئے بغیر انسان کے فضائی گاڑی کوسی ایس آئی آرکمپلکس سے کووِڈ- 19ٹیکوں کی50شیشیوں کے ساتھ روانہ کیا گیا جو اس ڈرون طیارے نے کامیابی کے ساتھ ہندپاک سرحد پر واقع مڑھ علاقے میں ایک پبلک ہیلتھ سینٹر پر پہنچائے۔مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جنتدرسنگھ نے کہاکہ پاکستان انسانی جانوں کو نقصان پہنچانے کیلئے ڈرون طیاروں کو بارودی موادگرانے کیلئے استعمال کررہا ہے تاکہ جنگجویت کو فروغ حاصل ہو،لیکن ہمارے ڈرون ’سنجیونی بوٹی‘ کو پہنچانے والے ہیں جوانسانیت کی خدمات کیلئے استعمال میں لائے جارہے ہیںاورامن کا پیغام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صحت کارکن جو کووَِڈ- 19ٹیکہ کاری کاکام انجام دیتے ہیں ،کو جموں کشمیر،ہماچل،اتراکھنڈ اوراروناچل پردیش کے دوردرازعلاقوں میں لوگوں تک پہنچنے میں مشکلات درپیش ہیں۔سنگھ نے کہا کہ اس طرح کے ڈرون طیارے کافی مدددے سکتے ہیں اورحکومت کے صدفیصد ٹیکہ کاری کے عزم کو بھی پورا کرنے میں مدد دیں گے۔جموں کشمیرمیں ڈرون طیاروں کے استعمال پرپابندی سے متعلق وزیر نے کہا کہ فکر کرنے کی کوئی بات نہیں ہے کیوں کہ تمام حفاظتی اقدام کئے گئے ہیں اوت متعلقہ حکام سے اجازت بھی طلب کی گئی ہے۔شہری ہوابازی کی وزارت نے 13ستمبر کوCSIR-NALکوڈرون طیاروں کی آزمائشی اُڑانوں کی مشروط اجازت دیدی تھی۔ڈاکٹر جتندرسنگھ کو سی ایس آئی آر کے نائب صدر بھی ہیں،نے کہا کہ یہ ملک کیلئے فخریہ لمحہ ہے کہ منگلور میں تیار کیا گیا ڈرون کووِڈ-  19کی وباء کے خلاف نئے جانبازکے طور استعمال کیاجائے گا۔
 

تازہ ترین