تازہ ترین

ریاستی درجے کی بحالی جد وجہد کا مرکز | 5اگست کو عقل سے عاری فیصلہ کیا گیا: آزاد

تاریخ    28 نومبر 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
کولگام/ /سینئر کانگریس لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے کہا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار کسی ریاست کو تقسیم کر کے اسے دو حصوں میں بانٹا گیا۔ قاضی گنڈکولگام میں عوامی جتماع سے خطاب ہوئے آزاد نے کہا کہ 5اگست کو جو کچھ بھی کیا گیا وہ عقل سے عاری فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا’پانچ اگست 2019کو جموں و کشمیر پر بجلی گری جب ایسے فیصلے کئے گئے جن کے بارے میں جموں و کشمیر اور لداخ کے لوگوں  نے ہی نہیں بلکہ ملک کے لوگوں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا اور ملک کی ایک پرانی ریاست کو دو حصوں میں منقسم کیا گیا‘۔ان کا کہنا تھا: ’جموں و کشمیر وہ ریاست ہے جس کو دنیا بھر میں جانا جاتا ہے اور جس پر اقوام متحدہ میں گذشتہ 70برسوں کے دوران بحثیں ہوئیں اور دنیا کے مختلف ممالک میں اس پر بات ہوئی۔ آزاد نے کہا کہ جب  1947 میں ملک کا بٹوارہ ہوا اس وقت جموں و کشمیر کی عمر 101 برس تھی، اس وقت 563 ریاستیں تھیں جن کو ملا کر 12 صوبے بنا دئے گئے لیکن جموں وکشمیر کو اس وقت بھی کسی صوبے کے ساتھ ملانے کی ضرورت نہیں پڑی‘۔ان کا کہنا تھا، آج جب جموں و کشمیر کی عمر پونے دو سو برس تھی اس کو دو حصوں میں منقسم کیا گیا جو دنیا کی تاریخ میں شاید پہلی بار ہوا ہے کہ ایک ریاست کو یونین ٹریٹری میں تبدیل کر دیا گیا‘۔موصوف نے کہا کہ جموں و کشمیر کو دو وفاقی حصوں میں تبدیل کرکے ایسا ہی کیا گیا جیسے کسی ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو تھانہ دار بنایا جائے یا کسی وزیر اعلیٰ کو رکن اسمبلی اور چیف سیکریٹری کو پٹواری کے عہدے پر براجمان کیا جائے۔انہوں نے کہا یہ ایک ایسا کام ہے جس کو کوئی عقل مند آدمی نہیں کر سکتا ۔ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر پر افغانوں اور سکھوں کے دور حکومت میں بھی ظلم ہوا ہے۔تاہم انہوں نے جموں وکشمیر کی سکھ برادری سے وابستہ لوگوں کی تعریفیں کیں۔انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں جموں و کشمیر میں لوگوں کے چہروں پر غم ہے اور ہر سو مایوسی ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جس کی وجہ سے وہ بات نہیں کر پا رہے ہیں اور خوش نہیں ہیں۔
 

تازہ ترین