تازہ ترین

نیلا جزیرہ

کہانی

تاریخ    28 نومبر 2021 (00 : 01 AM)   


طارق شبنم
ڈیوڈ جان کو جب ہوش آیا تو اس نے اپنے آپ کو لکڑیوں اور گھاس پھونس سے بنے ایک چھوٹے کمرے میں پایا ۔ایک توانا شخص، جس کے بدن پر برائے نام لباس تھا، تیر کمان لئے بڑی مستعدی سے اس کے پاس کھڑا تھا ۔اس نے اُٹھنا چاہا لیکن اٹھ نہ سکا کیوں کہ اس کے جسم کا انگ انگ درد سے چور تھا اور شدید پیاس بھی لگی تھی۔اس کے پاس موجود شخص نے جب دیکھا کہ اسے ہوش آگیا تو اس نے کسی کو آواز دی جس کے ساتھ ہی اُسی جیسے دو اور اشخاص کمرے میں داخل ہو گئے اور وہ تینوں آپس میں کچھ گفتگو کرنے لگے ۔ 
’’پانی ۔۔۔۔۔۔ پانی ۔۔۔۔۔‘‘۔
ڈیوڈ کے مُنہ سے دھیرے سے نکلا تو وہ اس کی طرف متوجہ ہو گئے ۔ایک شخص دوڑ کے گیا اور مٹی کے ایک برتن میں پانی لے آیا جب کہ دوسرے نے اُسے سہارا دیکر اٹھایا اور پانی پلایا ۔کچھ دیر بعد اس کے سامنے گرم گرم چائے اورسادہ روٹی رکھی گئی جس کے ساتھ ہی دو اشخاص چلے گئے اور ایک اسی کے پاس موجود رہا ۔ڈیوڑ جسے شدید درد اور تھکان محسوس ہو رہی تھی چائے پیتے پیتے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرنے لگا کہ وہ کہاں اور کن لوگوں کے درمیان پھنس گیا ہے لیکن دماغ پر کافی زور ڈالنے کے باوجودبھی اسے کچھ سمجھ میں نہیں آیا ۔
’’بھائی صاحب ۔۔۔۔۔۔ یہ کونسی جگہ ہے ؟اور میں یہاں کیسے پہنچ گیا؟‘‘  
اس نے اس شخص سے پوچھا۔
’’یہ ہماری دنیا ہے اور جلد ہی پتہ چلے گا کہ تم یہاں کیسے اور کس مقصد کے لئے آئے ہو ؟‘‘
اس نے نفرت بھری نظروں سے ڈیوڈ کو دیکھتے ہوئے بارعب لہجے میں کہا ۔اس کی زبان سے لفظ ہماری دنیا سن کر ڈیوڈ اس شش و پنج میں مبتلا ہو گیا کہ آ خر یہ کونسی دنیا ہے ؟ڈیوڈ ایک سائینسدان تھا جو سمندری مخلوق پر تخلیق کر رہا تھا ، اس سلسلے میں وہ جدید آلات سے لیس اپنی کشتی لے کر سمندر میں بہت دور نکل گیا تھا اور کشتی کے نظام میں خرابی کے سبب راستہ بھٹک گیا تھا ،جس دوران اچانک ا س کے سر سے کوئی بھاری چیز ٹکرائی تھی ،اس کے بعد کیا ہوا اُسے کچھ معلوم نہیں تھا ۔چائے پینے سے ڈیوڈ کے جسم میں توانائی آگئی اور اس نے یہ سوچ کر حاجت بشری کے بہانے باہر جانے کی خواہش ظاہر کی تاکہ یہ جاننے کی کوشش کرے کہ یہ کونسی جگہ ہے اور یہاں سے رہائی کیسے ممکن ہو گی ۔اس کی نگرانی پر مقیم شخص نے اس کی کلائی پر مضبوط رسی باندھی اور اُسے باہر لے لیا ۔ڈیوڈ یہ دیکھ کر مایوس ہوگیا کہ یہ جیل نما جگہ لمبی لمبی لکڑیوں سے ایسی بندھی تھی کہ باہر نظر نہیں پڑ رہی تھی ۔
’’بھائی صاحب۔۔۔ آپ لوگوں نے مجھے کیوں پکڑ رکھا ہے ؟آخر میری غلطی کیا ہے ؟‘‘
اس نے انتہائی عاجزانہ لہجے میں اپنے نگران سے کہا ۔
’’ہماری دنیا پر بُری نظر ڈالوگے تو یہی انجام ہوگا‘‘ ۔
اس نے سخت لہجے میں کہا ۔
’’کیا کیا ہے میں نے ؟‘‘
’’تم ہماری دنیا میں جاسوسی کرنے آئے تھے تاکہ اپنی دنیا کی طرح اسے بھی تباہ و برباد کرکے رکھ دو‘‘ ۔ 
’’یہ کون سا ملک ہے ؟‘‘
’’اے چپ ہو جا‘‘ ۔
اس نے غصے بھرے لہجے میں کہا اور اسے واپس اپنی جگہ لے کر قید کر کے رکھ دیا ۔شام ہوئی تو مشعل جلائی گئی ،ڈیوڈ کو کھانا دیا گیا ،دو نئے آدمی اس کی نگرانی پر ممور کئے گئے اور وہ کھانا کھا کر بستر پر لیٹ گیا ،لیکن نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی اور دل غم کے بوجھ تلے پسا جارہا تھا ۔وہ رات بھر یہ سوچتے ہوئے بے چینی کے ساتھ کروٹیں بدلتا رہا۔ آخر یہ کون جاہل لوگ ہیں جن کا نہ لباس مناسب ہے اور نہ ہی جنہیں بات کرنے کا سلیقہ ہے۔صبح سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی وہ اٹھ بیٹھا تو اس کی نگرانی پر معمور ایک شخص اُسے رسی سے باندھ کر حاجت بشری کے لئے باہر لے گیا ،فارغ ہو کر اس نے وہاں بہہ رہی ایک ندی پر منہ ہا تھ دھویا اور اُسے واپس لا کر اپنی جگہ پر بٹھا یا گیا ،دوسرے نگران نے مسکراتے ہوئے اس کے سامنے چائے اور روٹی رکھی ۔
’’بھائی صاحب ۔۔۔۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا ہے ،خدا کے لئے مجھے چھوڑ دو‘‘ ۔
ڈیوڈ نے اس کی مسکراہٹ کا فائیدہ اٹھاتے ہوئے عاجزانہ لہجے میں کہا ۔
’’میں کچھ نہیں کرسکتا ۔ہاں آج آپ کو سردار کے سامنے پیش کیا جائے گااور۔۔۔‘‘۔
’’ماپو ۔۔۔۔‘‘۔
اس سے پہلے وہ کچھ اور کہتا اس کے ساتھی نے اسے آواز دی ،وہ اس کے پاس گیا اور وہ آپس میں کچھ گفتگو کرنے لگے ۔
’’تم تیار رہنا ،کچھ دیر میں تمہیں سردار کے سامنے پیش کیا جائے گا‘‘ ۔
واپس آکر اس نے ڈیوڈ کو بتایا اور کچھ دیر بعد اُسے رسی سے جھکڑکر سردار کے سامنے پیش کرنے کے لئے لے جایا گیا ۔ ایک بڑا میدان تھا جہاں بہت سے مرد وزن بچے اور بزرگ سج دھج کر بیٹھے تھے اور سردار تخت پر براجمان تھا ،جس کے ارد گرد کئی جوان تیر کمان لئے مستعدی سے کھڑے تھے ۔جب وہ میدان میں پہنچا تو سارے لو گ اسے عجیب نظروں سے دیکھنے لگے اور چُھوما ۔۔۔چُھوما کی آوازیں نکالنے لگے ،میدان میں ایک شور سا بھرپا ہو گیا لیکن سردار کے ایک اشارے پر سارے لوگ خاموش ہو گئے اور اسے سردا ر،جس کے سر پر تاج تھا اور بدن پر عجیب قسم کی نقش نگاری تھی، کے روبرو پیش کیا گیا ۔
’’تمہارا نام کیا ہے ؟‘‘
سردار کے حکم پر وہاں موجود ایک شخص نے اسے پوچھا۔ 
’’ڈیوڈ جان‘‘۔ 
’’سچ سچ بتائو کس مقصد سے آئے ہو‘‘ ۔
’’جناب میں ایک سائینس دان ہو ںاور سمندر میں راستہ  بھٹکنے کی وجہ سے یہاں پہنچ گیا‘‘ ۔
’’سائینس دان ۔۔۔۔۔۔ پھر تو تو ضرور ہماری دنیا میں جاسوسی کرنے اور تباہی پھیلانے کے مقصد سے آیا ہوگا‘‘ ۔
’’نہیں حضور ،ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔میں جاسوس نہیں ہوں بلکہ۔۔۔‘‘۔
’’تم جو بھی ہو یہاں سے تمہاری رہائی ممکن نہیں ہے‘‘ ۔
’’مگر کیوں ۔۔۔۔۔؟‘‘
’’کیوں کہ ہمیں تمہاری دنیا اور وہاں کے بے انصاف ،لالچی اور دھوکے باز لوگوں سے سخت نفرت ہے اور ہم نہیں چاہتے ہیں کہ ہماری اس خوبصورت دنیا پر تم لوگوں کی نظر بھی پڑے‘‘۔
’’ ایسا کیا کیا ہے ہم نے ؟ ہم تو ترقی پسند ،امن پسند اور محبت کرنے والے لوگ ہیں‘‘۔ 
’’ترقی پسند ،امن پسند ۔۔۔۔سب جانتے ہیں ہم ۔اگر تمہاری دنیا ترقی پسند ہے تو وہاں کے لوگ بھوک کے سبب کیوں مر رہے ہیں؟اگر تم امن پسند ہو تو وہ جنگیں کون لڑ رہا ہے؟ جن میں معصوم بچے اور عورتیں بھی بے دردی سے ماری جاتی ہیں اور محبت کا تو تم لوگوں کو علم ہی نہیں ہے،اپنی خوشی کے لئے وحشی درندوں کی طرح بے دردی سے دوسروں کا خون بہاتے ہو ،طاقت کے بل پر دوسروں کا حق مارتے ہو۔اگر آپ لوگ اسی کو امن اور ترقی کا نام دیتے ہیں تو ہم آپ سے لاکھ درجہ بہتر ہیں۔ہمارے یہاں نہ کوئی جنگ و جدل ہے اور نہ ہی کوئی بھوک سے مرتا ہے اور نہ ہی نفرت اور لالچ ہے بلکہ ہم مل بانٹ کے کھا کر محبت سے رہتے ہیں اور چین و سکون کی زندگی گزارتے ہیں۔۔۔۔۔۔‘‘۔
     ’’ہم تمہاری باتوں پر کیسے یقین کریں،راستہ بھٹکنے کی کوئی وجہ ؟‘‘
سردار بیچ میں مداخلت کرتے ہوئے اسے مخاطب ہوا۔
’’ جناب ۔۔۔۔۔۔ میری کشتی کے راستہ دکھانے والے نظام میں خرابی پیدا ہونے کی وجہ سے ایساہوا ۔۔۔‘‘۔ 
ااُس نے پر اعتماد لہجے میںتفصیل سے اپنی ساری رودار رسردار کو سنا دی اور لجاجت سے ہاتھ جوڑ کر اپنی رہائی کی درخواست کی ۔سردار نے سر تاپا اس کا جائیزہ لینے اور کچھ لمحے سوچنے کے بعد اپنے آدمیوں سے کچھ کہا اوروہ اسے وہاں سے لے گئے ۔اسے لکڑی اورمٹی سے بنے ایک قدرے اچھے مکان میں لے جایا گیا جس کے خوبصورت صحن میں قسم بہ قسم کے پھول کھلے ہوئے تھے اور لکڑی سے بنی کچھ کرسیاں بھی تھیں ۔اسے صحن میں ہی کرسی پر بٹھایا گیا اور کھا نا کھلایا گیا ۔
’’ یہ کون سی جگہ ہے ؟اس نے نگران سے پوچھا‘‘۔
’’یہ اس علاقے کے مُکھیا کا گھر ہے ۔
’’مگر میری رہائی ۔۔۔۔۔‘‘۔
’’ سردار کا حکم ہے کہ تمہیں کل دوبارہ دربار میں پیش کیا جائے ‘‘۔
کچھ دیر بعد مکھیا ،جوایک ہٹا کٹا بارعب انسان تھا، آیا اورپوچھا ۔
’’سائینس دان ۔۔۔۔۔۔ اب بتائو تمہارے ارادے کیا ہیں ،سچ بتانے پر ہم تمہیں چھوڑ بھی سکتے ہیںورنہ یہیں سڑجائوگے‘‘۔
      ڈیوڈ،جس کے مُنہ میں جیسے زبر دستی کڑوی گولیاں ٹھونسی جا رہیں تھیں ، قسمیں اٹھا اٹھا کر پھراپنی بے گناہی بیان کرنے لگا۔۔۔۔۔۔
’’اچھا ٹھیک ہے ،فی الحال تم یہیں رہو گے اور ہاں اگر کوئی ہوشیاری دکھانے کی کوشش کی تو مارے جائو گے‘‘ ۔
اس نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا ۔
’’ میں ایسا کچھ نہیں کروںگا لیکن میری ایک گزارش ہے‘‘ ۔
’’بولو۔۔۔۔‘‘
’’میں تھوڑا گھومنا پھرنا چاہتا ہوں‘‘۔
’’ٹھیک ہے ‘‘۔
اس نے نگران سے کچھ کہا اور چلا گیا ۔تیر کمانوں سے لیس دو نگران اسے گھمانے لے گئے اور وہ وہاں کے جنت جیسے نظارے دیکھنے میں محو ہو گیا ۔ چاروں طرف سے سمندر سے گھری اس جزیرہ نما جگہ پر گھاس پھونس ،مٹی اور لکڑی سے بنے چھوٹے چھوٹے کچےمکانوں کی خوبصورت بستی تھی، جہاں ہر طرف سبزہ ہی سبزہ اورجا بجا بڑے بڑے درخت تھے جب کہ حیرت انگیز طور پر چشموں اور ندی نالوں کا پانی اور فضا میں اُڑ رہے پرندوں کا رنگ بھی نیلا تھا۔موسم بھی انتہائی معتدل تھالوگ بھاگ کھیتوں میں کام میں مصروف خوشی کے گیت گنگنارہے تھے جس سے وہ کافی محظوظ ہو رہا تھا۔چلتے چلتے وہ ایک بازار میں پہنچ گئے ،جہاں لوگ خرید فروخت میں مصروف تھے ۔ایک بڑے سٹور، جہاں اشیائے خوردنی ،کپڑے اور دیگر چیزیں وافر مقدار میں موجود تھیں، میں کوئی گاہک نظر نہیں آیا ۔ڈیوڈ وہاں رک گیااور کچھ پھل لئے تو اسے یاد آیا کہ اس کے پاس کوئی پیسہ نہیں ہے ۔
’’بھائی صاحب ۔۔۔۔۔۔ معاف کردیجئے میں بعد میں لے لوں گا‘‘ ۔
اس نے شرمندہ سے لہجے میں کہا ۔
’’کیوں ،پھل ٹھیک نہیں ہیں کیا ؟‘‘
’’نہیں ایسی بات نہیں ہے ،دراصل میرے پاس پیسے نہیں ہیں‘‘ ۔
’’ ارے بھیا ۔۔۔۔۔۔ تم سے پیسے کس نے مانگے ،یہ دکان غریبوں اور محتاجوں کے لئے ہی تو ہے‘‘ ۔
اُس نے پھلوں سے بھرا تھیلا اسے تھماتے ہوئے کہا ۔
’’ مگر پھر یہاں کوئی کچھ لینے کے لئے کیوں نہیں آتا‘‘ ۔
ڈیوڈ نے حیران ہو کر پوچھا ۔
’’ یہاں کے لوگ محنت کی کمائی کو ہی پسند کرتے ہیں ۔خال خال ہی انتہائی مجبوری کی حالت میں کوئی بیوہ یا کوئی محتاج کچھ لینے کے لئے یہاں کا رخ کرتا ہے اور زیادہ تر لوگ دینے کے لئے ہی آتے ہیں‘‘ ۔
اس نے کہا ۔
ایک جگہ لکڑیوں سے بنی قدرے بڑی عمارت تھی جس کے وسیع صحن میں بہت سے بزرگ مرد و خواتین گپ شپ اور چائے کی چسکیاں لینے میں مصروف تھے جب کہ بہت سے بچے کھیل رہے تھے ۔
’’یہ بڑی عمارت کس لئے ہے اور یہ بزرگ لوگ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ ‘‘         
اس نے اپنے نگرانوں سے پوچھا ۔
’’یہ یہاں کا اولڈ ایج ہوم ہے لیکن یہاں ابھی مستقل طور پر کوئی نہیں رہتا ہے کیوں کہ یہاں کے بچے اپنے والدین کو ہرگز اپنے سے دور رکھنا نہیں چاہتے ہیں لیکن دن کو یہ بزرگ لوگ بچوں کو ساتھ لے کر وقت گزاری کے لئے آتے ہیں اور یہاں ان کی خوب خاطر تواضع کی جاتی ہے ‘‘۔                                                                                          
کافی دیر تک گھومنے پھرنے کے بعد ڈیوڈ اپنے ٹھکانے پر واپس پہنچا اور صحن میں چائے کی چسکیاں لینے میں مصروف ہو گیا۔کچھ دیر بعد مُکھیا بھی آکر اپنی مخصوس جگہ پر کرسی پر بیٹھ گیا۔ اسی لمحے تین آدمی آکر مکھیا کے سامنے بیٹھ گئے ۔
’’کوتوال ۔۔۔۔۔کوئی خاص بات ‘‘۔
مکھیا نے ایک سے پو چھا ۔
’’کچھ خاص نہیں جناب ،پورے علاقے میں سب لوگ خوش ہیں ،کسی کو کوئی پریشانی نہیں ہے ۔آنے والے ہفتے میں جن لڑکیوں کی شادیاں ہونے والی ہیں ان کے والدین نے کوئی بھی مدد لینے سے انکار کیا ہے،ان میں سے دو نے کچھ رقم ادھار مانگی جو ہم نے موقعے پر ہی انہیں دے دی ۔علاقے میں جو چند لوگ بیمار ہیں ان کی خبر گیری کے دوران پتہ چلا ہے کہ ایک دو، جن کی عمریں سو سال سے زیادہ ہیں ،کے بغیروہ سب دھیرے دھیرے صحت یاب ہو رہے ہیں ۔۔۔‘‘۔
   اس نے تفصیل سے مکھیا کو پورے علاقے کی جانکاری دی ۔ دیر شام تک پارک میں بیٹھا ارد گرد کے نظاروں سے محظوظ ہونے کے بعد ڈیوڈ نے کھانا کھایا اور بستر پر لیٹ کر دن بھر پیش آنے والے واقعات اور صبح سردار کے سامنے پیش ہونے کے بارے میں سوچنے لگا ۔اب اس کے دل و ذہن میں یہ بات گھر کرنے لگی کہ یہاں کا ماحول انتہائی صاف ستھرا اور آلود گی سے پاک ہے ،لوگ ترقی کی دوڑ میں ضرور بہت پیچھے ہیں لیکن سخت محنتی ،حرص و لالچ سے پاک ،محبت کرنے والے اور درد مند دل رکھنے والے ہیں اور یہاں کا انتظام و انصرام کافی بہتر ہے .
صبح اسے سردار کے دربار میں پیش کیا گیا تو گھبراہٹ ا س کے چہرے پرعیاں تھی ۔
’’سائنسدان ۔۔۔۔۔۔ کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی‘‘ ۔
دفعتاً سردار نے بڑے ہی پیار سے پوچھا ۔
’’نہیں حضور،بالکل نہیں ‘‘۔
’’مہمانوں کی عزت کرنا ہماری پرانی ریت ہے‘‘ ۔
کچھ توقف کے بعداس نے اپنی بات جاری رکھی ۔
’’ہمیں پورا یقین ہو گیا ہے کہ تم کسی بُرے ارادے سے نہیں بلکہ حادثاتی طور ہمارے علاقے میں پہنچ گئے ہو اور ہم تمہیں با عزت رہا کرتے ہیں اور تمہیں کشتی سمیت اپنی دنیا کو جانے والا صحیح راستہ بھی دکھایا جائے گا لیکن یہاں کے رواج کے مطابق تمہیں اختیار ہے کہ تم اپنی کوئی ایک خواہش بتائو جس سے پوری کرنے سے ہمیں خوشی ہوگی۔آپ جب تک چاہو ہمارے مہمان بن کے رہ سکتے ہو ۔تمہاری دنیا کے لئے یہ پیغام۔۔۔۔ کل صبح اپنی خواہش کے ساتھ ہمارے دربار میں حاضر ہو جانا‘‘ ۔
سردار نے ایک کاغذ اس کو دیتے ہوئے کہا۔اس نے کاغذ جیب میں رکھا اورفرط نشاط و امبساط میں جھومتے ہوئے اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر کھول کے دیکھ لیا ۔
’’ہمیں آپ لوگوں سے کوئی عداوت نہیں ہے ،ہم آپ کی ترقی سے بھی خوش ہیں لیکن ہم ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ تم لوگ اپنی لا محدود حرص اور لالچ کی وجہ سے ہمارے اس صاف و شفاف ’’نیلے جزیرے‘‘ کو آلود ہ ،فسادزدہ اور بے انصافی کے دلدل میں دھکیل کر ہمارے چین و سکون کو بھی تباہ و بر باد کردیں ، اس لئے ہمارے جزیرے کی طرف کبھی آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی حماقت نہیں کرنا‘‘ ۔
پیغام پڑھنے کے بعد ڈیوڈ،جو آزادی کا پروانہ ملنے پر بے انتہا خوش تھا ،سخت اُداس ہو کر سوچ و فکر کے اتھاہ سمندر میں کھو گیا،اپنی دنیا  سے اس دنیا کا مواز نہ کرتے ہوئے اس کے حساس دل میں کانٹے سے چبھنے لگے اور وہ اندر ہی اندر کسی کشمکش میں مبتلا ہو کر سخت بے چینی کے عالم میں دیر شام تک ٹہلتا رہا ۔آخر اس نے دل ہی دل میں ایک فیصلہ لے کر اپنی بے چینی پر قابو پالیا اور کھانا کھا کر اطمینان سے سوگیا۔صبح سردار کے دربار میں حاضرہوگیا توسردار نے اس کی خواہش جاننا چاہی ۔
’’ حضور ۔۔۔۔۔۔ میری اب ایک ہی خواہش ہے جو اگر پوری ہو جائے تو میری بھی زندگی سنور جائے گی ‘‘۔
’’اپنی خواہش بیان کرو ‘‘۔       
’’میری آخری خواہش یہی ہے کہ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آپ لو گوں کے ساتھ آپ کی اس خوب صورت دنیا’’ نیلے جزیرے ‘‘میں رہنا چاہتا ہوں ‘‘۔ 
 
���
 اجس بانڈی پور(ہ193502 )کشمیر
موبائل نمبر؛9906526432ای میل؛ tariqs709@gmail.com  

تازہ ترین