تازہ ترین

وادی کے بیشتر ہوٹل موسم سرما کیلئے صد فیصد بُک

ہوٹلوں کی اراضی کی لیز میں توسیع کرنے کا مالکان کا مطالبہ

تاریخ    27 نومبر 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// وادی کے ہوٹل سردیوں خاص طور پر کرسمس اور نئے سال کی آمد پر صد فیصدبھرے پڑے ہیں جو سفر اور مہمان نوازی  شعبے سے وابستہ متعلقین کے لیے خوشی کا باعث ہیں۔اس دوران ہوٹل مالکان  نے سیاحتی مقامات میں زمین پٹے کے معاہدے میں توسیع کا مطالبہ کیا۔ وادی میں موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی جہاں سیاحتی سیزن جوبن پر رہتا ہے وہی دسمبر  کے آخری ہفتے میں کرسمس اور نئے سال کی آمد کی وجہ سے شہرہ آفاق گلمرگ سمیت دیگر سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی غیر معمولی آمد سے چار چاند لگ جاتے ہیں۔ وادی میں گزشتہ3برسوں کے دوران سیاحتی صنعت کو کافی دھچکہ لگا ہے تاہم امسال سیلانیوں کی آمد کے گراف میں اضافے کی وجہ سے کچھ حد تک جہاں سیاحتی صنعت کی جان میں جان آگئی ہے وہیں اس شعبے سے وابستہ تاجر پر امید ہے کہ آئندہ سردیوں کا سیزن بھی سیلانیوں کی آمد سے شباب پر رہے گا۔ اس دوران ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ سیاحتی مقامات پر ان کے ہوٹلوں کیلئے جو اراضی پٹے پر دی گئی ہے،اس میں توسیع کی جانی چاہییے۔ ہوٹلرس کلب کے سربراہ مشتاق احمد چایہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جموں و کشمیر کے باہر حکومت کی کامیاب کوششوں کا نتیجہ نکل رہا ہے تاہم زمین کے پٹے کے معاہدوں میں توسیع نہ ہونے کی وجہ سے گلمرگ، پہلگام اور سری نگر کے ہوٹل مالکان کو کافی مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا’’’’ہم لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ ان اہم سیاحتی مقامات کے ہوٹل مالکان کو پٹے پر دی گئی اراضی میں توسیع کرے تاکہ وہ اس شعبے کے فروغ پر پوری توجہ دے سکیں۔چایہ نے کہا’’ہوٹل مالکان کی سرمایہ کاری نہ صرف یہاں کے  سیاحوںکو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے بلکہ اس سے مختلف دیگر اقتصادی شعبوں میں بھی مدد ملتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا  کہ کشمیر بالخصوص گلمرگ میں کرسمس، نئے سال اور سرما کے موسم کے لیے  سیاحوں کی بڑی بکنگ ہو رہی ہے جس سے سفری شعبے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔اس معاملے کے حوالے سے جموں و کشمیر ہوٹلیئرز کلب نے جمعہ کو یہاں ہوٹل سروور پورٹیکو میں ایک ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا اور حکومت پر زور دیا کہ وہ گلمرگ، پہلگام اور سری نگر میں ہوٹل والوں کے زمینی لیز کے معاہدے میں توسیع کرے ۔میٹنگ کے دوران ہوٹل  مالکان نے ہوٹلوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی کا مطالبہ کیا تاکہ اس رقم کو تجدید،سہولیات اور سیاحت کو فروغ دینے کی سرگرمیوں میں استعمال کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا’’سیاحت کی صنعت کو بھی صنعتی درجہ دیا گیا لیکن بجلی کے نرخ صنعتی شعبے کے مساوی وصول نہیں کیے گئے تاہم ہمیں امید ہے کہ حکومت صنعتی شعبے پر لاگو  فیس  میں کمی کرے گی‘‘۔ ہوٹلرس کلب کے جنرل سیکریٹری طارق رشید غنی نے ممبران کو بتایا کہ ٹوارزم سیکرٹری سیاحت سرمد حفیظ نے انہیں یقین دلایا ہے کہ ہوٹلوں کی رجسٹریشن کی تجدید ترجیحی بنیادوں پر مکمل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بڑے  ہوٹلوں کی صدفیصد بکنگ ان کی مسلسل فروغی مہمات کے نتیجے میں  حوصلہ افزا ہے۔ ٹرائول ایجنسٹس ایسو سی ایشن آف کشمیر کے سربراہ فاروق احمد کھٹو نے بھی ہوٹلرس کلب کی جانب سے اراضی پٹوں میں توسیع کی حمائت کی۔فاروق احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس سے ہوٹل مالکان بہتر سہولیات فراہم کرسکتے ہیں۔انہوں نے سیاحوں کی آمد پر اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دم توڑتی سیاحتی صنعت  پٹری پر آجائے گی۔ ان کا کہنا تھا  ’’ اگرچہ ہوٹلوں کی صد فیصد بکنگ خوش آئندہ ہے تاہم ہوٹل مالکان بھی مقامی ٹرائول ایجنٹوں کو ترجیج دیں‘‘۔ فاروق کھٹو نے کہا کہ محکمہ سیاحت نے بھی کافی  تندہی سے بیرون ریاست فروغی مہمات چلائی،اور ان کی محنت بھی رنگ لائی۔