غریبوں کے لئے مخصوص راشن کہاں جاتا ہے؟

فکروادراک

تاریخ    27 نومبر 2021 (00 : 01 AM)   


ظفر بخاری
 یہ امر بخوبی واضح ہے کہ خوراک انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ایک اہم ضرورت ہے کیونکہ بغیر خوراک کے انسان کا زندہ رہنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے۔ یہ بات بھی ہر شخص جانتا ہے کہ ہمارے ملک میں لاکھوں ایسے لوگ ہیں جنہیں دو وقت کی روٹی مشکل سے میسر ہوتی ہے اور بعض اوقات ان میں سےبیشتر لوگوں کو ایک وقت کی روٹی بھی مہیا نہیں ہوتی اور وہ ایک ایک نوالے کے لئے ترستے رہتے ہیں۔ انہی لوگوں کو مد نظر رکھتے ہوے حکومت نے بہت ساری اسکیمیں لاگو کی ہیں تاکہ ان غریب لوگوں کو کھانا میسر کیا جا سکے۔ انہی اسکیموں میں بی پی ایل بھی ایک زمرہ ہے، جس کے اندر فقط ان کوگوں کو رکھا گیا ہے جو نہایت غریب ہیں یعنی خط ِافلاس سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں۔  دوسری طرف اگر کویڈ۔19 جیسی عالمی وبا نے بھی تو عام لوگوں کا بالخصوص غریب طبقے کا روزگار پچھلے دو برسوںبُری طرح متاثر کردیا ہے۔ بے شمار لوگوں کے لئے جسم اور جان کا رشتہ برقرار رکھنے میںلا انتہائی مصائب و آلام کا مقابلہ کرنا پڑا ہے۔اس دوران لاچار اور بے سہارا لوگوں کو جس صورت ِحال نے گھیر لیا ہے اُس کا تذکرہ کرنے سے کلیجہ منہ کو آتاہے۔ اسی صورت حال کے پیش ِنظر حکومت نے غریب لوگوں میں مفت راشن تقسیم کرنے کا بھی اعلان کرکےراشن کی تقسیم کاری کا کام جاری رکھا ہے۔ مگر افسوس کہ ہندوستان کے ابھی بھی بہت سارے علاقہ جات ہیں جہاں پر غریب لوگوں کے لئے حکومت کی جانب سے دیا جانے والےبی پی ایل راشن کی حصولیابی نہایت پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔
 جموں وکشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کی تحصیل مینڈھر کا دور دراز گاوں پٹھانہ تیر بھی ایسا ہی علاقہ ہے ،جہاں پرحکومت کی طرف سے راشن تو پہنچتا ہے مگر غریب لوگوں کے گھروں تک نہیں پہنچ پاتا۔ گاؤں پٹھانہؔ تیر دس وارڈوں پر مشتمل پنچایت ہے، جہاں صرف ایک راشن ڈپو ہے اور اس علاقے کے عوام کو محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کی جانب سے دیا جانے والا راشن توتقسیم ہوتا ہے جس کی حصول یابی کیلئے عوام کو کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس راشن ڈپو کی ڈیلر ایک خاتون ہے۔ مقامی لوگوں کاکہناہے کہ وہ زیادہ تر ضلع راجوری میں رہایش پزیر رہتی ہیں اور مہینے میں صرف دو دن پٹھانہؔ تیر آتی ہیں اور ان دو دنوں میں کچھ مخصوص لوگوں میں راشن تقسیم کر کے واپس راجوری چلی جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے پٹھانہ تیر کے عام غریب لوگ راشن کے لئے ترستے رہ جاتے ہیں۔ صرف جموں کشمیر میں ہی نہیں بلکہ ملک کے بہت سے علاقوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکومت کی جانب سے مفت دیا جانے والا راشن ضرورت مند لوگوں کو نہیں مل پاتا ہےبلکہ اسے چند مخصوص افراد کو تقسیم کرنے کے بعدبلیک میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔
اس ضمن میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بائیو میٹرکس پر ہم سے انگوٹھے بھی لگوا لئے جاتے ہیں اور دستخط بھی کروا لیے جاتے ہیں مگر راشن کے لئے تاریخ دے دی جاتی ہے اور جب  اس تاریخ پر صارفین ڈپو پرپہنچتے ہیں ،تب تک ڈیلر صاحبہ راجوری پہنچ چکی ہوتی ہےاور صارفین سے کہا جاتا ہے کہ راشن ختم ہو چکا ہے،جب مستحق  لوگ سوال کرتے ہیں کہ اتنی جلدی راشن کیسے ختم ہو سکتا ہے تو جواب میں ڈیلر صاحبہ تحصیل سپلائی آفیسر مینڈھر پر یہ الزام عائد کرتی ہیں کہ وہ راشن بھیجتے ہی کم ہیں اور جو راشن بھیجا جاتا ہے اُن بوریوں میں بھی محض 35 کلو جنس ہوتی ہے۔ مقامی باشندے تصور حسین شاہ  کا کہناہے کہ مجھے پچھلے چار مہینوں سے راشن نہیں ملا۔ مزید کہا کہ مجھ سے بائیو میٹرکس پرانگوٹھہ بھی لگوا لیا جاتا رہا ،دستخط بھی کروا لئے گئےاور راشن ملنے کی تاریخ بھی دی جاتی رہی لیکن جب میں اس تاریخ پر راشن لینے جاتا تو پتہ چلتا کہ ڈیلر صاحبہ راجوری جا چکی ہیں۔اس معاملے پر بات کرتے ہوئے اسی پنچایت کے وارڈ نمبر دو کی پنچ قصطور بیگم نے بتایا کہ یہاں صرف دو دن راشن تقسیم کیا جاتا ہے اور وہ بھی دن میں ایک بجے سے چار بجے تک۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ڈپو کے باہر راشن لینے کیلئے لوگوں کی قطاریں لگی رہتی ہیں، جنہیں ہمیشہ یہ سننے کو ملتا ہے کہ مشین خراب ہے یا پھر راشن ختم ہونے کی بلند آواز کانوں میں پڑجاتی ہے۔ایک اور مقامی باشندے مظفر حسین شاہ نے بتایا کہ جب میں راشن لینے پہنچا تو جواب ملا کہ راشن ختم ہو گیا ہے۔ جبکہ راشن لینے کے لئے میرے دستخط بھی لئے گئےتھے۔اس کے بعد یہ کہا کہ راشن ختم ہوگیاہےکیونکہ ٹی ایس او صاحب راشن کم دیتے ہیں۔ اس ضمن میں اکثر مقامی باشندوں کا الزام لگارہے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہر بار ایسا کیوں ہورہا ہے اور ہمیں راشن سے جوکہ ہمارا حق ہے،سے کیوں محروم رکھا جارہا ہے؟ جبکہ چور دروازے سے ہمارے لئے مخصوص راشن دوگنے داموں پر لوگوں کو بیچ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ہم نے پہلے بھی کئی بار اس معاملے کو لے کر آواز اٹھائی مگر کسی نے بھی ہماری پکار نہ سنی۔اس معاملے پہ جب پٹھانہ تیر کے متعلقہ سرپنچ سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ میں نے بارہا اس معاملے کو سدھارنے کی کوشش کی مگر اب یہ معاملہ میرے پہنچ سے دور ہوا ہے۔
جب اس سلسلے میں ضلع ترقیاتی کونسل ممبر مینڈھر (سی) اور نائب چیئرمین ڈی ڈی سی پونچھ اشفاق احمد سے بات کی گئی تو انہوں نے کہاکہ پٹھانہ تیر میں راشن سپلائی کرنے والی ڈیلر کے خلاف اس سے قبل بھی کئی شکایات موصول ہو چکی ہیں کہ وہ عام صارفین کو پریشان کررہی ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ مذکورہ ڈیلر کے لائسنس منسوخ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے ۔ اس سلسلے میں جب تحصیل سپلائی آفیسر مینڈھر بھارت بھوشن سے بات کی گئی تو انہوں نے کمی کی بات سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ راشن کم بھیجنے کی بات محض ایک سفید جھوٹ ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ ہم ہر ماہ کا پورا راشن بھیجتے ہیں۔
بہرحال مقامی عوام کی یہ مانگ بالکل جائز ہے کہ ا نتظامیہ کو مذکورہ ڈپو پر تشریف لاکر حالات کی زمینی جانکاری اور عرصہ دراز سے پیدا ہوئی صورت حالت کا جائزہ لینا چاہئے۔ اور بے کس و بے بس عوام کو سرکاری کی جانب سے دیا جانے والا راشن بہم پہنچانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئے کیونکہ مقامی عوام اپنے حق سے محروم ہو رہی ہے اور ان کےلئے راشن کے مخصوص کوٹے کو چور دروازوں سے دوگنے اور تگنے داموںپر فروخت کر دیا جاتا ہے۔اگر مقامی عوام کی بات سچ ہے تو انتظامیہ کو یہ پتہ لگانے کی ضرورت ہے کہ آخر غریبوں کو ملنے سے پہلے ہی راشن کیسے ختم ہو جاتی ہے؟ادھر شہر سرینگر کے پائین علاقوں میں بھی کئی سرکاری راشن ڈیپوؤںکی یہی صورت حال ہے ،جہاں منصوبہ بند طریقے سے سرکاری راشن کو بلیک میں فروخت کیا جاتا ہے ۔جس میں ڈیپو ہولڈر اور حمال مشترکہ طور پر شامل ہیں۔
(پٹھانہ تیر،مینڈھر۔پونچھ)
 

تازہ ترین