تاجر اور ٹرانسپورٹر اقتصادی بحران کا شکار

ٹیکسوں میں چھوٹ، بجلی کی معقول سپلائی اور اقتصادی پیکیج کا مطالبہ

تاریخ    26 نومبر 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// انتظامیہ ،تاجروںا ور ٹرانسپورٹروں کے درمیان نئے بجٹ سے قبل میٹنگ کے دوران ٹیکسوں کی ادائیگی میں چھوٹ، بجلی کی معقول سپلائی،چھوٹے تاجروں کے بنک قرضہ جات کی ادائیگی کی مدت میں توسیع و رعایت، اضافی میونسپل ٹیکسوں کی واپسی اور ٹرانسپورٹروں کیلئے خصوصی اقتصادی پیکیج کا مطالبہ کیا گیا۔ سرکار کی جانب سے آئند مالی سال کیلئے بجٹ کی تیاری کے بیچ جمعرات کو انتظامیہ اور متعلقین کے درمیان میٹنگ منعقد ہوئی،جس کے دوران تاجروں اور ٹرانسپورٹروں نے سرکار کو اپنی تجاویز پیش کیں۔ وادی سے تعلق رکھنے والی انجمنوں کے نمائندوں نے ویڈیو کانفرنس کے زریعے فائنانس کمشنر اتل ڈھلو کی سربراہی والی میٹنگ میں شمولیت کی۔ پی ایچ ڈی چیمبر کی ٹیکسوں،بنکنگ معاملات اور جنرل ٹریڈ کی ریاستی کمیٹی کے سربراہ جان محمد کول نے میٹنگ میں شمولیت کی،جس دوران انہوں نے میونسپل ٹیکسوں میں اچانک اضافہ ہوا،جو اقتصادی طور پر بحران کا شکارتاجروں پر مزید بوجھ ہے۔ کول نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ میٹنگ کے دوران انہوں نے کہا’’ میونسپل کارپوریشن نے ٹیکسوں میں300فیصد اضافہ کیاجو تاجروں و دکانداروں کے ساتھ نا انصافی ہے،کیونکہ گزشتہ برسوں میں معاشی صورتحال بہت خراب رہی اور وہ اضافی ٹیکسوں کی ادائیگی کے متحمل نہیں ہوسکتے‘‘۔ جان محمد کول نے بنکوںکے قرضہ جات کی ادائیگی میں تاجروں کو رعایت فراہم کرنے اور مدت ادائیگی میں بھی توسیع کا مطالبہ کیا۔انہوں نے تاجروں کو با ضابطہ طور پر جی ایس ٹی سے متعلق معلومات فراہم کرنے کیلئے تربیت کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بنک اہلکار تاجروں کو ستا رہے ہیں اور ان کی تذلیل کر تے ہیںجبکہ تاجر اگرچہ اس ٹیکس کی ادائیگی سے منکر نہیں ہیں تاہم سرکار انہیں رعایت فراہم کرے۔کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچررس فیڈریشن (بی) کے صدر محمد صادق بقال نے کہا کہ 5اگست کے بعد پیدا شدہ صورتحال اور کووڈ کی وجہ سے تاجروں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بقال نے سرکار سے تاجروں کو آسان قسطوں پر قرض دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کرائیوں میں اضافہ ہوااور سرکار تاجروں کو ٹرانسپورٹ میں سبسڈی فراہم کرے۔بقال نے بجلی کی عدم دستیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تاجروں کو بجلی کی کٹوتی سے کافی خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے تجویز پیش کرتے ہوئے کہا’’ وادی پانی کی دولت سے مالا مال ہے اور انتظامیہ منی بجلی پروجیکٹ تعمیر کرنے میں اپنی قوت صرف کرے تاکہ تاجروں اور شہریوں کو اس کا فائدہ حاصل ہو‘‘۔ میٹنگ میں ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے صدر شبیر احمد مٹھ اور جنرل سیکریٹری شیخ محمد یوسف نے شرکت کی۔ شیخ محمد یوسف نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انہوں نے ٹرانسپوٹروں کو خصوصی پیکیج دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوںنے کہا’’ اگست2019سے دسمبر2021تک مسافر بردارٹرانسپورٹ کو ٹوکن و مسافر ٹیکس معاف کئے جائیںجبکہ مسافر بردار ٹرانسپورٹ کو لاک ڈائون اور نا مساعد صورتحال کی وجہ سے جو خسارہ ہوا،اس کا معاضہ فراہم کیا جائے‘‘۔ انہوں نے مسافر بردار گاڑیوں میں5لاکھ روپے تک کے قرضوں کو معاف کرنے اور ان گاڑیوں کے ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کی مالی معاونت کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ آل ٹریڈرس اینڈ ٹرانسپوٹرس کارڈی نیشن کمیٹی کے سربراہ پیر امتیاز حسین نے شہر میں پارکنگ کا معاملہ اٹھایاجبکہ بٹہ مالو بس اسٹینڈ کی منتقلی کو کاروبار کیلئے نقصان دہ قرار دیا۔ انہوں نے بجلی کی عدم دستیابی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ کارخانہ داروں،تاجروں اور دکانداروں کو بجلی کی کٹوتی سے کافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے تاجروں کے بنک قرضوں میں نرمی لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے سود کی چھوٹ کی درخواست کی۔
 

تازہ ترین