تازہ ترین

۔26؍ نومبر ’’یومِ آئین ‘‘

کثرت میں وحدت‘ ہمارے دستور کی اَساس!

تاریخ    26 نومبر 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد
26؍ نومبر آزاد ہندوستان کی تاریخ کا وہ یادگار دن ہے جب کہ اسی تاریخ کو 1949میں معمارانِ قوم نے ایک نئے دستور کو اپنایا تھا۔ ملک کی آزادی سے ایک سال پہلے ہی دستور ساز اسمبلی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ بہت جلد آزاد ہونے والے ملک کے لئے  ایک ایسا دستور مدوّن کرے جو اس ملک کے تمام طبقات کی آرزوؤں اور تمنّاؤں کی ترجمانی کرے۔ چناچہ دستو ر سازر اسمبلی (Constituent Assembly)نے ڈاکٹر بھیم راؤ امیڈکر کی قیادت میں ایک مسودہ ساز کمیٹی Drafting  Committee تشکیل دی۔ اس کمیٹی نے 2سال، 11 مہینے اور 18دن کی شبانہ روز مشقت کے بعد دستور کا مسودّہ تیار کیا ۔ دستور کے اس مسودے پر کافی مباحث ہوئے اور مختلف ترمیمات کے بعد دستور اسمبلی نے 26؍ نومبر 1949کو یہ دستور منظور کرلیا۔ اسی کی یاد میں ہر سال 26؍ نومبر کو ’’یوم دستور/یوم آ ئین /یوم قانون ‘‘کے طور پر منایا جا تا ہے۔ اس سال اس تاریخ کی اہمیت اس لئے بڑھ گئی ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے 75سال بھی پورے ہورہے ہیں۔ اس لئے آزادی کے امرت مہوتسوکے تحت 26؍ نومبر جمعہ کو ہندوستان کی پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں صدر جمہوریہ ہند رامناتھ کووند کی صدارت میں ’’یوم آ ئین ‘‘کی خصوصی تقریب منعقد کی جارہی ہے۔ ملک کے سارے شہریوں کو آن لائن طریقہ سے اس خصوصی تقریب سے جوڑا جارہا ہے۔اِ س دن صدر کے خطاب کے بعد پورے ملک کے شہری اپنے اپنے مقام سے دستور کا دیباچہ پڑھیں گے۔ انگریزی کے علاوہ ملک کی 22سرکاری زبانوں میں دستور کی تمہید پڑھنے کے انتظامات کئے جارہے ہیں تا کہ اہل ِ ملک کو دیباچہ پڑھنے میں کوئی دشواری نہ ہو۔سنٹرل ہال میں منعقد ہونے والی تقریب میں نائب صدر، وزیراعظم ، مرکزی وزراء اور ارکانِ پارلیمنٹ کے بشمول سب ہی اہم شخصیات بہ نفسِ نفیس موجود رہیں گی۔ اسی طرح سارے ملک میں عام عوام کے علاوہ تمام ریاستی حکومتوں کے ذ مہ داروں، یونیورسٹیوں ،کالجوں اور اسکولوں کے طلباء اور دیگر تنظیموں سے بھی درخواست کی جارہی ہے کہ یومِ دستور کے موقع پر وہ دستور کا دیباچہ پڑھنے کے تیار رہیں۔ ’’یوم آ ئین ‘‘منانا کوئی بُری بات نہیں ہے۔ ملک کی عوام کو اپنے ملک کے دستور سے واقف کرایا جا رہا ہے تو اس سے اچھی بات کیا ہو سکتی ہے۔ ہندوستان کا دستور واقعی دنیا کے دیگر ممالک کے بالمقابل اپنی ایک خاص انفرادیت رکھتا ہے۔ دستور سازوں نے اس سرزمین کی مخصوص خصو صیات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ایسا دستور مرتب کیا جو واقعی ہندوستان جیسے ہمہ مذہبی، ہمہ تہذیبی اور ہمہ لسانی ملک کے تمام شہریوں کو ہر لحاظ سے مطمئن کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ 26؍نومبر 1949کو جو دستور ،دستور ساز اسمبلی نے منظورکیا وہی دستور 26؍ جنوری 1950سے ملک میں نافذ العمل ہے۔ قومی رہنماؤں نے جو دستور قوم کے حوالے کیا ،اس کی بنیاد جمہوریت اور سیکولرازم پر ہے۔ ’’کثرت میں وحدت‘‘(Unity in Diversity)ہمارے دستور کی اساس ہے۔ مذہبی رواداری اور پُر امن بقائے باہم پر ہندوستانی سماج کی تشکیل عمل میں آ ئی ہے ۔ معمارانِ دستور اس حقیت سے بخوبی واقف تھے کہ یہاں صدیوں سے گنگا جمنی تہذیب پروان چڑھتی رہی ہے۔ روحانیت اور اخلاقیات اس کے خمیر میں ہے۔ اس لئے دستور سازوں نے ہندوستانی سماج میں مساوات، انصاف اور بھائی چارے کی فضاء کو قائم و دائم رکھنے کے لئے ایک ایسا دستور بنایا جو تمام شہریوں کی امنگوں کی تکمیل کرتا ہے۔       
دستورِ ہند کا دیباچہ، جس کی آج خواندگی سارے ملک میں کرائی جارہی ہے ، اس کی حیثیت دستور کی روح کے مانند ہے۔ دستور کے دیباچہ(Preamble) میں اس بات کا اعلان کیا گیا کہ ’’ہم بھارت کے عوام پوری متانت اور سنجیدگی سے اس بات کا عزم کرتے ہیں کہ ہندوستان کو ایک مقتدر، سوشلسٹ، سیکولر، عوامی جمہوریہ بنائیں گے اور اس کے شہریوں کے لئے :۔
1۔ انصاف:سماجی، معاشی اور سیاسی  ۔
2۔آزادی:  فکر  (سوچنے)  اظہار خیال، عقیدہ و عبادت۔
3۔مساواتـ:بہ اعتبار عہدہ و مواقع۔
4۔ اخوت : فرد کی عظمت اور قوم کے اتحاد و یکجہتی کو یقینی بنائیں گے۔ 
 ہماری دستور ساز اسمبلی میں آج بتاریخ 26؍ نومبر 1949دستورِ ہند کو وضع کرتے ہیں اور اپنے آپ پر لاگو کر تے ہیں ‘‘۔
    دستور ساز اسمبلی میں استعمال کردہ ہر لفظ اپنی ایک معنویت رکھتا ہے۔ دستورسازوں نے الفاظ کا انتخاب بڑی دوراندیشی سے کیا ہے۔ دستور کے دیباچہ کا آ غاز ’’ ہم بھارت کے عوام‘‘(We the people of India)سے ہوتا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہندوستان کی عوام ہی اصل مقتدرِ اعلیٰ ہیں۔ ملک میں جو بھی حکومت بنے گی وہ عوام کی مرضی سے بنے گی۔ اسی لئے شہریوں کو رائے دہی کا حق بِلا کسی امتیاز کے دیا گیا۔ وقفے وقفے سے ہونے والے انتخابات میں رائے دہندے اپنی مرضی سے اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے عوامی نمائندوں کو منتخب کر تے ہیں۔ جمہوریت اور سیکولرازم کو دستور میں بیان کرتے ہوئے اس کی اہمیت کو اُجاگر کیا گیا۔ ساتھ ہی ساتھ قانون کی حکمرانی کے تصور کو پیش کرکے اس بات کی ضمانت دی گئی کہ کسی شہری کے ساتھ زندگی کے کسی شعبہ میں نا انصافی نہیں کی جائے گی۔ عقیدہ اور فکر کی آزادی کے علاوہ اظہارِ خیال اور عبادت کے معاملات میں فرد کو مکمل آزادی دی گئی۔ دستور کی تمہید ہی سارے دستور کی تشریح کرتی ہے۔ اس لئے عام شہری کو دستور کی تمام دفعات کو پڑھنے اور اس کے مطابق حکومتوں سے اپنی ضرروتیں بیان کرنے کوئی واقعی حاجت نہیں ہوتی۔ ہندوستان کا دستور دنیا کا طویل ترین دستور ہے۔ دستور کی تدوین کے وقت یہ  395دفعات،22حصوںاور 8جدول پر مشتمل تھا۔ لیکن گزشتہ 70،72سال کے دوران ہمارے دستور میں ایک سو زائد مرتبہ ترمیمات ہوئیں اس وجہ سے ہندوستانی دستور میں اب 448دفعات، 25حصے اور 12جدول ہیں۔ اتنا طویل دستور عام شہریوں کے لئے پڑھنا اور سمجھنا ناممکنات میں سے ہے۔ اس لئے دستور کے دیباچہ کو اہمیت دیتے ہوئے اُسے ملک کے تمام شہریوں کے لئے قابلِ فہم بنایاگیا۔ دستور میں شہریوں کے بنیادی حقوق کے لئے ایک پورا باب مختص کیا گیا۔ دستور کے باب سوّم میں شہریوں کے بنیادی حقوق کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ وضاحت کردی گئی کہ یہ تمام حقوق بِلا لحاظِ مذہب، رنگ، ذات، جنس، علاقہ ، زبان و عمر تمام شہریوں کو یکساں طور پر حاصل ہیں۔ ان چھ بنیادی حقوق میں حقِ مساوات، حقِ آزادی، استحصال کے خلاف حق، مذ ہبی آزادی کا حق، تعلیمی و ثقافتی حقوق اور دستوری چارہ جوئی کا حق شامل ہے۔ یہ حقوق عام حالات میں نہ معطل کئے جاسکتے ہیں اور نہ حکومت ان کو سلب کر سکتی ہے ۔ تعلیمی اور ثقافتی حقوق دفعہ 29اور 30میں بیان کئے گئے۔ ان حقوق کا تعلق راست طورپر مذہبی اور لسانی اقلیتوں سے ہے۔ ان تمام حقوق کو دستور نے نہ صرف تسلیم کیا ہے بلکہ ان کی ضمانت دی ہے۔    
اقلیتوں کے حوالے سے اگر دستورِ ہند کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات بِلا کسی تردّد کے کہی جا سکتی ہے کہ دستور سازوں نے ملک کی اقلیتوں کے اعتماد کو بحال رکھنے اور ملک کے جمہوری نظام کو پائیدار بنائے رکھنے کے لئے اقلیتوں کی بہی خواہی کو دستوری حیثیت دینے میں اپنی فراخ دلی کا واضح ثبوت دیا۔ دستور کے مدوّن کرنے والے جانتے تھے کہ اکثریتی سماج میں اقلیتیں بے اطمینانی کا شکار ہو جائیں تو جمہوریت ہچکولے کھانے لگتی ہے۔ اسی لئے اقلیتوں کو خصوصی مراعات دیتے ہوئے انہیں زندگی کے مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے کا موقع دیا گیا۔ انہیں اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور اس کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کی پوری آزادی دی گئی۔ ان کی زبان، رسم الخط اور تہذیب و ثقافت کی حفاظت کو یقینی بنایا گیا۔ لیکن جیسے جیسے جمہوریت کا سفر طئے ہوتا گیا، ملک میں اقلیتوں کو دی جانے والی دستوری آزادی اور ان کے حقوق پر شب خون مارنے کے واقعات سامنے آ نے لگے۔ آج جب کہ حکمران ملک کے شہریوں کو دستور کی دہائی دیتے ہوئے اس کے دیباچہ کا ورد کرانا چاہتے ہیں ، انہیں پہلے خود اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ انہوں نے ملک کے دستور کا کتنا پاس و لحاظ رکھا۔ جس محنت اور مشقت کے ساتھ جو دستور ہمارے محبانِ وطن نے بناکر قوم کو دیا تھا کیا وہ دستور آج اپنی بے زبانی سے دنیا کو یہ پیغام نہیںدے رہا کہ ملک کے حکمرانوں نے ملک کے دستور کو محض ایک کھلونا بنا کر اسے اپنے مفادات کی تکمیل کا زینہ بنایا۔ ’’ یومِ دستور‘‘کا جشن منانے والے یہ بھول گئے کہ دستور کے بنانے والوں نے جن خوابوں کو لے کر اس دستور کی تدوین کی تھی ، وہ خواب آخر کب شرمندہ تعبیر ہوں گے۔ دستور، محض الفاظ کا خوبصورت پیرہن نہیں ہوتا کہ جس کو یوم ِ جمہوریہ یا یوم ِ آئین کے موقع پردہرادیا جائے۔ آج یومِ دستور کے دن کو یوم احتساب مانتے ہوئے ہمیں جائزہ لینا چاہئے کہ کیا واقعی ہم دستور کے تقا ضوں کو پورا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں؟ کیا ہماری حکومتیں اپنے شہریوں کے ساتھ انصاف اور مساوات کے پیمانوں کو پورا کررہی ہیں؟ ایک جمہوری اور سیکولر دستور کے ہوتے ہوئے ملک میں جارحانہ فرقہ پرستی کیوں بڑھتی جارہی ہے؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ملک کے خاص طبقوں کے ساتھ تعصب اور جانبداری برتی جا رہی ہے۔ ایسے ہی گوناگوں سوالات ہیں جو یوم آئین مناتے ہوئے شہریوں کے ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ اربابِ اقتدار نے کبھی ان چبھتے ہوئے سوالات کا کوئی جواب تلاش کیا ہے۔ ملک کے عظیم سپوتوں نے جن امیدوں کے ساتھ اس دستور کی تدوین کی تھی وہ ساری امیدیں سراب ثابت ہورہی ہیں۔ دستور کے نفاذ کے 72 سال بعد بھی ہم دستورِہند کے بنیادی اصولوں کی تکمیل کرنے سے قاصر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب دستورِ ہند کی گولڈن جوبلی منائی جارہی تھی اس موقع پر پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کے اُس وقت کے صدر جمہوریہ کے۔ آر نارائنن نے دوٹوک انداز میں کہا تھا کہ ’’آج ہم یہ دیکھیں کہ آیا دستور ناکام ہوا ہے یا ہم نے دستور کو ناکام کر دیا ہے‘‘۔ آنجہانی کے آرنارائنن نے جن اندیشوں کا اظہار دو عشرے قبل کر دیا تھا ، اُ سے آج ہندوستانی قوم کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔ دستور کی پامالی جس انداز میں اس وقت ہورہی ہے، اس سے ملک کی جمہوریت اور سیکولر کردار داؤ پر لگ گیا ہے۔ قانون کی حکمرانی محض ایک نعرہ بن کر رہ گئی ہے۔ دستوری اداروں پر حکومت کی گرفت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ کوئی ادارہ شفافیت اور غیر جانبداری کے ساتھ کام نہیں کر سکتا۔ اقلیتوں کے حقوق اور ان کی آزادیاں حکومت کے رحم و کرم پر ہوگئی ہیں۔شہریوں کی اظہارِ خیال کی آزادی ختم کردی گئی۔ دستور کی روح کو ختم کرکے نمائشی طور پر یومِ آئین کا جشن منانا سیاسی حربہ بن کر رہ گیا ہے ۔ اس سے جمہوریت اور سیکولرازم کو کوئی استحکام ملنے والا نہیں ہے۔
رابطہ۔9885210770
�����

تازہ ترین