تازہ ترین

کشمیر کوساتھ رکھنا ہے تودفعہ370 سودسمیت واپس کرنا ہوگا:محبوبہ مفتی

تاریخ    25 نومبر 2021 (00 : 01 AM)   


محمد تسکین
بانہال/جموں//پیپلزڈیموکریٹک پارٹی صدرمحبوبہ مفتی نے بدھ کوکہا کہ جموں کشمیرکے لوگ ’’اپنی شناخت اور وقار‘‘سودسمیت واپس چاہتے ہیں۔انہوں نے مرکز سے کہا کہ وہ دفعہ370کوبحال کرکے مسئلہ کشمیر کوحل کرے ،اگر وہ ’’کشمیر کورکھنا‘‘چاہتا ہے۔بانہا ل کے نیل گائوں میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کے لوگوں نے’’ مہاتما گاندھی کے بھارت کے ساتھ اپنی قسمت کو وابستہ کرنے کافیصلہ‘‘ کیاتھاجس نے ہمیں دفعہ 370 ، اپنا آئین اوراپناپرچم دیاتھااوروہ (ناتھو رام) گوڈسے کے بھارت کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ محبوبہ نے لوگوں سے متحد ہوکراُس کی آواز کومضبوط کرنے کوکہا تاکہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت جس کی آئین میں ضمانت دی گئی ہے،کوبحال اورلوگوں کے عزت ووقار کاتحفظ کیاجائے۔ انہوں نے کہا ،’’ہم مہاتماگاندھی کے بھارت کی واپسی چاہتے ہیں ،اپنی شناخت اور وقار جو ہمیں آئین ہند نے دیاتھا،کی واپسی چاہتے ہیں اورمجھے یقین ہے کہ انہیں یہ سود سمیت واپس دینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ تاریخ گوہ ہے کہ کسی طاقتور ملک نے لوگوں پر بندوق کے زورپر حکومت نہیں کی ہے۔آپ کشمیرکولاٹھی یابندوق (لوگوں کے سروں پر)رکھ کر ساتھ نہیں رکھ سکتے ۔۔۔عظیم طاقت امریکہ افغانستان کو طاقت کے بل بوتے پرزیر کرنے میں ناکام رہااوراُسے وہ ملک چھوڑنا پڑا۔بھاجپاکاذکر کئے بغیرسابق وزیراعلیٰ نے کہا،’’ہمارے کچھ لوگ جھنجلاجاتے ہیں جب میں جموں کشمیرمیں امن کیلئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی بات کرتی ہوں،وہ مجھے قوم دشمن قرار دیتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا،’’آج وہ طالبان اور چین کے ساتھ بھی بات چیت کررہے ہیں ،جنہوں نے لداخ میں ہماری زمین پرناجائزقبضہ کیا ہے اوراروناچل پردیش میں ایک گائوں بسایا ہے‘‘۔ تاہم محبوبہ کاکہناتھا کہ اگر لوگ متحد ہوں گے یہ کوئی بڑی بات نہیں کہ ہم اپنے مقصد (دفعہ370کی واپسی اورمسئلہ کشمیر کاحل)میں کامیاب نہیں ہوںگے۔محبوبہ مفتی نے کہا ،’’بھار ت کو برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے میں200برس لگے اور بھاجپا کو جموں کشمیرمیں غیرآئینی طوردفعہ370کوہٹانے میں70سال لگے۔ہمیں 70ماہ لگ سکتے ہیں،لیکن ہم بھارت کی حکومت کو نہ صرف دفعہ370کوبحال کرنے بلکہ مسئلہ کشمیر کوحل کرنے، جس کیلئے ہمارے نوجوانوں نے لاتعدادقربانیاں دی ہیں اورقبرستان آباد کئے،پرمجبور کریں گے۔ محبوبہ نے لوگوں سے حمایت طلب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی کے آگے نہیں جھکی ہیں ،لیکن میرے نہ جھکنے سے کیا ہوگا اگر مجھے آپ سب کی حمایت نہیں ہوگی۔محبوبہ نے تاہم بھاجپا کے ساتھ ہاتھ ملانے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب سابق ریاست جموں کشمیر میں ہمارے وقار،عزت اور دفعہ370کوزک نہ پہنچانے کیلئے کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ جب تک ہماری حکومت تھی وہ دفعہ370 کوہاتھ بھی نہیں لگاسکے۔ہم نے انہیں کنٹرول کیا۔ہم نے اپنے آپ کو قربان کیا تاکہ ہماری شناخت سلامت رہے‘‘۔محبوبہ نے بھاجپا پرلوگوں کو تقسیم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس میں پھوٹ ڈالنے کے بعد بھاجپا نے کانگریس کے دوحصے کئے ،ایک جو اس کی جیب میں ہے اور ایک جوباہر ہے۔
 

تازہ ترین