’’چپکے چپکے نفسِ خائن کا کہا کرتا رہا‘‘

تاریخ    14 نومبر 2021 (00 : 01 AM)   


جب خیالِ کُشت و خوں کو مَیں روا کرتا رہا
کارِ بد ہاتھوں سے اپنے مَیں سوا کرتا رہا
درسِ دہشت دے گئی مجھ کو مِری خردِ کمال
اور مَیں اس کی بدولت سب خطا کرتا رہا
بس کہ یہ چوگانِ ہستی تھا مِرے آگے سراب
مَیں کہ اپنے نفس کی نشو نما کرتا رہا
بھول بیٹھا میں کہ اکثر سلف کا طرزِ کہن
’’چپکے چپکے نفسِ خائن کا کہا کرتا رہا‘‘
چھا گیا اعصابِ جاں پر ناخدائی کا غرور
اور مَیں خود کو تصور بس خدا کرتا رہا
میں کہ غازی ہو گیا اک نامور آفاق میں
تابع اپنے ہی اجل کو مَیں سدا کرتا رہا
ایک دن جب بالمقابل تھے مرے منکر نکیر
مَیں کہ تھا لاچار و بے بس اور ندا کرتا رہا
 
عُشّاق ؔکِشتواڑی
صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ
موبائل نمبر؛ 9697524469
 
 
 

تازہ ترین