ہم ایک تھے

انشایہ

تاریخ    14 نومبر 2021 (00 : 01 AM)   


عقیل فاروق
میرے بس میں ہوتا تو میں دل کے دہکتے ہوئے انگاروں کو تمہارے سامنے رکھتا، سارے شکستہ خوردہ اور ٹوٹے ہوئے خوابوں سے تمہیں آشنا کرتا اور چیختا، چلاتا ہوا کہتا کہ میں تمہیں نہیں بھول پا رہا ہوں، بلکہ تمہیں بھولنا شاید میرے بس میں نہیں ہے، لیکن میں مجبور اور بےبس ہوں۔ حدود، وقت اور حالات کے شکنجوں نے اس قدر چکڑا ہوا ہے کہ آزاد ہونے کی سبھی تدبیریں پھیکی پڑ رہی ہیں۔
میرے ہونے کے احساس سے میں خود محروم ہوں، ایسا لگ رہا ہے میری زندگی نے موت کا لبادہ اُوڑھ لیا ہے،دن بدن میرا دم گھٹتا ہی جا رہا ہے، ہر ایک گزرتا ہوا لمحہ میرے لئے کسی روزِ محشر سے کم نہیں۔ میں اندر ہی اندر ٹوٹ رہا ہوں۔ بلکہ ٹوٹ کے بکھر چکا ہوں اور کئی ٹکڑوں میں بٹ چکا ہوں جن کو سمیٹنا ناممکن سا معلوم ہوتا ہے۔ تمہاری یاد کا خنجر بھی دن بہ دن میرے دل کو چیرتا ہوا چھلنی ہی کئے جا رہا ہے۔میرے ذہن میں متواتر افسردہ خیالات کی گردش جاری ہے،تمہارے ساتھ گزارا ہوا وقت گویا ایک خوب کی مانند لگ رہا ہے کہ آنکھ کھلی اور خواب بھی ٹوٹ گئے ، میں تم سے ملنا چاہتا ہوں، روبرو ہو کے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں، تمہارے عطا کردہ زخم تمہیں دکھا کر اس بات کا احساس دلانا چاہتا ہوں کہ ابھی کل کی ہی بات ہے کہ ہم ایک تھے۔
���
بنہ بازار شوپیان،موبائل نمبر:-7006542670
 

تازہ ترین