عجب درویش لڑکی تھی

کہانی

تاریخ    14 نومبر 2021 (00 : 01 AM)   


ناصر ضمیر
عجب درویش لڑکی تھی 
سارا شہر پریشاں تھا 
یہ کوئی افواہ نہیں،سچی خبر تھی جو آگ کی طرح پھیل گئی ۔
کچھ دن پہلے 
وہ ٹھٹھک گیا 
جب بھرے بازار میں اسکا بازو کسی نے تھام لیا اور اسکی انگلیوں میں جلتی سگریٹ سے کسی نے لمبا کش لیا ۔وہ کچھ سمجھ ہی نہیں پایا اس سے پہلے وہ کچھ کہتا  یہ دیکھ کر اسکی گگھی بندھ گئی کہ کش لگانے والا کوئی جانا  پہچانا شخص نہیں، ایک انجان بے حد حسین  لڑکی ہے ۔
نیلی آنکھوں والی  بے حد خوبصورت لڑکی۔۔۔۔۔۔ بلیک رنگ کی  ترچھی ٹوپی  پہنے، سنہرے بال جو اس کے شانوں پر بکھر کر غضب ڈھا رہےتھے ، بلیک کلر کا اوور کوٹ ، جس کے بٹن کھلے تھےجس وجہ سے اندر پہنی ہوئی بھورے رنگ کی سوئیٹر نظر آرہی تھی اور گلے میں چمکتی کچھ مالائیں بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جن کو غور سے دیکھنے پر پتا چلا کہ ان مالاؤں  میں ایک سبز رنگ کی تسبیح بھی ہے۔ بلیو جینز اور لیدر کے براوُن  جوتے جو  گھٹنوں  سے ذرا ہی نیچے تک تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ 
ایک ہاتھ کوٹ کی جیب میں  اور دوسرے ہاتھ  سے اسکا بازو پکڑے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے لمبے لمبے کش لے رہی تھی ۔اس نے دیکھا اسکے تیکھے تُرشے ہوئے ناک نقوش تھے۔بھلا کی کشش تھی اس میں, ناک میں ایک سلور لونگ ۔۔۔۔۔۔۔اور کانوں میں بلیک میٹل کے بڑے بڑے آویزے , پانچوں انگلیوں میں  پتھر اور نگینوں سےکڑی ہوئی انگوٹھیاں  تھیں۔ ناخن لمبے اور ان پر سرخ رنگ شاید مہندی تھی۔
 اس نے سگریٹ اور اسکے ہونٹوں پر ایک ساتھ نظر دوڑائی تو دیکھا ہونٹوں پر نہایت تیز میرون کلر کی لپسٹک چمک رہی تھی ۔
وہ یہ سب ابھی سمجھنے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ چند کش لگانے کے بعد وہ چل دی۔
نیلی بڑی بڑی آنکھوں والی دلکش لڑکی،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان آنکھوں میں سرمے کی لکیروں نے انہیں مزید جاذبیت بخشی تھی۔ جانے سے پہلے اس نے آنکھ بھی ماری ۔
 دونوں ہاتھ کوٹ کی جیبوں میں ٹھونس دیئے اور لہراتی  بل کھاتی ہوئی چل دی۔
نہ شکریہ ادا کیا اور نہ کوئی فقرا  بغیر پیچھے مڑے وہ سر جھکاے کچھ جھومتی ,کچھ لہراتی ہوئی چل دی، اور وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور وہ بھرے بازار میں اسے دور تلک دیکھتا رہا۔۔۔۔۔بس دیکھتا ہی رہا۔
یہ شاید گرجا گھر رہا ہوگا پر یقین کے ساتھ کچھ کہا نہیں جا سکتا، وہ پرانے کھنڈر کے اندر یہی من میں سوچ رہا تھا , دیواروں کو تک رہا تھا اور ساتھ ہی چھوٹی ڈائری پر کچھ نوٹ بھی کرتا جا رہا تھا کہ وہ۔۔ ایک دم سے گھبرا گیا کسی ان دیکھی طاقت نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا جب وہ کچھ سمجھنے کی حالت میں آیا تو اس نے محسوس کیا کہ اسکی سانسیں کسی کی گرم سانسوں سے الجھ رہی تھیں۔
"آ آ  آ۔۔۔پ " وہ بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ کے ملے جلے ردِعمل کا اظہار کر رہا تھا۔
"آپ  نے تو میری جان ہی نکال دی۔ 
پاگل ہیں کیا آپ " اب اس کے لہجے میں جھنجلاہٹ بھی تھی۔
 "کیا آپ کے پاس سگریٹ ہے ۔"
وہی انجان لڑکی معصومیت سے پوچھ رہی تھی۔اس کی مخمور آنکھوں میں اپنائیت کے رنگ جھلملارہے تھے۔
"یہ لیجئے:۔
اس نے سگریٹ کا پیکیٹ جیب سے کچھ غصےمیں اورکچھ جھنجلاتے ہوئے نکال کر اس کی طرف بڑھایا۔
لڑکی نے پیکٹ لیا, پھرتی سے ایک سگریٹ نکالی اور منہ میں رکھتے ہوئے اس کو دیکھنے لگی،جیسے ملتمس ہو اور کہہ رہی ہو کہ جناب اس سگریٹ کو جلا بھی دیجیے نا پلیز ۔
"ہوں۔" 
وہ اپنے ساتھ  بڑبڑایا۔ 
اس نے جلدی جیب سے لائیٹر نکال کر اس کی سگریٹ جلائی ۔
وہ دھواں اس کے منہ پر چھوڑتے ہوئے زور سے ہنس دی۔
اس کی ہنسی ساری کھنڈر نما عمارت میں  گونجنے لگی اور  ہنستے ہنستے  چل پڑی۔
وہ پھر اس کو دیکھتا ہی رہتا  پر  اس بار کسی انجانی قوت نے اس کے لبوں کو جنبش دی اور اس نے لب کھولے اور اسے آواز دی۔ 
"سنئے  ۔۔۔ارے سنئے ۔۔۔۔۔۔ ارے سنئے تو سہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہاں جارہی ہیں آپ  ؟"
یہ آواز ابھی کھنڈر میں گونج ہی رہی تھی کہ ایک اور آواز گونجی ۔
"درگاہ"
"درگاہ ۔"۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنے ساتھ بڑبڑایا۔
تھوڑی ہی دیر بعد 
وہ درگاہ کا پتہ معلوم کرکے پہنچ گیا ۔
قوال  امیر خسرو کی ٹھمری "چاپ تلک سب چھینی رے تو سے نینا ملا کے "
 گا رہے تھے ,اگربتی,عود ,لوبان کی خوشبوؤں سے سارا ماحول معطّر تھا ۔کسی پہنچے ہوے فقیر کا مزار تھا۔ زائرین کی تعداد قلیل تھی ،پر جتنے بھی تھے بڑے انہماک سے قوالی سن رہے تھے اورآنکھیں بند کئے اپنے خالق یا اپنے مرشد  کی تلاش میں سرگردانِ عمل تھے۔ پر اسکی نظریں صرف اس لڑکی کو ہی  ڈھونڈ رہیں تھیں کہ آخری صف میں ایک طرف  وہ   نظر آہی گئ ۔وہ بھی آنکھیں بند کئے ماتھے پر سبز رنگ کی پٹی باندھے ,ٹھمری کے بول سےبول ملا کر اطراف سے بے خبر محویت کے عالم میں جھوم رہی تھی۔۔ کہ اچانک اس نے آنکھیں کھولیں،جیسے کسی نے اسے پیچھا کرنے والے کی خبر دی ہو۔  ۔وہ اسے دیکھ کر مسکرائی اور اٹھ کر چل دی۔ وہ بھی اسکے پیچھے پیچھے لپکا اور اسے آواز دے کر روک لیا ۔
"کون ہیں آپ ؟"
"کہاں کی ہیں ؟"  
"نام کیا ہے آپ کا"
اس نے ایک ہی سانس میں پوچھ لیا۔  
وہ اسکے سوال سن کر مسکرائی اور کہنے لگی 
"کیوں پوچھ رہے ہیں ؟"
"بس یوں ہی "وہ اپنے اضطراب کو چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔
"جان کر کیا کریں گے؟"وہ اب بھی مسکرا رہی تھی  
"پھر بھی کچھ بتایئے تو سہی "اس نے اشتیاق ظاہر کیا ۔
کچھ تؤقف کے بعد 
"اچھا ایک کام کرتے ہیں" اس نےکچھ سوچ کر پھرلب کشائی کی ۔
"ایک دوسرے کا نام ذات دھرم جانے بغیر صرف انسان بن کر ایک دوسرے کو جاننے کی کوشش کریں ۔"
"کہیے منظور ہے "لڑکی کی آنکھوں میں پھر وہی چمک پیدا ہوئی۔
"جی ٹھیک ہے"
 وہ خوش ہوا ۔
"کیا کرتے ہیں آپ ؟" اب لڑکی نے دلچسپی سے پوچھا
 "آثارقدیمہ محکمے میں کام کرتا ہوں ۔کچھ دن پہلے یہاں آیا ہوں ۔"
وہ مسکرائی اور بولی 
"وہ تو پیٹ کی مجبوری ہے اصل میں کیا کرتے ہیں آپ؟"  
"کہانیاں لکھتا ہوں" 
"اور آپ ۔۔؟"
"آوارہ گردی ۔۔۔۔۔۔۔"
"لڑکی ہوکر ۔۔۔۔۔۔۔"
"کیوں کیا صرف لڑکے ہی۔۔۔۔۔۔۔خیر جانے دیں" اسکی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔
"اچھا آپ اصل میں کیا کرتی ہیں ؟"
"مصوّری کرتی ہوں ۔پینٹنگس بناتی ہوں ۔"
"اچھا ۔"
"یہ بغل میں کیا پوٹلی دبا کر رکھی ہے ؟"۔اس نے پھر پوچھا ۔
لڑکی نے پوٹلی پر نظر ڈالی اور ایک لمبی آہ بھر کر بولی۔
"جب پینٹگ بناتے بناتے تھک جاتی ہوں یا پھر آوارہ گردی کا من نہ ہو تو یہ کتابیں پڑھتی ہوں ۔"
"رومی, جامی, عطار ,حافظ کچھ بھی ۔۔۔۔"شانِ بے نیازی بدستور تھی۔
"او اچھا اچھا سمجھ گیا۔"
 "کیا آپ مجھے اپنی پینٹنگس دکھانے کی زحمت کریں گی؟۔ میں بھی بدلے میں آپ کو اپنی  کہانیاں سناؤں گا ۔یا اپنی کہانیوں کی کتاب دوں گا ۔"
"ٹھیک ہے "اس نے  سرخ دبے ہونٹوں سے اقرار کیا ۔
کچھ دنوں بعد
یخ بستہ شام کے دھندلکے سائے میں گرماگرم بحث جاری تھی 
’’کہانیاں بہتر ہیں یا پینٹنگس‘‘
’’فکشن بڑا ہے یا مصوّری بڑی‘‘
بات کرتے کرتے اچانک وہ اسکے قدموں میں گرا اور کہا 
"میرے ساتھ سیر کو چلیں گی آپ ؟"بچوں کا سا انداز تھا 
اس نے انکار کیا۔ 
"کیوں مجھ پر بھروسہ نہیں" 
"نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
وہ بات نہیں ہے  بس نہیں جانا چاہتی " اسکی آنکھوں میں ہلکی چمک آ کے غائب ہوگئی۔۔
 "ویسے بھی سیر سپاٹے میں رکھا ہی کیا ہے۔"اسکی آواز میں ٹھہراؤ تھا۔
"پھر بھی ایک بار" اس کا لہجہ دھیما مگر ملتجی تھا  
"اچھا آپ کو سیر پر ہی جانا ہے نا ۔۔۔۔ تو دیکھیں میری طرف۔۔۔۔  بس میری دو آنکھوں میں سے ایک کی طرف غور سے دیکھیں۔۔۔"
وہ کچھ متذبذب ہوا
اس کی بڑی بڑی نیلی آنکھوں میں کس آنکھ کو دیکھے اس نے دائیں آنکھ کی طرف نظر جمائی ہی تھی کہ ۔۔۔۔۔
وہ آنکھ کی پتلی میں سے ۔۔۔۔۔۔۔
گردش کرتی کائینات۔۔۔۔چاند سورج محو رقص۔۔۔۔۔ ستارے ۔۔۔۔۔۔۔کہکشاں ہی کہکشاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔لاکھوں کروڑوں بلیک ہولز ۔۔۔۔۔۔۔۔
 کبھی روشنی ہی روشنی کبھی کھا جانے والاگھنگھور اندھیرا ۔۔۔۔۔۔۔ پتا نہیں کیا کیا 
وہ زمین پر اوندھا پڑا تھا کچھ کچھ ہوش میں کچھ کچھ  بے ہوشی کی حالت  
"ہوگئی سیر آپ کی۔۔۔۔۔۔۔  "
اس نےعجیب سے لہجے میں پوچھا اور اُٹھ کر چلی گئی ۔
وہ بے حد گھبرایا ہوا تھا کچھ سمجھ ہی نہیں پایا کہ وہ جاگ رہا ہے یا خواب دیکھ رہا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔ بس اسے  اپنے جسم کی تھکاوٹ سے یوں محسوس ہورہا تھا کہ جیسے اس نے صدیوں  کی طویل مسافت طے کی ہو ۔
اگلے روز 
"میں واپس اپنےشہر جارہا ہوں۔ یہاں جو ضروری تحقیق کی ہے میں نے  اسکی اطلاع اپنے دفتر میں جمع کرانی ہے ۔  چند دنوں میں ہمارا محکمہ اپنے عملے سمیت پرانے کھنڈر پر کام شروع کرے گا ۔امید ہے واپسی پر ملاقات  ہوگی "۔
"کیا آپ کا نام جان سکتا ہوں؟۔"
اس نے  نفی میں سر ہلایا 
"آپ ہمارے درمیان ہوئی باتیں بھول گئی ہیں ۔۔۔۔۔"اس نے دکھ سے کہا۔
"پھر بھی آپ کی ایک تصویر کھینچ سکتا ہوں "۔وہ پھر سنبھل گیا
"جی نہیں ۔" لڑکی نے انکار کیا
وہ جواب سن کر مایوس ہوا 
 "اچھا اپنے ہاتھ کی بنائی ہوئی ایک پینٹنگ ہی دے دیجئے ۔"
وہ سوچ میں پڑ گئی اور اسے دیکھتی رہی ۔
وہ جب اپنےشہرکی طرف  روانہ ہوا تو اس کے ہاتھ میں ایک پیٹنگ ضرور تھی، جو شاید اس بات کی غماز تھی کہ وہ نیلی آنکھوں والی لڑکی اس سے پیار کرنے لگی تھی ۔
اس پینٹنگ میں دو پیار کرنے والوں کو ایک دوسرے کی قربت حاصل کرتے ہوے دکھایا گیا تھا اور جب اس نے پینٹنگ کے متعلق اس سے کچھ پوچھا تو اس نے اپنی مصوری اور اپنے فن پارے کی حمایت میں اتنا  بتایا ۔
"میں کبھی کبھی زندگی سے مایوس ضرور ہوجاتی ہوں پر ناامید کبھی نہیں۔اسی لیے آپ کو میری ہر پینٹنگ میں زندگی ملے گی ،امید ملے گی ،خوشی ملے گی ۔مگر
موت ناامیدی اور غم کبھی نہیں ۔"اسکی مخمور آنکھوں میں پھر وہی چمک تیرنے لگی۔ 
چند روز بعد واپسی پر 
"جی حضور لڑکی تو تھی جو گلیوں گلیوں آوارہ گردی کرتی, کھلے عام سڑکوں پر سیگریٹ پھونکتی رہتی, درگاہ پر شب بیداری کرتی , کتابوں کا مطالعہ کرتی، اور عجیب بہکی بہکی باتیں کرتی۔۔۔۔۔۔۔۔ پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پر حضور ۔۔۔۔۔وہ اچانک سے غائب ہوگئی ۔۔۔۔۔۔۔۔کہاں کی تھی کدھر سے آئی تھی اورکہاں چلی گئی  کسی کو کچھ پتا نہ چل سکا ۔" کچھ تؤقف کے بعد
"ہاں حضور کہتے ہیں کہ آخری دفعہ  اسے کہانیوں کی کوئی کتاب پڑھتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔۔۔۔۔ پھر ۔۔۔۔۔۔۔پھر ۔۔۔۔۔اچانک ۔۔۔۔۔"
"اسکے غائب ہونے کی خبر سارے شہر میں پھیل گئی ۔اب لوگوں نے طرح طرح کی باتیں بنانی شروع کردیں ہیں  ۔کچھ کا کہنا ہے وہ آسمان سے آئی تھی واپس آسمان پر چلی گئی۔ کچھ بولتے ہیں کہ وہ آدم ذات تھی ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔کوئی پری یا بھٹکتی ہوئی آتما تھی "۔
"خیر جانے دیں حضور "
"دیر بہت ہوگئی ہے میں رات کےکھانے کا انتظام کرتا ہوں ۔"
خدمتگار ساری  تفصیل بتا کر چلا گیا ۔
وہ مایوس ہوکر اُٹھا اور اپنے ٹوٹے ہوے دل کے ساتھ سامان میں رکھی چیزوں میں اس کے ہاتھ کی بنائی ہوئی پینٹنگ نکالی ۔جو اس کے پاس اسکی واحد نشانی بھی  تھی اور اسکے ساتھ اسکی دوستی کا پکا ثبوت بھی ۔پر دوسرے ہی لمحے وہ ۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔ چیخ مار کر گرپڑا یہ دیکھ کر کہ وہ پینٹنگ جو اس نے ہاتھوں میں اٹھائی ہے وہ بالکل خالی ہے ۔
 
���
جلال آباد سوپور کشمیر 
موبائل نمبر؛9419031183،7780889616
nasirzameer77@gmail.com 

تازہ ترین