خط کا اِنتظار ۔۔۔

تاریخ    14 نومبر 2021 (00 : 01 AM)   


پرویز یوسفؔ
’’آج پھر اُس کاخط آیا ہوگا‘‘زور زور سے چِلاتاہوا ایک نوجوان لڑکا اپنے گھر کی Door Bell(کے دروازے کی گھنٹی ) کی اور بھاگا۔ اُس نے نہایت جوش و مستی میں جو ںہی دروازہ کھولا تو سامنے ایک شخص کے ہاتھ میں بہت سارے اخبارات پا کر اُ سکا چہرہ اُتر سا گیا، جیسے اچانک اُس کی خوشیوں پر کسی نے پانی پھیر دیا ہو ۔وہ غمگین نگاہوں سے اس آدمی کی اور دیکھے جا رہا تھا اور پھر جیسے اُس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ۔اُس نے غمگین انداز میں اس آدمی سے پوچھا آپ ڈاکیہ ہیں نا؟لایئے میرا خط مجھے دیجیے۔ یہ کہہ کر وہ مذکورہ شخص کا بستہ ٹٹولنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔اس آدمی نے جھٹ پٹ اُس کے ہاتھ اپنے بستے سے چھڑاتے ہوئے کہا !’’ارے ارے بھائی صاحب کیا کر رہے ہیں آپ ؟میں کوئی ڈاکیہ نہیں بلکہ اخبار بیچنے والا ہوں‘‘۔تمہیں میرے ہاتھ میں اخبار دیکھ کر اندازہ نہیں ہوا کہ میںکون ہوں۔اتنے میں ان دونوں کی گرم گفتاری سن کر اس نوجوان لڑکے کی ما ں بھی گھر سے باہر نکلی اور اپنے بیٹے کو زبر دستی اندر لے جانے لگی ۔۔۔۔۔۔اس نے اپنے بیٹے کو کچھ سنبھالا اور پھر اخبار والے سے مخاطب ہو کر بولی !میں معذرت چاہتی ہوں بھائی صاحب اس نے آپ کو ڈاکیہ سمجھ کر کافی پریشان کیا، یہ کہہ کر وہ اپنے بیٹے کو اندر لے گئی اور دروازے پر کنڈی لگا چڑھاکر دروازہ مکمل طور سے بند کر لیا ۔اخبار فروش کے آنے کا یہ سلسلہ حسبِ دستور جاری رہا ۔وہ نوجوان لڑکا ہر روز اپنے گھر کے صحن میں بیٹھا ڈاکیہ کا منتظر رہتا اور جوں ہی اخبار فروش ان کے صحن میں داخل ہوجاتا وہ جھٹ پٹ اُسے ڈاکیہ سمجھ کر اپنا خط مانگا کرتا ۔ایک روز اخبار والے نے تنگ آکر اس نوجوان لڑکے کی ماں سے پوچھ ہی لیا !’’کیا بات ہے آنٹی ؟یہ نوجوان کس کے خطوط کے انتظار میں ہے ؟یہ ہر روز مجھے ڈاکیہ سمجھ کر کسی کے خط کا مطالبہ کرتا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔یہ سن کر اس نوجوان کی ماں نے اپنے بیٹے ندیم کا ہاتھ پکڑ کر اسے اندر لیااور اخبار فروش سے مخاطب ہو کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی گویا کئی سالوں سے یہ آنسوں بوجھ بن رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔’’پھر وہ اخبار والے سے یوں گویا ہوئی ’’یہ جوان لڑکا، جس کی آنکھیں آج سیاہ ہلکوں سے گِھری پڑی ہیں کبھی ان آنکھوں میں چمک تھی ،ایک جوش تھا لیکن آج یہ آنکھیں کسی کے خط کے انتظار میں مُرجھا گئی ہیں ۔۔۔۔۔۔میرا لاڑلا بیٹا ندیم ہے۔ اسے کچھ سال پہلے اتفاقاََاسماء نامی ایک لڑکی سے محبت ہوگئی تھی حالانکہ دونوں نے ایک دوسرے کو کبھی دیکھا بھی نہ تھا۔دونوں کے درمیان خط وکتابت کے ذریعے ہی بات ہوا کرتی تھی ۔اس اتفاقی ملاقات کا ذریعہ ایک ادبی ماہانامہ میں چھپنے والے وہ مقالے اور مضامین تھے جو دونوں اس ماہنامہ میں چھپوایا کرتے تھے۔ ندیم کو اس انجان لڑکے کی مقالات اور افسانے بہت پسند آتے اور وہ انہیں غور سے پڑھا کرتا ۔ایسے ہی انجان لڑکی بھی ندیم کے طبع شدہ افسانے اور مقالے پسند کرتی تھی ۔یہ اُن کی غائبانہ ملاقات کا ذریعہ بن گیا تھا ۔وہ دور کسی گاؤں میں رہا کرتی تھی اور ہر ہفتہ ایک خط ندیم کے نام ارسال کیا کرتی اور ندیم بھی جواباً خطوط بھیجا کرتا تھا۔ انہی کچھ خطوط تک ہی ان دونوں کی دنیا محدود تھی اور پھر ایک دن ایسا بھی آیا کہ یہ دونوں روبرو ملنے والے تھے ۔دونوں بہت خوش تھے کہ ایک خاصے وقفے کے بعد زندگی ایک نیا موڑ لینے والی تھی ۔اُس دن اسماء پہلی بار شہر آنے والی تھی ۔اُ س نے اس ے پہلے صرف خطوط کے ذریعے اس شہر کی تعریفیں سنی تھیں ۔صبح ہوتے ہی دونوں ایک دوسرے کو روبرو دیکھنے کے بڑے شوقین تھے ۔وہ شہر کی اور روانہ ہوگئی مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔اُس کی گاڑی شہر کی اور روانہ ہوئی مگر منزل تک نہ پہنچ سکی ۔راستے میں ہی اُ ن کی گاڑی ایک خطر ناک حادثہ کا شکار ہوگئی اور گاڑی میں موجود اکثر افراد کی موقع پر ہی موت واقع ہوئی ۔اُن افراد کی فہرست میں ایک نام اسماء کا بھی تھا ۔ندیم سارا دن ساری رات اُس کا انتظار کرتا رہا مگر انتظار انتظار ہی رہا ۔اسماء نہ شہر آسکی اور نہ ہی گھر جا سکی ۔اسماء ندیم کو ملنے کی بجائے دنیا کو ہی خیر باد کہہ گئی۔دل کے ارمان دل ہی میں رہ گئے ۔کچھ روز بعد ہم نے ایک تار وصول کیا جو شہر کے پولیس تھانہ سے بھیجا گیا تھا اُس میںیہ اطلاع دی گئی تھی کہ اسماء نامی ایک لڑکی جو کہ گاؤں سے شہر آرہی تھی۔۔۔۔ ایک حادثے کا شکار ہونے کی وجہ سے اس دنیا فانی سے کوچ کر گئی ۔اُس کے پاس شناخت کے اعتبار سے کچھ نہ ملا ‘سوائے کچھ خطوط کے جن میں آپ کا نام و پتہ تھا ۔یہ تار پڑھتے پڑھتے ندیم بیٹا ذرا بھر بھی نہ رویا کیوں کہ اُس کا ذہن کبھی اس بات کو قبول ہی نہ کر سکا کہ قرار واقعی اسماء مر گئی ہے ۔اُ س کے وہ آنسوں اُس کے دماغ کا روگ بن کر رہ گئے۔ دراصل کبھی کبھار کچھ چیزوں کا بھرم بھی ہمیں زندہ رکھنے کے لیے کافی ہوتا ہے ۔زندگی میں کچھ چیزیں اتنی انمول ہوتی ہیںکہ جب وہ زندگی سے کھو جاتی ہیں تو ہم اُن کا کھو جانا برداشت نہیں کر پاتے ہیں اور پھر ہم اُن کا بھرم بھرم ہی رہنے دیتے ہیں اور یہی شاید حساس ذہن ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔اُس دن سے آج تک ندیم کو ہر روز اسماء کے خط کا انتظار رہتا ہے اور یہی انتظار شاید اس کی بچی کھچی زندگی ہے ۔یہ درد بھری کہانی سناتے سناتے ندیم کی ماںکا سر کچھ چکرانے لگا اور وہ دیکھتے دیکھتے اخبار فروش کے سامنے زمین پر گر پڑی ۔اخبار فروش گھبرا کر اُسے آنٹی آنٹی پکارتے ہوئے کہتا گیا کیا ہوگا۔ اس دنیا کا جس نے نہ جانے کتنے کتنوں کو محبت کی آغوش میں لا کر ابدی نیند سلادیا ۔اندر سے آنٹی کی لڑکی دوڑتے دوڑتے آئی اور ماں کو ہوش میں لاکر اندر لے گئی ۔
���
محلہ قاضی حمام بارہمولہ ۔
موبائل نمبر؛9469447331
 

تازہ ترین