اجنبی حسینہ

کہانی

تاریخ    31 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


رحیم رہبر
ہوٹل آکاش 
کمرہ   نمبر110ایک سو دس
اُس رات میں یہاں ہی ٹھہرا تھا۔ رات کے بارہ بج چکے تھے۔ میںکہانی کے لئے فریم بنا رہا تھا۔ وہ ناک (Knock)کئے بغیر ہی میرے کمرےمیں گُھس آئی۔
وہ ایک حسینہ تھی۔ دراز قد، پتلی کمر، غزال جیسی آنکھیں، ہلال جیسے آبرو، اُس کے داہنے گال پر موتی جیسا تل چمک رہا تھا۔
وہ پچیس سال کی ہوگی۔ کمرےمیں داخل ہوتے ہی اُس نے اندر سے دروازے کی کُنڈی بند کردی اور زبردستی میرے ہاتھ سے قلم چھین لیا۔ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ مجھ سے لپٹ گئی۔ میں نے کافی مشقت کے بعد خود کو اُس سے چُھڑایا۔
’’کون ہو تم؟ یہ کیا احمقانہ حرکتیں کررہی ہو؟ تمہیں شرم نہیں آتی۔ تم کیسے اجازت کے بغیر میرے کمرے میں داخل ہوئی، How do you dare?میرے کمرے سے دفع ہوجائو۔۔۔ چلی جائو بے شرم لڑکی!‘‘
’’ اس بڑے شہر میں تمہیں کیا میں ہی نظر آیا۔ میں ایک پردیسی ہوں، ایک اُجڑے شہر کا باسی ہوں۔ خدارا جائو یہاں سے ورنہ۔۔۔!‘‘
’’ورنہ ۔۔۔ورنہ کیا؟‘‘ حسینہ نے غصے میں پوچھا۔
’’ورنہ میں ہوٹل کے منیجر کے پاس تمہاری شکایت درج کرونگا!‘‘
’’اوے! تُو۔۔تو کیا شکایت کریگا رے۔۔۔ حرام جادہ۔۔۔!‘‘
ہپ کہہ کر وہ ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی اور زخمی شیرنی کی طرح غرائی۔
’’حرام جادہ۔۔۔ نمک حرام۔۔۔ احسان فراموش۔۔۔ تُو۔۔۔تُو۔۔ کیا شکایت کریگا رے؟‘‘
’’تم ۔۔ تم کون ہو؟ میرے پاس کیوں آئی ہو؟ وہ بھی اس وقت جب اندھیری رات نے شہر کے چپے چپے پر اپنا خیمہ گاڑ دیا ہے!؟‘‘
’’تم ایک کہانی کار ہو۔‘‘ وہ اطمینان سے بولی۔
’’لڑکی! خدا سے ڈرو۔۔۔ اپنے دامن کو گناہوں سے داغدار مت بنائو۔۔‘‘ میں نے انہماک سے کہا۔
حسینہ غصے سے تھرتھرائی۔۔۔ وہ ہونٹ چبھانے لگی۔
’’کیوں۔۔۔ کیا ۔۔۔ کیا ہوا؟‘‘ میں نے تعجب سے پوچھا۔
’’کیا واعظ بن بیٹھے ہو۔۔۔ اوّے! بہت شُنا ۔۔۔ کاہے کو تم نے مجھ سے خواب بُننے کا ادھیکار چھین لیا؟ تم احسان فراموش ہو۔۔۔ تم محض ایک سوداگر ہو۔۔۔ جرور آئوں گی ہاں۔۔۔ جب تلک تم مجھے خواب بُننے کا ادھیکار واپس نہیں دوگے۔۔۔ میرا جُرم کیا ہے؟ میرا جینا تم نے حرام کیوں کیا؟ کہاں گئی تیری مردانگی۔ اپنے حقیر مفادات کی خاطر تم مجھے شراب خانوں، کلبوں اور درباروں میں نیلام کررہے ہو؟‘‘
’’لیکن اس میں میرا کیا قصور ہے؟‘‘ میں نے ندامت سے پوچھا۔
’’تم۔۔۔ ہاں! تم ایک تخلیق کار ہو۔۔۔ تمہارس پاس قلم ہے۔۔۔ تم قلم سے میری پاسبانی تو کر سکتے تھے پر تم نے کچھ نہیں سُنا،کچھ نہیں دیکھا جب اس شہر میں میری جوانی نیلام ہوئی اور میرا آخری کُرتا بھی چاک ہوا۔‘‘
میرے پاس اس کو جواب دینے کیلئے الفاظ نہیں تھے۔ میں نے کپکپاتے ہوئے پھر وہی سوال اُس سے پوچھا۔
’’تم کون ہو؟‘‘
’’میں تمہاری کہانی ہوں۔‘‘ اُس نے پُرنم آنکھوں سے جواب دیا۔
 
���
آزاد کالونی پیٹھ کا انہامہ، بڈگام
موبائل نمبر؛9906534724

تازہ ترین